پارلیمان میں اندرونی فیصلہ سازی کے عمل اور نظام کو موثر بنانا ضروری ہے،امجد پرویز

30 مارچ 2018

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)سیکرٹری سینیٹ امجد پرویز ملک نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے دنیا بھر کی پارلیمانوں میں اندرونی فیصلہ سازی کے عمل اور نظام کو موثر اور سازگار بنانا ضروری ہے، پارلیمان میں اٹھائے جانے والے اصلاحاتی اقدامات کو تعداد کے لحاظ سے نہیں بلکہ معیار اور جدیدیت کے پیمانے میں دیکھا جانا چاہیے۔ایوان بالاء میں اندرونی نظام کو مزیدمضبوط کرنا،ضابطہ کار کے قوانین میں ترامیم  اور اندرونی وسائل پرانحصار ایک معنی خیز تبدیلی ہے۔وہ جمعرات کو بین الاقوامی پارلیمانی یونین (آئی پی یو )کے ماہرین کی ایک خصوصی نشست کو بریفنگ دے رہے تھے۔جنیوا میں(آئی پی یو)ہیڈکوارٹر میں ہونیوالے اس گول میز اجلاس میں پارلیمانوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات پر غور اور تبادلہ خیال کیا جارہا ہے کہ پارلیمان کس طرح ترقی میں بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ’’موثر پارلیمان اور ترقی میں پیش رفت‘‘ کے موضوع پر سیکرٹری سینیٹ نے سینیٹ آف پاکستان کو تبدیلی کیلئے ایک خصوصی کیس سٹڈی کے طور پر پیش کیا اور شرکا ء کو بتایا کہ کس طرح سینیٹ آف پاکستان نے اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ایک ترقی پسند اصلاحاتی نظام متعارف کرایا۔ امجد پرویز ملک نے سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے تیار کردہ 2013 کے سٹرٹیجک منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا جو کہ اپنی ترقی اور فیصلہ سازی کوکنڑول کرنے کی جانب پہلا قدم تھا۔