بال ٹمپرنگ: اسمتھ کی معذرت، پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہوگئے

30 مارچ 2018

کراچی(اسپورٹس ڈیسک)سابق آسٹریلین کپتان اور اسٹار بلے باز اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ نے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل پر قوم سے معذرت کر لی اور معافی مانگتے ہوئے اسمتھ کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو چھلک پڑے۔کرکٹ آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کرنے پر اسمتھ، وارنر اور بین کرافٹ پر انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اسی وجہ سے تینوں کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ سے واپس وطن بھیج دیا گیا تھا۔کرکٹ آسٹریلیا نے سابق کپتان اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک، ایک سال جبکہ بال ٹیمپرنگ کا مرکزی کردار بین کرافٹ پر 9ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔جمعرات کو وطن واپس پہنچنے کے بعد تینوں کرکٹرز اسمتھ، وارنر اور بینکرافٹ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی۔ اسمتھ پریس کانفرنس کے دوران روتے ہوئے نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ بحیثیت کپتان میں واقعے کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ میری نگرانی میں ہوا اس لیے میں کسی پر الزام نہیں لگاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری قیادت کی ناکامی ہے، میں نے بال ٹیمپرنگ کی اجازت دے کر بڑی غلطی کی اور رہتی زندگی تک مجھے اس بات کا پچھتاوا رہے گا۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک بلے باز نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی اور ٹیم کی قیادت میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میری وجہ سے فیملی، قوم، ساتھی کھلاڑیوں اور مداحوں کو جتنی تکلیف پہنچی میں دل سے ان سے معافی مانگتا ہوں۔اسمتھ نے کہا کہ میری وجہ سے جو بھی نقصان ہوا میں اس کا ازالہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا اور جہاں تک مجھے علم ہے آسٹریلین کرکٹرز اس سے قبل کبھی بال ٹیمپرنگ میں ملوث نہیں رہے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا اور میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں ہو گا۔کرکٹ آسٹریلیا کے تحقیقاتی پینل کی جانب سے بال ٹیمپرنگ کا ماسٹر مائنڈ قرار پانے والے ڈیوڈ وارنر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر قوم سے معافی مانگی۔انہوں نے کہا کہ بال ٹیمپرنگ واقعے میں اپنے کردار پر شرمندہ ہوں اور اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔بینکرافٹ نے بھی واقعے پر قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتا ہوں، بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں تھا لیکن میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کھیل کو نقصان پہنچایا۔