جنوبی ایشیائ: ابھرتا ہوا اتحاد

30 مارچ 2018

1893میں جب کرنل ڈیورنڈ نے افغانستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی لکیر کھینچی جسے ڈیورنڈ لائن کا نام دیا گیا تو عجیب قسم کے مسائل سامنے آئے۔ اس سرحدی لکیر سے نہ صرف مختلف قبائل بلکہ کئی ایک گائوں بھی تقسیم کی زد میں آئے تو یہ تقسیم بعض مقامات پر کچھ لوگوں کیلئے بڑی تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ قبائل تقسیم ہو کر دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک حصہ افغانستان میں رہ گیا اور دوسرا حصہ ہندوستان میں آگیا ۔یوں ان کی جائیدادیں ، مشترکہ رشتہ داریاں اور برادریاں بھی تقسیم ہو گئیں لیکن سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں گائوں تقسیم ہونے سے ایک گائوں جو مکمل طور پر پہلے افغانستان میں تھا اب آدھا افغانستان میں رہ گیا اور آدھا ہندوستان کا حصہ بن گیا اور اسی طرح جو گائوں پہلے ہندوستان میں تھا وہ کچھ تو ہندوستان میں رہا اور باقی افغانستان کا حصہ بن گیا۔ یہ تقسیم خاندانوں کیلئے بھی بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ کسی خاندان کا گھرا گر اس طرف ہے تو جائیداد دوسری طرف چلی گئی یا اسکے الٹ۔ اگر ماں باپ کا گھر اس طرف ہے تو بیٹی کے سسرال کا گھر دوسری طرف چلا گیا۔ ایک بھائی کا مکان ادھر آیا تو دوسرے کا دوسری طرف چلا گیا یا اسکے الٹ ہو گیا تو یوں سرحدی عوام کیلئے بڑے مصائب کھڑے ہوگئے خصوصاً جہاں برادریاں، رشتہ داریاں اور جائیدادیں تقسیم ہوئیں۔َ کرنل ڈیورنڈ سے پوچھا گیا کہ اس غیر حقیقی سرحدی لائن سے افغانستان کے بہت سے قبائل اور گائوں ہندوستان میں آگئے ہیں۔ قبائل اور خاندان تک تقسیم ہو گئے ہیں۔ ثقافتی اور معاشی طور پر یہ لوگ افغانستان کا حصہ رہے ہیں۔ اب انہیں آپ ہندوستان کے تابع کیسے کرینگے؟ کرنل ڈیورنڈ کا جواب بڑا سادہ سا تھا کہ ہم انہیں معاشی طور پر ہندوستان کے ساتھ اس طرح منسلک کرینگے کہ یہ افغانستان کا سوچیں گے بھی نہیں اور پھر یہی کچھ ہوا کہ یہ لوگ ہندوستانی معیشت میں ضم ہو گئے۔
اس وقت یہی کام چین کر رہا ہے۔ چین اس وقت اس علاقے کی ابھرتی ہوئی معاشی اور عسکری طاقت ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ جو ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا وہ عسکری طور پر بھی مضبوط ہوگا اور یہی حالت اس وقت چین کی ہے۔ ہمارے خطے میں چین اس وقت بہت سر گرم ہے۔ اسکے پاس وسائل بھی ہیں،ٹیکنالوجی بھی ، طاقت بھی اور سب سے بڑھ کر خواہش بھی۔ وہ پس ماندہ ممالک کو لوٹنا نہیں چاہتا بلکہ انہیں انکے ملک میں انفراسٹرکچر تعمیر کرکے انہیں شاہراہ ترقی پر ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر اس طرح ڈیولپ ہوگا کہ پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے منسلک ہو جائینگے اور معاشی طو ر پر ایک بندھن میں بندھے جائینگے ۔یاد رہے کہ جہاں معیشت مشترک ہو وہاں تعلقات بھی مشترک ہو جاتے ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت چین ،امریکہ اور مغربی ممالک کو یہاں سے ’’کک آئوٹ‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ چین اس پالیسی کو ’’ایک سڑک ایک خطہ‘‘ کا نام دیتا ہے۔
