گردشی قرضوں میں ہوشربا اضافہ

30 مارچ 2018

گردشی قرضہ 526 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور آڈیٹر جنرل کی طرف سے پری آڈٹ سے انکار کے باعث حکومت آئی پی پیز کو منظور شدہ 80 ارب روپے کی ادائیگی کے قابل نہیں۔ امکان ہے آئی پی پیز آئندہ چند دنوں میں آپریشنز روک دیں گی۔
2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ(ن) اقتدار میں آئی تو گردشی قرضوں کا بوجھ پانچ سو ارب کے لگ بھگ تھا۔ ان دنوں بجلی کا بحران بدترین صورت اختیار کرچکا تھا۔ جان لیوا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ آئی پی پیز ادائیگیوں کے مطالبات کر رہی تھیں جو نہ مانے جانے کی صورت میں عدم تعاون پر آمادہ تھیں۔ نئی حکومت نے فوری طور پر ادائیگی کرکے لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے کا سدباب کرلیا۔ اس کے بعد ایک بہتر حکمت عملی کی ضرورت تھی تاکہ گردشی قرضوں کا سلسلہ وہیں رک جاتا مگر آج ایک بار پھر گردشی قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں۔ آئی پی پیز ادائیگی نہ ہونے پر آپریشنز روکنے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ حکومت کو اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پیز نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو بجلی کا بحران ایک بار پھر بدترین شکل میں سامنے آئے گا‘ اوپر سے انتخابات بھی قریب ہیں۔ حکومت کو یاد ہونا چاہیے کہ پیپلزپارٹی بجلی کے بحران ہی کے باعث بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سے اب تک وہ سنبھل نہیں سکی۔