ملالہ کی 5سال بعد وطن واپسی وزیراعظم سے ملاقات

30 مارچ 2018

پاکستان کا مستقبل اس کے لوگ ہیں، ہمیں بچوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ تعلیم، صحت اور معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ ملالہ یوسفزئی کا وزیراعظم ہائوس میں تقریب سے خطاب، ملالہ یوسف زئی گزشتہ روز 5برس بعد اپنے وطن آئیں تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ جن حالات میں اس بہادر لڑکی نے سوات میں تعلیم دشمن قوتوں کی دھمکیوں کا مقابلہ کیا۔ اپنی تعلیم جاری رکھی اس کے نتیجے میں قاتلانہ حملہ کا نشانہ بنی۔ وہ دہشت گردی کی جنگ میں قوم کے بے لوث کردار کا ایک روشن باب ہے۔ قاتلانہ حملے کے بعد امریکہ نے علاج معالجے اور تعلیم مکمل کرنے میں ملالہ کی بھرپور مدد کی۔ بیرون ملک ملالہ پاکستانی ایمبسڈر کا درجہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہر سطح پر ہر عالمی ادارے میں خواتین کی تعلیم اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کی اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ جس کے اعتراف میں انہیں عالمی امن کے نوبل ایوارڈ اور کئی دوسرے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان آمد پر انکا گرمجوشی سے استقبال ہوا۔ انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جبکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات بھی ان کے شیڈول میں شامل ہے۔ وزیراعظم ہائوس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حکومت پاکستان اور مسلح افواج کے کردار کی تعریف کی اور حکمرانوں سے کہا کہ پاکستان میں تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا، ملالہ نے وطن واپسی کی خوشی کا تذکرہ کرتے ہوئے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کہا کہ وہ اپنے ملک میں لوگوں سے ملنا چاہتی ہیں گلی کوچوں میں گھومنا پھرنا چاہتی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں کہ ملالہ جیسی بیٹیاں بغیر کسی ڈر کے تعلیم حاصل کریں۔ جہاں چاہیں آزادی سے گھومیں پھریں اور پاکستان کی اس بیٹی کی خواہش کا احترام کریں۔ تعلیم، صحت اور معیشت پر سیاست نہ کریں۔ان کو بہتر بنانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کریں ، تاکہ پاکستان دنیا میں بلند مقام حاصل کر سکے۔ ہم سب پاکستان کی بہادر بیٹی ملالہ کو ملک واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں۔