جمعۃ المبارک‘ 12؍ رجب المرجب ‘ 1439 ھ ‘ 30 ؍ مارچ 2018ء

30 مارچ 2018

نوازشریف کے آف شور کمپنیوں، لندن فلیٹس ، گلف سٹیل اور العزیزیہ مل کا مالک ہونے کی کوئی دستاویز نہیں: واجد ضیاء
لو جی وہ ’’شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا‘‘۔ اگر یہ بات تھی تو پانامہ کیس میں جے آئی ٹی نے جو پاکھنڈ رچایا تھا کیا وہ صرف اور صرف سیاسی افراتفری پھیلانے کیلئے تھا۔ اب واجد ضیاء جو کچھ کہہ رہے ہیں پہلے اس کا تعین کیوں نہیں کیا گیا۔اتنا کچھ ہو جانے کے بعد ان کا یہ بیان تو خاصہ مضحکہ خیز ۔ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں تھا تو پھر یہ تماشا کیا تھا۔ یہ اعصاب شکن حالات کیوں ملکی سیاسی تاریخ میں رقم کئے گئے۔ یہ جو دستاویزات کا اتنا پلندہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے جمع کیا گیا یہ سب کچھ اب ردی کے بھائو بکے گا، یا اس سے کسی نے ردی کی دکان کھولنی ہے۔ پانامہ کیس میں اور بھی ممالک شامل تھے مگر وہاں یہ اودھم نہیں مچایا گیا جو ہمارے ہاں مچا۔ سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو گئے ، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔ بات دشنام سے نکل کر عدالتوں تک جا پہنچی۔ جے آئی ٹی بنی، ایک اور وزیراعظم کو برطرف کیا گیا۔ ذاتی کردار کشی تک ہوئی، اب جب یہ سارا میلہ سج گیا ہے تو بتایا جا رہا ہے کہ یہاں تو کوئی مزار ہی نہیں ہے۔
عوام جو پہلے ہی اس اعصاب شکن کھیل سے زچ ہیں اب ایک نئی بحث میں الجھائے جا رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اب ایک نئی صف بندی کے ساتھ ایک دوسرے پہ حملہ آور ہوں گی۔ سیاسی ماحول جو تلخ تھا مزید تند ہو جائے گا۔ واجد ضیاء کے اس بیان پر تو بہر حال چچا غالب نے بہت پہلے کہا تھا۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
٭…٭…٭…٭
بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا قیام
تھا جس کا انتظار‘ وہ شہکار آگیا مگر اس شہکار کی انٹری نہایت پھسپھسی رہی۔ سعید ہاشمی جیسے (ق) لیگ کے عام رہنما کے ہاتھوں بلوچستان عوامی پارٹی کی تقریب رونمائی خود بتا رہی ہے کہ یہ تو وہ شو تھا ہی نہیں جس کی پبلسٹی کی جا رہی تھی۔ یہ تو کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا والی بات ہے۔ شکر کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگی فیملی میں ایک نئے ممبر کا جو اضافہ ہونا تھا‘ وہ نہیں ہوا اور معاملہ خیر خیریت کا ہی رہا۔ ورنہ کثرت اولاد کی پھبتی پھر کسی جانی تھی۔ اس بار قرعہ فال بلوچستان کے نام نکلا ہے جہاں بلوچستان کا لاحقہ یا سابقہ لگا کر پہلے ہی بہت سی جماعتیں مذہبی‘ لسانی اور صوبائی سیاست چمکا رہی ہیں۔ چلیں ایک اور بھی سہی۔ اس تقریب رونمائی میں نئی بارات کے دولہا یعنی وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی غیرموجودگی بھی کافی لوگوں کو چھبتی رہی۔ جب دولہا ہی نہیں تو بارات کا رنگ پھیکا ہی نظر آتا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ جو پلاننگ تھی‘ وہ ناکام رہی یا اسے ملتوی کر دیا گیا اور عزت بچانے کیلئے جو ہاتھ لگا‘ اسے قابو کرکے اعلان کے مطابق نہ سہی مگر وقت پر ایک ڈبہ فلم چلا دی گئی۔ کہاں متحدہ مسلم لیگ کا سیلاب‘ کہاں بلوچستان عوامی پارٹی کاتالاب۔ کہیں یہ سب کچھ سیاسی منظرنامہ میں نئی پیدا ہونے والی ہلچل کا شاخسانہ تو نہیں جس کی بدولت سرکش طوفان کا رخ بدل دیا گیا۔ میدان سیاست میں ایک بار پھر نئی صف بندی کی ہوائیں چل پڑی ہیں۔
