ملکی حالات تمام اداروں سے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہی کام کرنے کے متقاضی ہیں

30 مارچ 2018

ترجمان پاک فوج کیجانب سے باجوہ ڈاکٹرائن کی وضاحت سے پیدا ہونیوالی قیاس آرائیاں اور آئین کی پاسداری کے تقاضے


پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوج کا ملکی سیاست کے کسی بھی این آر او سے کوئی تعلق نہیں اور باجوہ ڈاکٹرائن کا بھی 18ویں آئینی ترمیم یا عدلیہ سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔ گزشتہ روز جی ایچ کیو میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب پرامن پاکستان ہے‘ اگر کوئی باجوہ ڈاکٹرائن ہے تو اس نے پاکستان کو امن و امان کا گہوارا بنانا ہے۔ اسے صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے‘ اس ڈاکٹرائن کا مطلب ہے کہ پاکستان اس امن کی طرف واپس چلا جائے جو ہرپاکستانی کی خواہش ہے۔ انکے بقول غیرمستحکم پاکستان بھارت کا خواب ہے۔ ہمیں خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی میں پاکستان کا کردار نہ ہوتا تو خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا۔ اسی طرح پاکستان نے دنیا کیلئے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکہ کبھی واحد سپرپاور نہ ہوتا۔ پاکستان کا اس خطے میں امن کیلئے بہت کردار ہے‘ اسے شک سے دیکھا گیا تو دہشت گردی کے تدارک کیلئے پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد پاک امریکہ باہمی تعلقات میں فرق پڑا ہے۔ اب امریکہ نے ہمارے مطالبات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہمارے سفارتکاروں کے ساتھ غیرمناسب سلوک روا رکھا گیا‘ ہم ایک ذمہ دار ملک ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو بھارت ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ اگر اس نے کوئی مہم جوئی کی تو سخت جواب دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ملک میں ترقی تب ہی ہوگی جب تمام ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرینگے۔ انکے بقول ملک چلانے کیلئے آپس میں رابطے ہوسکتے ہیں۔ شہبازشریف ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں‘ ان سے میٹنگ پر اعتراض نہیں مگر بغیر کسی ثبوت کے چھپ کر ملاقات اور این آر او کا تاثر دیا گیا جس کی وضاحت ضروری تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج نے الیکشن کا ٹائم فریم نہیں دینا‘ فوج کو اس حوالے سے آئین کے تحت جو ذمہ داری سونپی جائیگی‘ اسے سرانجام دیا جائیگا۔ انکے بقول پاکستان کسی غیرآئینی سرگرمی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بے شک اس وقت ملک کا نظم و نسق آئین کے تابع چل رہا ہے جس کیلئے آئین میں ریاست کے ستون تین اداروں مقننہ‘ عدلیہ اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں‘ اختیارات اور حدودقیود متعین کردی گئی ہیں۔ آئین کے تحت یہ ڈسپلن ملک کا نظم و نسق خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے ہی قائم کیا گیا ہے جس کی پابندی ہوتی رہے گی تو آئین کے تحت قائم وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام ہی سرخرو ہوگا جسے استحکام حاصل ہوگا تو اس سے ملک کے استحکام اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر ہونے کا ہمارے دیرینہ دشمن کو ٹھوس جواب ملے گا۔ اس تناظر میں ادارہ جاتی ڈسپلن پر عمل پیرا ہونا اور خود کو آئین میں متعین کی گئی اپنی ذمہ داریوں تک محدود رکھنا ہی ملک کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت ملک کی سلامتی کو اندرون اور بیرون ملک سے جو سنگین خطرات درپیش ہیں اسکے تناظر میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہمارے ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری بن گئی۔ چونکہ افواج پاکستان نے ریاستی ستون انتظامیہ کے تابع دفاع وطن کا پیشہ ورانہ کردار ادا کرنا ہوتا ہے اس لئے سرحدوں کو درپیش خطرات کی بنیاد پر افواج پاکستان کے ہمہ وقت سرحدوں پر مستعد و چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے آئین کی دفعہ 243۔الف میں صراحت کے ساتھ اس امر کی وضاحت کردی گئی ہے کہ مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہوگا‘ اسی طرح آئین کی دفعہ 245 شق ون میں اس امر کا تعین کردیا گیا ہے کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کیخلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور اسی طرح مسلح افواج ضرورت پڑنے پر سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے طلب کی جائیں گی تو انہیں قانون کے تابع یہ فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ مسلح افواج میں شمولیت اختیار کرنیوالے ہر فرد نے آئین کی دفعہ 244 میں دیا گیا جو حلف اٹھایا ہوتا ہے اسکے تحت بھی وہ عہد کرتا ہے کہ وہ پاکستان کا وفادار رہے گا‘ آئین پاکستان کی پاسداری کریگا اور خود کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں شرکت نہیں کریگا۔ آئین نے ایسی ہی حدودوقیود‘ اختیارات اور ذمہ داریاں دوسرے ریاستی ستونوں مقننہ اور عدلیہ کیلئے بھی متعین کردی ہوئی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کو خوش اسلوبی سے چلایا اور مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آئین کی روح کے مطابق اسکی پاسداری کا تقاضا بہت کم ہی نبھایا جاتا ہے اور چار جرنیلی آمروں نے تو ’’جس کی لاٹھی‘ اسکی بھینس‘‘ کے تصور کے تحت آئین کو سبوتاژ کرکے اسکے تحت قائم سسٹم کو چلتا کیا اور ماورائے آئین اقتدار سنبھال کر اس وطن عزیز کو طویل عرصہ تک سرزمین بے آئین بنائے رکھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آئین سے کھلواڑ کرنیوالے کسی طالع آزماء جرنیل کو آئین سے غداری کے سنگین جرم کے ارتکاب پر قانون کے کٹہرے میں بھی نہیں لایا جاسکا۔ جرنیلی آمر مشرف نے 2002ء میں اسمبلیوں کے انتخابات کراکے آئین بحال کیا مگر 2؍ نومبر 2007ء کو پھر آئین کا جھٹکا کرکے ملک میں پی سی او نافذ کردیا اور پھر قومی مفاہمت کے ساختہ فلسفہ کے تحت پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ماورائے آئین و قانون این آر او کرلیا۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے ان کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا عملی اقدام اٹھایا مگر اس ریفرنس میں ان کیخلاف کارروائی کی اب تک نوبت نہیں آسکی اور وہ گزشتہ تین سال سے ملک سے باہر بیٹھے آئین و قانون کی عملداری کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہیں بیماری کے بہانے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے معاملہ میں بھی این آر او کی صدائے بازگشت گونجتی رہی ہے۔ شومئی قسمت حکمران مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف پانامہ کیس کے شکنجے میں آئے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر اسمبلی کی رکنیت‘ وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت کیلئے نااہل ہوگئے تو اسکے ردعمل میں وہ عوام کی عدالت میں آگئے اور اپنے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا تذکرہ کرنے لگے جس سے اداروں کے ساتھ محاذآرائی کی کیفیت پیدا ہوئی جبکہ اسی دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے جوڈیشل ایکٹوازم کے تحت محاذآرائی کے ماحول کو مزید تقویت پہنچا دی نتیجتاً ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا اجاگر ہوئی تو سسٹم کیخلاف روایتی محلاتی سازشوں کی صدائے بازگشت بھی سنائی دینے گی۔
یہ امر واقع ہے کہ ریاستی آئینی ادارے آئین میں متعین شدہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے تو آج ادارہ جاتی محاذآرائی‘ جوڈیشل ایکٹوازم یا باجوہ ڈاکٹرائن کا کہیں کوئی تصور ہی پیدا نہ ہوتا۔ آج بھارتی ریشہ دوانیوں اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف اسکے جارحانہ اقدامات کے تناظر میں تو ویسے ہی عساکر پاکستان کی جانب سے اپنی پوری توجہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بنیاد پر دفاع وطن کے تقاضے نبھانے پر مرکوز کی جانی چاہیے۔ ترجمان پاک فوج نے اپنی پریس کانفرنس میں باجوہ ڈاکٹرائن کا جو مقصد بیان کیا بلاشبہ وہ مقصد عساکر پاکستان ہی کے ذریعے پورا ہونے کا متقاضی ہے جو ملک کے امن و سلامتی سے متعلق ہے تاہم عساکر پاکستان نے یہ ذمہ داریاں کسی ڈاکٹرائن کے تابع نہیں بلکہ آئین میں متعین شدہ اپنی ذمہ داریوں کے تحت ہی نبھانی ہیں۔ یہ حیران کن امر ہے کہ ترجمان پاک فوج آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی میڈیا کے ساتھ ایک آف دی ریکارڈ گفتگو کے حوالے سے سنائی دینے والی باجوہ ڈاکٹرائن کی صدائے بازگشت کی تردید بھی کی اور پھر باربار اس ڈاکٹرائن کا حوالہ دیکر اسکے مقاصد اور مفہوم سے بھی پریس کانفرنس کے ذریعہ قوم کو آگاہ کردیا۔ چنانچہ انکی تردید میں موجود باجوہ ڈاکٹرائن کی تصدیق سے آئین کی پاسداری کی متقاضی عساکر پاکستان کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھنا بھی فطری امر ہوگا۔ انکے بقول ملک میں ترقی تب ہوگی جب تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرینگے تو اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کون سا ادارہ اپنی متعینہ حدود سے تجاوز کرکے وہ کام کررہا ہے جو اسکے آئینی دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھی گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیراعظم اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اس امر کا ہی تقاضا کیا ہے کہ چیف جسٹس کے کرنے کے جو کام ہیں‘ وہ انہیں کرنے چاہئیں اور جو کام انکے کرنے کے نہیں ہیں‘ ان سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ اصول آئین میں متعین شدہ ہے تو آئین کے تابع ہر ادارے کو اسکی پابندی کرنی چاہیے۔ کسی این آر او یا باجوہ ڈاکٹرائن کے معاملہ میں قیاس آرائیاں تب ہی ہوتی ہیں جب آئین میں متعین شدہ ادارہ جاتی ڈسپلن کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ سسٹم کی اصلاح بلاشبہ پوری قوم کا مطمحٔ نظر ہے مگر اس کیلئے جس ادارے کا جو آئینی کردار ہے‘ وہی ادا کیا جانا چاہیے اور آئین کے تحت قائم وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام کو گزند تک نہیں پہنچنے دینی چاہیے۔ یہی ملک کی سلامتی اور قوم کے خوشحال مستقبل کا تقاضا ہے۔