نواز شریف :گنبدِ بے در کامکیں

30 مارچ 2018

مفاہمت کے سارے دروازے بند ہوچکے ہیںاور یہ سب در ‘ روزن اور دریچے جناب نواز شریف نے اپنے ہاتھوں سختی سے بند کئے ہیں اس پر طرفہ تماشا یہ ہے فلسفی اعتزاز احسن نے مریم نواز کو مزاحمت کی علامت بنا کر بہت اوپر اٹھا دیا اور وہ بے نظیر بھٹو کی راہ چل نکلیں اگر کوئی مزاحمت کا کوئی سوراخ رہ بھی گیا تھا وہ مریم بی بی کی شعلہ بیانی نے بند کردیا ہے۔جناب نواز شریف سیانے اور کایاں سیاستدان ہیں انہوں نے پاناما ہنگامہ شروع ہونے کے بعد اس سکائی لیب سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے تھے جب وہ وزیراعظم تھے پہلا رابطہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کیا تھا قانون پسند جرنیل نے ایک سے زیادہ مرتبہ جناب نواز شریف پر واضح کردیا تھاکہ انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ججوں کے دروازے کھٹکھٹائے نہیں اکھاڑنے تک نوبت پہنچ چکی تھی اب کہا جا رہا ہے کہ واجد ضیا کا بیاں میری بے گناہی ثابت کرتا ہے کیا۔ کوئی اتنا احمق ہو سکتا تھا کہ کوئی سراغ چھوڑ دیتا ہے لیکن یہ فلیٹس’ عزیزیہ سٹیل مل اور گلف سٹیل یہ دولت کا کاروبار کس کا ہے آپ کے صاحبزادوں کا’ تو کھرا آجاکے لندن سے ہوتا ہواجاتی امرا تک پہنچ جاتا ہے۔ویسے عدلیہ کو اپنے معصوم ووٹروں کی نگاہ میں سنگ دل اور ظالم ثابت کرنے کیلئے جو ڈرامہ کھیلا گیا اس پر جناب اعتزاز احسن نے ٹویٹر پرکچھ یوں تبصرہ کیا ہے‘‘مریم نواز اور نواز شریف کا نام’’ECLمیں ہی نہیں تھاتو اجازت لینے کی ضرورت ہی نہیں تھی اگلی پیشی سات دن بعد تھی تو یہ پانچ دن میں عیادت کر کے واپس آسکتے تھے ۔یہ سب ڈرامہ کیا گیا تاکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر کے لوگوں کو عدالت کے خلاف کیا جائے اور خود مظلوم بن جائیں۔اداروں میں بات چیت کس بات پر؟ کرپشن کوئی آئینی نکتہ یا قانونی مسئلہ تو نہیں جس پر قومی مکالمہ کیا جائے ‘ ڈیل کے دن گئے’اب تو ’یوم حساب‘ کی نوید سنائی دے رہی ہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اچانک چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کے چرچے ہیں۔ اس ملاقات کو نوازشریف کی بڑی سیاسی ناکامی سے تعبیر کیاجارہا ہے۔ مسلم لیگ میں (ن) کو برقرار رکھنے کیلئے در در کھٹکھٹانے کی جستجو جاری ہے۔ تادم تحریر کوئی ہاتھ پکڑانے کو تیار نہیں۔ کسی ’این آر او‘ کے حصول کیلئے ابھی تک کامیابی نہ ہونے سے حکمران اشرافیہ اضطراری حالت میں ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بغیر پروٹوکول عدالت عظمی پہنچنے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا استقبال کیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کی تفصیل میں سپریم کورٹ سے سامنے آنے والی تفصیل میں انتظامی امور بیان ہوئے۔ چیف جسٹس کی یقین دہانی تھی کہ عدالت زیرالتوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے کردار ادا کرے گی جبکہ وزیراعظم نے انتظامی امور کی چابکدستی سے انجام دہی کی یقین دہانی کرائی۔ تجزیہ نگار، دانشور اور سیاسی پنڈتوں کی پرواز خیال مگر ان سطور سے کہیں بلند ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور رنگ رنگ کے خیال، توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ حامی اور مخالفین کی اپنی اپنی تشریحات نے افسانوں کے رنگ مزید گہرے کردئیے ہیں۔
’ن‘ لیگی قیادت نواز شریف اور اہل خانہ کو ریلیف دلانے کیلئے کوئی راستہ نکالنے کی بھرپور کوشش میں ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے اسٹیبلشمنٹ کی اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ جہاں سے ،انہیں ’ٹکا‘ سا جواب ملا کہ ’عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میں کوئی مدد نہیں کی جاسکتی۔ نہ ہی عدالتوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔اس جواب کے بعد سے نواز شریف کا لہجہ تبدیل ہوچکا ہے۔ اداروں کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی کی باتوں کے پھول ان کے لبوں سے جھڑنے لگے ہیں۔ ’اپنے وزیراعظم‘ یعنی ’گرو‘ نوازشریف کی ہدایت اور مرضی ومنشا سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی۔
نواز شریف نے خود کو ’سوفیصد نظریاتی آدمی کہا۔ ایک نظریاتی آدمی کی جماعت کے وزیراعظم کی چیف جسٹس پاکستان سے عدالت عظمی میں ملاقات ہوئی ہے۔ کیا یہ ’نوازشریف کے جی ٹی روڈ مارکہ مارچ سے برآمد ہونے والے بیانیے کی نفی نہیں ہے ؟‘ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ کہاں گئے نظریاتی نواز شریف؟ کہاں گیا ان کا بیانیہ؟ یہ سوالات یقینا مسلم لیگ (ن) کے کیمپ کو پتھر کی طرح لگیں گے۔ ستم ظریف حقیقت یہی رہے گی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک ایسے وقت میں چیف جسٹس سے ملے جب ان کی کابینہ کے کچھ وزراء کے مقدمات عدالت عظمی میں زیرسماعت ہیں۔ یہ وزراء اپنے ’قائد‘ نوازشریف کی کہی باتیں دہرارہے ہیں۔ ’نواز شریف بیانیہ‘ کی مالا ’جپنے‘ میں مصروف ہیں۔ (جاری)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...