بھٹو کی برسی پر جیالوں کی روانگی اور ٹکٹ ہولڈروں کا عدم تعاون
کیا زمانہ تھا جب بھٹو کی برسی قریب آتے ہی پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی رگوں میں خون کی گردش تیز ہو جاتی تھی۔ ایم این اے اور ایم پی اے ہی نہیں ماڑے ماٹھے عہدیدار اور کارکن بھی مل جل کر تیاریاں کرتے۔ ٹرین بک ہوتی اور ہزاروں نہ سہی سینکڑوں کارکن سارے راستے جئے بھٹو کے نعرے لگاتے پرچم اٹھائے لاڑکانہ روانہ ہوتے۔پھر آہستہ آہستہ یہ ذوق و شوق کم ہونے لگا، اس میں کارکنوں کی کوئی غلطی نہیں۔ سارا کیا دھرا زرداری اینڈ کمپنی کا ہے جب زردار پارٹی کی قیادت کریں گے تو بے زروں کی قدر کون کرے گا۔ زر والا ہونا اور بات ہے دل والا ہونا اور بات، اگر پارٹی کے یہ رہنما دلداری ہی کرتے تو آج پارٹی کارکنوں میں بیزاری کی یہ حالت نہ ہوتی۔ کہاں ٹرین بک ہوتی تھی۔ کہاں اب چند ڈبے بک نہیں ہو رہے۔ کارکن کم نہیں مگر کیا کریں بقول جالب ’’ دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے‘‘ ۔کارکنوں کی جیب آج بھی خالی ہے۔ جن کی تجوریاں بھری ہیں ان کے دل خالی ہیں، کیونکہ وہ زرداری پارٹی کے عہدیدار ہیں۔ پیپلزپارٹی کے نہیں۔ اب پی پی لاہورکی تنظیم اپنے کھاتے سے ڈبے بک کرانے کی سوچ رہی ہے جس کے بعد کارکنوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر منت سماجت کرکے نکالا جائے گا۔ ورنہ زیادہ تر صرف سفر کے شوقین اپنے دوست احباب کو لے جا کر خانہ پری کرینگے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے تو حقیقت میں پارٹی کا نعرہ سچ ثابت کر دیا کہ ’’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ واقعی اب بھٹو ہر گھر سے نکل چکا ہے…۔
٭…٭…٭…٭
سی پیک موٹروے ٹھیکہ چینی کمپنی کو دینے کے خلاف عدالت میں جائیں گے: چیئرمین پی اے سی
اب خورشید شاہ کو بہت دور کی سوجھی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ منصوبہ چینی کمپنی کو دینے کی بجائے زرداری اینڈ کمپنی کو دے دیتی۔ وہ ریٹ بھی مناسب لگاتے اور چند ماہ کی بجائے چند دنوں میں موٹروے تیار کرکے بھی دکھا بھی دیتے ۔ جس طرح پورے سندھ کی سڑکیں دیرپا اور پائیدار ہیں‘ اسی طرح یہ منصوبہ بھی دفتری کاغذوں میں چم چم کرتا نظرآتا۔ اور حقیقت میں دھول اُڑاتی ننگی زمین پر گاڑیوں کے گزرنے سے بننے والے نشانات اس موٹروے کے وجود کا پتہ دیتے۔ خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اور پی اے سی کے چیئرمین بھی۔ ان کا فرمایا ہوا مستند ہی ہوتا ہے‘ اب وہ خدا جانے حکومت کو دبائو میں لانے کیلئے یا اپنی دیانت کا ڈنکا بجانے کیلئے جو سکھر سے لیکر کراچی تک خوب بج رہا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں لانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس کا کوئی اور نتیجہ نکلے نہ یا نکلے‘ سی پیک موٹروے پر کام ضرور متاثر ہوگا۔ چینی کمپنیاں اور حکومت پہلے ہی سی پیک منصوبوں میں رخنہ اندازیوں سے بیزار ہے۔ اب یہ ایک اور معاملہ سر اٹھاتا نظر آتا ہے۔ کسی کو اس کے شمالی اور کسی کو مغربی روٹ پر اعتراض ہے کسی کو اعتراض ہے کہ یہ سڑک اسکے گھر کے قریب سے کیوں نہیں گزر رہی‘ کوئی اسے اپنے گائوں سے گزارنا چاہتا ہے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ منصوبہ دشمنوں کی آنکھوں میں پہلے ہی چبھ رہا تھا۔ اب تو ہماری اپنی کئی آنکھیں اس کو دیکھ کر آشوب چشم میں مبتلا ہوتی نظر آرہی ہیں۔