پاکستان اور آبی وسائل کی قلت

30 مارچ 2018

عبدالمجید منہاس
پاکستان ایک ایسا خطہ دنیا میں ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مختلف موسم عطا کئے تو دوسری طرف معدنیات کی دولت سے بھی مالامال کیا اسی طرح وطن عزیز میں اگر ایک طرف پہاڑ ہیں تو دوسری طرف سرسبز لہلہاتے کھیت بھی۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا، اس وقت ابتدا میں اگرچہ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا مگر سب کے دل میں ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی کہ اس ملک کو دنیا کے عظیم ترین ملکوں کی صف میں کھڑا کرنا ہے، اسی لئے بابائے قوم نے بھی قوم کو ’’کام، کام اور کام‘‘ کی نصیحت کی تھی۔ اس خطہ کے رہنے والوں کو قدرت نے بے شمار سہولتوں سے نوازا۔ اس لئے کہ یہاں کے پانچ دریائوں سے ہماری زمینیں سیراب ہوتی تھیں اور کسان کی محنت سے علاقہ تیزی سے ترقی کررہا تھا، ساٹھ کی دہائی میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہوا اور یہ وہی دور ہے جب ایوب خان کی حکومت تھی اور ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر بھی ہوئی۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کی وجہ سے حالات اتنے دگرگوں نہ تھے جبکہ ان ڈیموں سے آبپاشی کے ساتھ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی بھی اتنی قلت نہ تھی، الیکٹرانک کی ترقی نے ابھی ملک کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا، زیادہ تر کام انسانی ہاتھوں کا ہی مرہون منت تھا آہستہ آہستہ آبادی میں اضافہ بھی ہونے لگا اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے ٹریکٹر اور کھاد کی ضرورت بڑھی پانی کے لئے ٹیوب ویل نصب ہونے لگے مگر ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہونے لگا اور ہم نے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے مزید کسی بڑے پراجیکٹ پر زبانی جمع خرچ تو کی عملی اقدامات سے قبل ہی مخالفت بھی ہونے لگی اور یوں ’’کالاباغ ڈیم‘‘ جیسا منصوبہ ایک خواب بن کر رہ گیا اور ملک کے دو صوبوں کے عوام کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ درست نہیں اور دوسری طرف انڈیا نے اپنے دریائوں کے ساتھ درجنوں ڈیموں کی تعمیر شروع کردی اور پھر جب ان میں پانی ذخیرہ کیا جانے لگا تو ہمارے دریا ستلج راوی جو سارا سال بہتے تھے خشک ہونے لگے اور ہم پھر بھی خواب غفلت میں پڑے رہے۔
انڈیا میں اب بھی دریائوں کے پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ وہ مزید ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے اور ہمارے دریائوں کی حالت قابل رحم ہے آج جن دریائوں میں پانی رواں دواں ہے وہ دریائے سندھ سے سمندر میں گر کر ضائع ہورہا ہے مگر ہم عملی اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس وقت ’’قلت آب‘‘ کے شکار ممالک میں ہمارا ملک نمایاں ہے اور ہم نے اب بھی ’’کالاباغ ڈیم‘‘ جیسے اہم مسئلہ کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا ہے۔
’’قلت آب‘‘ کے حوالے سے دردمند حلقوں سے گاہے بگاہے صدا بلند ہوتی رہتی ہے کیونکہ ملک بھر میں آبی قلت کا خطرہ ہر آنے والے دن میں بڑھتا ہی چلا جارہا ہے گزشتہ دنوں مشترکہ مفادات کونسل نے بھی قومی آبی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے صوبائی تجاویز شامل کرنے کے بعد مجوزہ پالیسی حتمی منظوری کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی زیرصدارت کونسل کے 36 ویں اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیراعلیٰ کے پی کے ، وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ پنجاب کی نمائندگی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا نے کی تھی اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے اجلاس کو قومی آبی پالیسی کے مشورے بارے تفصیل سے آگاہ کیا اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان تیزی کے ساتھ پانی کی کمیابی کا حامل ملک بنتا جارہا ہے‘ پائیدار ترقیاتی اہداف کا تقاضا ہے کہ مربوط آبی وسیلہ انتظام اختیار کیا جائے آبادی میں اضافے اور معیشت کے مختلف شعبوں کے لئے پانی کی طلب کی بنا پر ذخیرہ کی گنجائش بڑھانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس وقت پاکستان کو ایسے اقدامات کی فوری ضرورت ہے جس سے پانی کے مسئلہ کا حل ہو اور اس حوالے سے انڈیا کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں کے پانی کو مقررہ طے شدہ معاہدے سے زیادہ ذخیرہ نہ کرے کیونکہ پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں کے پانی کو دانستہ ڈیم بنا کر روکنے سے انڈیا کی بدنیتی کا بھی عمل دخل ہے اور ہمیں فوری طور پر بڑے ڈیم بنا کر اس صورت حال سے نبٹنا ہوگا۔