اوچشریف کامیلہ

30 مارچ 2018

تحریر: سید فہیم کاظمی الچشتی

چہار یار:۔ سید جلال الدین بخاریؒ جنہیں سید جلال سرخ بخاریؒ کا لقب حاصل ہے حضرت شیخ بہاوالدین زکریا ؒ ملتانی کے مرید اور یار تھے۔ یہ بزرگ آپس میں چہار یار کہلاتے تھے۔
۱۔ شیخ بہاوالدین زکریا ؒ ملتانی
۲۔ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ
۳۔ سید عثمان مروند ی ؒ لعل شہباز قلندر
۴۔ سید جلال سرخ بخاری ؒ
ہر سال ۲۲چیت کو یہ چاروں بزرگ اوچ میں اکٹھے ہوکر تبلیغی اجتماع کا اہتمام کرتے تھے جو اب بگڑ کر میلہ بن چکا ہے
سر زمین بخارا میں حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاری ؒ۵ ذوالحجہ بعد نماز جمعہ ۵۹۵ھ حضرت سید علی ابوالموئید بن سیدجعفرؒ کے معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ مادر زاد ولی تھے ابتدائی تعلیم و تربیت آپ نے اپنے والد ماجد کی زیر نگرانی پائی۔ ملتان کے خواجہ حضرت بہاو الدین زکریا ؒ جو بخارا ہی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے آپ کی ملاقات وہاں حضرت سید علی بن جعفر سے ہوئی۔ سید علی نے اس نوجوان طالب علم میں آثارِ ولایت دیکھ کر ان کے گرویدہ ہو گئے اور انہیں اپنے ہاں رہائش کی دعوت دی۔ خانوادہ سہروردیہ کے یہ چشم و چراغ مخدوم ذکریا ملتانیؒ اس بات پر بخوشی راضی ہو گئے اور یوں جب مخدوم ذکریا ملتانیؒ تعلیم حاصل کر کے واپس ملتان آئے تو اس وقت یہ دونوں عالی نسب خاندان کے چشم و چراغ ایک جان دو قالب ہو چکے تھے۔ سید علی ہر وقت مخدوم ذکریا کی تعریف میں رطِب اللسان رہتے تھے اور سید علی کے نوجوان صاحبزادے سید جلالؒ بھی اس بزرگ کی عظمت اور معرفت کے قائل تھے اور آگے چل کر یہ تعلقات پیر و مرشد کے رشتہ میں منسلک ہو گئے۔
حضرت سید جلال سرخ بخاری کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ بطریق ذیل جا ملتا ہے۔ سید جلال الدین بن سید ابوالموئیدبن سید جعفر بن سید محمد بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبداللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن سید امام علی نقی بن سید امام محمد نقی بن سید امام علی رضا بن سید امام موسیٰ کاظم بن سید امام جعفر صادق بن سید امام محمد باقر بن سید امام علی زین العابدین بن سید حضرت امام حسین علیہ السلام بن سید حضرت علی کرم اللہ وجہہ (خط پاک اوچ۔ صفحہ نمبر ۲۱۱ شہاب دہلوی)۔ انساب جلالی کے مطابق آپ کی والدہ ماجدہ بخارا کے ایک باد شاہ سلطان محمد خدا بندہ کی بیٹی تھیں۔ سلطان خدا بندہ چنگیز خان کی اولاد میں سے تھا اس کی تین بیٹاںتھیں۔ اس نے عہد کیا تھا کہ اپنی تمام بیٹیوں کو سادات گھرانے میں ہی بیاھے گا۔ چنانچہ اس نے ایک لڑکی سادات کرمانی کے خاندان میں دی دوسری سید جلال الدین تبریزی ؒ کے عقد میں اور تیسری لڑکی عرب کے کسی خانوادہ سادات کے لیے مخصوص کر رکھی تھی۔ اس زمانہ میں حضرت جلال سرخ کے والد ماجد حضر سیدعلی ابوالموئید ؒمدینہ منورہ میں تھے۔ وہ سادات کے ایک قافلہ کے ہمراہ جب بخارا تشریف لائے تو سلطان محمد خدا بندہ نے اس سادات قافلہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ انہیں شاہی مہمان رکھا۔ لیکن سلطان محمد یہ فیصلہ کرنے میں بے حد پریشان تھے کہ اپنی بیٹی کا عقد کس سید زادے سے کیا جائے جب کوئی فیصلہ نہ کر پائے تو سلطان نے حضور نبی اکرمؐ کی ذات با برکات سے رجوع کیا۔ آخر ایک رات خواب میں انہیں ایک حلیہ دکھائی دیا اور بتایا گیا کہ اس گروہ میں ایک سید زادہ ہے جس کی سماعت میں کچھ نقص ہے اور یہی تمہارا گوہر مراد ہے۔ بیدار ہونے پر بادشاہ نے صبح تمام سید زادوں کو بلا کر اس حلیے کے شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ آخر انہوں نے اس گروہ کے ارکان سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی سید زادہ ہے؟ تو جواب ملا "ہاں" ہے وہ صاحب ہمارے ساتھ ہیں مگر انہوں کانوں سے کم سنائی دیتا ہے اس لیے ہم انہیں اپنے ہمراہ آپ کی خدمت میں نہیں لائے۔ بادشاہ نے یہ سن کر انہیں فرمایا "ہمیں تو انہی کا انتظار تھا جسے تم چھوڑ آئے ہو کیونکہ ان ہی بزرگ سے ہمیں اپنی لڑکی کی شادی کر دینے کا حکم ملا ہے۔ چنانچہ حضرت سید ابوالموئید کو بلایا گیا تو بادشاہ فوراََ انہیں پہچان گئے اور اپنی لڑکی سے عقد کر دیا۔
آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ اور مرد مجرد تھے۔ شادی قبول نہ کرتے تھے ایک رات آپ کو ہاطف نے ندا دی "جلال الدین شادی کر لو کیونکہ آپ کی پشت سے بارہ ہزار قطب پید ا ہوں گے ۔پھر آپ نے بحکم خدا بی بی حافظہ بنت سید قاسم شاہ جو بخارا کی سادات تھیں سے شادی کی جس سے آپ کے دو صاحبزادے سید علی اور سید جعفر پیدا ہوئے آپ نے کافی عرصہ بخارا میں رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اثر رسوخ اور عقیدت مندوں کا ہجوم دیکھ کر سید محمد خدا بندہ کا لڑکا جو اب مسند حکومت پر براجماں تھا کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں وہ میری بادشاہت نہ چھین لے۔ چنانچہ اس نے آپ کی مخالفت شروع کر دی۔
اتنے میں آپ کو حجرت کا حکم مل گیا۔ آپ بخارا سے حضرت امام رضا کے مزار مقدس پر ایران کے شہر مشہد میں قیام پذیر ہوگئے۔ آپ کے چلے جانے کے بعد بخارا میں سخت قحط پڑا اور وبائوں کا دور دورہ شروع ہو ا تو وہاں کے لوگ اکٹھے ہو کر مشہد آپ کی خدمت میں پہنچے اور واپس بخارا جانے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ لیکن آپ نے انہی لوگوں کو یہ کہ کر انکار کر دیا کہ دنیا کی خاطر جن لوگوں نے مجھے تکلیف پہنچائی وہ بھی زیادہ دن حکمران نہیں رہیں گے۔ "اور جب یہ لوگ واپس بخارا پہنچے تو بادشاہ مر چکا تھا "۔
اتنے میں آپ کی پہلی بیوی کا بھی انتقال ہو گیا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں صاحبزادوں کو ساتھ لے کر ہندوستان کا سفر اختیار کیا آپ شہر میں تشریف فرما تھے کہ ایک روز دریائے چناب کے کنارے حضرت خضر علیہ السلام سے شرف ملاقات ہوئی۔ آپ نے شہر جلال پور کی بنیاد ڈالی قوم جدھران کو مسلمان کیا اس کے بعد قوم سیال مسلمان ہوئی اور جھنگ سیالاں کی بنیاد رکھی اس کے بعد آپ سندھ اس وقت ایرانی حکومت میں شامل ایک صوبہ تھا بھکر میں ایک مشہور بزرگ حضرت سید بدر الدین بن سید صدر الدین حسینی رہتے تھے حضرت سید جلال کی آپ پر انہیںحضورؐ کی بارگاہ سے بشارت ملی کہ اپنی لڑکی حضر ت جلال کے عقد میں دے دو اور ہی خوشخبری حضورؐ نے حضرت جلال کو بھی دی۔
سید بدر الدین نے اپنی صاحبزادی زہرہ کا عقد حضرت جلال سے کر دیا۔ اس عقد سے سید بدرالدین کے رشتہ دار حسد کیوجہ سے خوش نہ تھے اس بنا پر آپ بحکم خدا بھکر سے اوچ کی طرف چل پڑے۔ تاریخ اوچ کے مصنف مولوی حفیظ الرحمن کے مطابق اوچ میں بدر الدین نامی ایک بزر گ قیام پذیر تھے جس کے حکم سے یہاں ایک کنواں بغیر بیلوں کے چلنے لگتا جس کی آواز سے کلمہ شہادت کی تکرار ہوتی۔ اسے چاہ کلمہ والا کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ جب سید جلال الدین اوچ پہنچے تو اس کنوئیں کو بغیر بیلوں کے چلتے دیکھا تو اسے رکنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ رک گیا۔ یہ خبر جب بدر الدین کو پہنچی اور اسے لوگوں نے بتایا کہ سید جلال سرخ بخاری ؒ اوچ میں آگئے ہیں تو اس بزرگ نے لوگوں کو کہا کہ اب اوچ کا اصل مالک آگیا ہے اب یہ کنواں اس کے حکم سے چلے گا لو اب ہم چلتے ہیں اسی وقت آپ کاوصال ہو گیا۔ اور ان کی نماز جنازہ حضرت سید جلال بخاری ؒ نے پڑھائی۔ آپ کی اس بی بی کے بطن سے سید محمد تولد ہوئے چند یوم بعد اس بی بی کا انتقال ہو گیا تو حضرت سید بدر الدین باکھری نے اپنی دوسری صاحبزادی فاطمہ کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جن کے بطن سے دو صاحبزادے سیدی احمد کبیر اور سید بہائو الدین معصوم تولد ہوئے۔
