سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی نشستیں بڑھانے کی ضرورت

30 مارچ 2018

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منتخب ممبران کی نشستیں بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بین الحکومتی مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا سلامتی کونسل میں منتخب ممبران کی نشستیں بڑھائی جائیں۔
سیکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کا ایسا ادارہ ہے جس کے امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور روس پانچ ارکان مستقل اور ویٹو پاور کے حامل ہیں جبکہ 10 ارکان غیر مستقل ہیں ۔ دنیا کے مختلف ممالک طے شدہ طریقِ کار کے مطابق غیر مستقل ارکان بنتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے سے سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد بڑھا نے کی مہم جاری ہے۔ چونکہ مستقل ارکان کو کونسل کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا حق بھی حاصل ہے اس لئے ویٹو پاور حاصل ہونے کی وجہ سے سلامتی کونسل بڑی طاقتوں کی چپقلش کا میدان بن کر رہ گئی ہے۔جاپان، برازیل، جرمنی اور بھارت حالیہ برسوں کے دوران سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے حصول کے کوشش کر رہے ہیں امریکہ سمیت متعددممالک بھارت کو مستقل رْکن بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اول تو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت نہیں۔ اگر اضافہ کرنا مقصود بھی ہوا تو بھارت کسی صورت اس کیلئے کوالیفائی نہیں کرتا۔ بھارت ایک ایسا مْلک ہے جو مستقل رکنیت کا کسی بھی پہلو سے اہل نہیں، کیونکہ یہ اْن معدودے چند مْلکوں میں سرفہرست ہے جو سیکیورٹی کونسل کی اپنی منظور کی ہوئی قراردادوں کا مْنہ چڑاتے ہیں۔ بھارت مسئلہ کشمیرپر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے سے صریحاً انکار کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے 8 فیصد ارکان کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ایک تہائی تعداد کوسلامتی کونسل میں کبھی نمائندگی نہیں ملی۔ان ممالک کو نمائندگی دینے کی زیادہ ضرورت ہے ۔