صاف پانی سے شہری مستفید ہو رہے ہیں؟

30 مارچ 2018

سرفراز ڈوگر
پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جوں جوں وقت گزررہا ہے پانی کا مسئلہ سر اُٹھا رہا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب حکومت نے 2015ء میں پینے کے صاف پانی کے معیار کو بہتر بنانے اور صوبہ بھر کے 110 ملین شہریوں کو صاف اور محفوظ پانی تک رسائی دینے کے لئے صاف پانی روڈ میپ کا آغاز کیاتھا جو اب بھی جاری وساری ہے ۔ جس کے تحت دیہی بالخصوص جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے۔ جن میں بہاولپور میں 116 واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر بھی شامل ہے جن سے اب تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ مزید برآں موجودہ حکومت نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مدد سے 2017ء کی شروعات تک 274 سے زائد پہلے سے خراب فراہمی آب برائے دیہی علاقہ جات کی غیر فعال سکیموں کو بحال کیا جس پر 730 ملین روپے لاگت اور جس سے 1.3 ملین افراد فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ صاف پانی روڈ میپ کے تحت 2017ء تک ضلع اوکاڑہ کے تمام فلٹریشن پلانٹس کو لوکل گورنمنٹ کی جانب سے اپ گریڈ کیا گیا جس سے اب 0.25 ملین شہری مستفید ہو رہے ہیں۔روڈ میپ میں صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔ 124 پلانٹس کو قابل استعمال بنا کر واسا لاہور کے حوالے کر دیا گیاہے اور اب یہ واٹر پلانٹ لاہور سمیت اوکاڑہ، قصور اور بہاولپورکو صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔واسا لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد میں 682 نئے ٹیوب ویلز کی تنصیب عمل میں لائی جا چکی ہے۔ اسی طرح لاہور میں 294 مکمل طور پر فنکشنل آرسینک فری فلٹر پلانٹس نصب کئے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سٹاک ٹیک میٹنگ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر ہر تین ماہ بعد منعقد کی جاتی ہے جس میں صحت، تعلیم، پانی اور صفائی کے شعبوں کے طے شدہ اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور جہاں شفاف، ایماندار اور تعمیری انداز میں ترقی اور مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اس کے بعد اہم فیصلے حکومت، تجربہ کار ماہرین اور سٹاک ٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کئے جاتے ہیں۔جبکہ صاف دیہات پروگرام کے تحت یونیسف کے تعاون سے قصور، اوکاڑہ اور بہاولپور میں شروع کیا گیا جس کی کامیابی نے وزیراعلی پنجاب اور پنجاب حکومت کو 2017ء میں خادم پنجاب صاف دیہات پروگرام آغاز کرنے کا عزم دیا۔2017ء میں صاف پنجاب پروگرام کا آغاز ہوا، اس کو پورا کرنے کے لئے ہر یو سی کو ایک لاکھ روپے دیئے گئے اور ان کی کارکردگی کو بروقت مونیٹر کیا گیا اور جیوٹیگینگ کے ذریعے اس کی چار لاکھ تصاویر لی گئی اس کام سے پہلے کی اور بعد جو اس پروگرام کے ہونے کا ثبوت ہے۔ اسی طرح صاف پنجاب روڈ میپ میں بھی بہت سی کامیابیاں موجود ہیں۔لاہور سمیت ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور بہاولپور کے شہری علاقوں تمام سات ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز کے آپریشنز کی جامع اور بہتر منصوبہ بندی کرنے اور صاف پنجاب کے حوالے سے بہتر اور مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے انہیں نجی بین الاقوامی کمپنیوں کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ دو ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز بشمول راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تمام امورکی پیشہ ورانہ ادائیگی اور آپریشنز کو منظم انداز میں مکمل کرنے کے لئے انہیں ترکی اور البیراک اور اوزپاک جیسے نجی بین الاقوامی کمپنیوں کو آئوٹ سورس کیا گیا۔ اسی طرح باقی پانچ کمپنیوں کی آئوٹ سورسنگ کا کام بھی جاری ہے۔ سٹاک ٹیک کے دوران صاف پنجاب روڈ میپ کی دیگر کامیابیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سات شہروں میں مانیٹرنگ کا سسٹم موجود ہے اور پی آئی ٹی بی کی جانب سے تیار کردہ ڈیش بورڈ پر ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔ شہروں میں مختلف سہولیات کا دورہ کیا جاتا ہے اور ایک صفائی سکور مقرر کیا جاتا ہے جو 1 اور 5 کے درمیان ہوتا ہے جن میں سپروائزر کی حاضری، کارکنوں کی حاضری، گاڑی کی سرگرمی اورٹیگ کنٹینرز اورگاڑیوں کے ذریعے جمع شدہ فضلے کی تعداد شامل ہے۔معروف تعلیمی ماہر سر مائیکل باربرکے مطابق پنجاب دنیا میں ایک نمایاں مثال ہے جہاں ٹیکنالوجی اور ڈلورولوجی کی مدد سے خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