آپ ابھی ایران ہی میں تھے کہ آپ کے صاحبزادے سید علی اور سید جعفر پہلے ہی ہندوستان روانہ ہو چکے جو کہ راستہ میں گم ہو گئے آپ جب ایران سے ہندوستان روانہ ہوئے اور جس قافلہ میں آپ شامل تھے وہاں ایک شخص نے آپ کو اشرفیوں کی بھری ہوئی تھیلی بطور امانت دی جو کہ آپ سے کھو گئی۔
حضرت سید جلال سرخ بخاریؒ علم و فضل زہد و تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھے۔ آپ بہت بڑے عالم ،عارف باللہ فقیہہ عابد زاہد پارسا اور ساری دنیا سے کٹ کر صرف اللہ رب العزت کی طرف متوجہ تھے۔ حضر ت مخدوم سید جہانیاں جہانگشت ؒ فرماتے ہیں کہ میرے دادا حضرت سید جلال الدین سرخپوش ؒ ،شیخ بہائو الدین زکریاؒ ملتانی کے خلیفہ اول ہیں۔ (جامع العلوم) کسی شخص نے حضرت شیخ صدر الدین عارف ملتانی ؒ سے پوچھا کہ حجر ے میں حضرت سید جلال کے سوا کوئی نہیں ہو تا لیکن زکر الٰہی کی آواز سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا دو آدمی ذکر کر رہے ہوں۔ آپ نے فرمایا پیالہ ان کی موافقت کرتا ہے۔ (جامع العلوم) نقل ہے آپ خرقہ، خلافت سہروردیہ حاصل کر کے جب ملتان سے اوچ پہنچے جسے اس وقت دیو گڑھ کہا جاتا تھا۔ جمعہ کا دن تھا یہاں آکر آذان دی۔ آذان سن کر کفار جمع ہو گئے لیکن صورت دیکھتے ہی پانچ صد ہندو مسلمان ہو گئے۔ اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی یہ خبر راجہ دیو سنگھ کو جب پہنچی تو وہ بہت سیخ پاہوا اسی وقت پانچ ہزار سوار آپ کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجے لیکن جب وہ آپ کے حضور پہنچے تو سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ اس پر راجہ خوفزدہ ہو کر راتوں رات مارواڑ کی ریاست کو فرار ہو گیا۔ آپ نے اوچ کے اطراف میں چولستان کے لاکھوں کفار کو حلقہ بگوش اسلام کیا۔ راجپوتوں کے کے متعدد قبائل آپ کے ہاتھوں حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ چولستان کے علاقہ کا ایک راجہ گھلو آپ کے دست حق پر مسلمان ہوا ریاست بہاولپور کی بیشتر اقوام جس میں چنڑ، ڈاہر اور سیال وغیرہ شامل ہیں آپ کے ہاتھوں اسلام لائے۔بابافرید الدین گنج شکر ؒ فرماتے ہیں کہ حضر ت سید جلال ؒ اوچی کوکسی نے نماز کے وقت اوچ میں نہیں دیکھا۔ نماز کے وقت آپ غائب ہو جاتے تھے۔ آخر معلوم ہوا کہ آپ نماز بیت اللہ میں ادا فرماتے تھے (راحت القلوب) آپ کا وصال ۹۵ سال کی عمر میں ۱۹ جمادی الاول ۶۹۰ھ بمطابق ۲۰ مئی ۹۰ ۱۲ء میں ہوا۔ تاریخ وفات لفظ مخدوم سے بر آمدہے۔ آپ کی وفات کے وقت اوچ ایک وسیع و عریض شہر تھا۔ اوچ کے چھ کوس کے فاصلے پر ایک محلہ چناب رسول پور تھا۔ جہاں حضرت مخدوم کا قیام تھا وہیں انتقال فرمایا۔ اور وہیں مزار بنا۔ دریا کی طغیانی سے ایک بار تباہی پڑی جس سے آپ کا جسد مبارک محلہ سونک بیلہ منتقل کر دیا گیا یہاں بھی دریا نے قدم بوسی کی آخر آپ کے جسد مبارک کو آپ کے پوتے سید صدر الدین راجو قتال کے مزار پر منتقل کر دیا گیا۔ آخرکار مخدوم محمد حامد نو بہار بخاری اول نے ۱۰۲۶ھ کو آپ کے جسد کو کافی ہنگامے کے بعد اسجگہ دفن کیا گیا جہاں آجکل آپ کا مزار ہے۔ محل کی موجودہ عمارت نواب بہاول خاں ثالث نے تعمیر کرائی۔ یہ درگاہ اوچ بخاری کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے جہاں سادات بخاری کے بزرگان آرام فرما ہیں۔