چین اس نئی پالیسی کے تحت دنیا کے 65ممالک میں 900 بلین ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔ مشترکہ معیشت سے ان ممالک میں رابطہ بڑھے گا۔ یہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آئینگے۔ ایک دوسرے پر معاشی انحصار بڑھے گا جس سے آپس کے جھگڑے اور نفرتیں مٹ جائیں گی اور یہ علاقے امن کا گہوارہ بنیں گے۔ چین کی پہلی ترجیح پڑوسی ممالک ہیں۔ افغانستان چین کا قریبی پڑوسی ہے۔ افغانستان کی معیشت بہتر کرنے کیلئے چین نے افغان سرحد تک ریلوے لائن تعمیر کر دی ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت شروع ہو چکی ہے۔اسی تجارت کو بڑھانے کیلئے چین وہاں مزید ریلوے لائنز اور سڑکیں تعمیر کرنے کا خواہشمند ہے جبکہ چین افغانستان میں کان کنی پر بھی 3بلین ڈالرز خرچ کر رہا ہے ۔پاکستان کی ’’اقتصادی راہداری‘‘ کا رابطہ بھی افغانستان تک بڑھایا جارہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چین وہاں امن لانے کیلئے کوشاں ہے۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان صلح اور بہتر تعلقات کیلئے دونوں ممالک کے مابین غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم ہے۔اس سے افغانستان معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہو جائیگا۔
پاکستان میں چین 65بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔سی پیک کے تحت انرجی کے بہت سے منصوبے اور گوادر بندرگاہ زیرِ تعمیر ہیں۔ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان معاشی طور پر ایک خود کفیل ملک بن کر ابھرے گا۔ پاکستان،ایران اور چین تینوں ممالک کوشاں ہیں کہ گوادر اور ایرانی بندرگاہ ’’چاہ بہار‘‘ بطور ’’ سسٹر بندرگاہیں ‘ ‘ کام کریں۔ سی پیک میں ایران بھی شامل ہونا چاہتا ہے جو ایک نیک شگون ہے۔چین اور پاکستان دونوں بھارت کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کے خواہشمند ہیں مگر بھارت ’’امریکی چوہدری‘‘ ہونے کی وجہ سے فی الحال اسے ناکام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔چین ایران میں بھی مختلف منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ انفراسٹرکچر اور معاشی بہتری کے لئے چین نے ایران کو دس بلین ڈالرز آن لائن کریڈٹ بھی فراہم کیا ہے۔چین اسوقت ایران میں چار سو کلومیٹر طویل ریلوئے لائن تعمیر کر رہا ہے اور مزید 1900کلو میٹرز ریلوئے لائنز کی تعمیر کا پروگرام ہے۔انفرا سٹرکچر کی اس تکمیل کے بعد ان تین مسلمان ممالک اور چین کا رابطہ مشترک ہو جائیگا جس سے آپس کی تجارت بڑھے گی۔ معاشی اور سیاسی مفادات میں انقلابی تبدیلیاں آئینگی۔چین یہ رابطہ ترکی تک بڑھانے کا خواہشمند ہے۔پاکستان کے سابق صدر مرحوم فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے بھی علاقائی تعاون کا خواب دیکھا تھا اور RCD کی بنیاد رکھی جسکے تحت پاکستان ،ایران اور ترکی کو ریلوے لائن سے منسلک کرکے تینوں ممالک کی باہمی تجارت بڑھانی تھی اور بعد میں افغانستان کو بھی شامل کرنا تھا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو تینوں مسلمان ممالک نہ صرف دوستی کے رشتے میں بندھ جاتے بلکہ معاشی طور پر بھی بہت زیادہ مستفید ہوتے مگر افسوس کہ مرحوم فیلڈ مارشل کے بعد ہمارے حکمرانوں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت ہی معاشرے کی بنیاد ہے۔ مضبوط معیشت ، مضبوط معاشرے اور مضبوط ملک کی بنیاد بنتی ہے اور کمزور معیشت کمزور معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ دنیا میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں یا استعماریت پھیلی سب کا بنیادی مقصد معیشت ہی رہا ہے ۔لہٰذاجنوبی ایشیا کی معاشی ترقی اور علاقائی امن کیلئے یہ اتحاد سنگِ میل ثابت ہوگا۔