سینٹ، پنجاب اور نوازشریف

30 مارچ 2018

ہم عدلیہ کی دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں، نہ کبھی عدلیہ کیخلاف لکھا ہے۔ ہم عدالت عظمیٰ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس نے صبر، تحمل اور برداشت اور اعلیٰ ظرفی کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیراعظم جناب نوازشریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔ سماعت کے دوران عزت مآب چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر تنقید سب کا حق ہے۔ اس کی حدود متعین ہیں۔ عدالت نے کہا شاید حد کراس نہیں ہوئی۔ عدالت نے البتہ جناب نوازشریف کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ بہت سارے معاملات ہیں درگزر کرنا پڑتا ہے۔
سابق چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار چودھری کی جماعت کی جانب سے یہ درخواست دی گئی تھی عدالت کا ان کے وکیل سے مکاملہ بھی ہوا۔ جناب جسٹس چودھری کی جماعت ایک ایسا پھول ثابت ہوئی ہے جو بن کھلے مرجھا جاتا ہے۔ عوام میں اس جماعت کو کوئی پذیرائی نہ مل سکی۔ ہم فرض کر سکتے ہیں نیت پر شک نہیں کر سکتے کہ توہین عدالت کی درخواست کے ذریعے جسٹس صاحب ’’ممولے اور شہباز‘‘ کو لڑانا چاہتے ہوں۔ عدلیہ میں اہل اور اہل نظر احباب موجود ہیں۔نوازشریف کونااہل قرار دینا ایک بات ہے لیکن ایک مقبول سیاستدان کیا کرے؟ جو بیانیہ تھا وہ توقع کیخلاف مقبول ہوگیا۔ اب کیا کیا جائے۔ یہ سیاستدان کی مجبوری ہوتی ہے مگر امید ہے کہ عدالت کی اعلیٰ ظرفی کے اظہار کے بعد جناب نوازشریف اور مریم نواز بھی الفاظ کے چنائو میں ضرور احتیاط برتیں گے۔ صوبوں کے درمیان الفت اور احترام کے جذبات ناگزیر ہیں۔ مگر اس کا عملی اظہار بھی ضروری ہے۔ نوازشریف ظاہر ہے پنجاب کے رہنما ہیں اس مرحلے میں KPK سندھ اور بلوچستان، پنجاب کے لیڈر کو جائز اور ناجائز ذرائع سے آئوٹ کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ پنجاب فطری طور پر بڑا صوبہ بننے کیلئے اس نے کوئی ساز باز نہیں کی ہے۔ ایک بڑے صوبے کی حیثیت سے اسکے حقوق بھی زیادہ ہیں۔ پنجاب سے جناب نوازشریف وزیراعظم رہے ہیں تو بلوچستان سے ظفراللہ جمالی بھی وزیراعظم رہے ہیں۔ سندھ سے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، محمد خان جونیجو اور غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے لوگ وزیراعظم رہے ہیں۔ مگر نوازشریف کو حربوں کے ذریعے روکا جا رہا ہے۔ KPK کے حوالے سے عمران خان، سندھ سے آصف زرداری اور بلوچستان سے زرداری کےs Follower نے پوری طاقت لگا دی ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ وہ 2018ء کے الیکشن میں مل کر مسلم لیگ (ن) کے خلاف دائو پیچ کی سیاست کریں گے۔ کیا یہ گیم Fair ہو گا۔ یا سینٹ جیسے حالات درپیش ہوں گے۔
جناب نواشزیف کو احساس ہو جانا چاہئے کہ جس طرح سینٹ الیکشن سے پہلے زرداری صاحب نے بلوچستان گیم شروع کر دیا تھا اوربلوچستان میں ن کی حکومت ختم کرا دی تھی۔ ایسے ہی انوکھے اقدامات وہ اب بھی کرینگے۔
جناب نوازشریف کو JUI کے فضل الرحمٰن جیسے لوگ بہکاتے رہیں گے جناب فضل الرحمٰن، جناب نوازشریف کے قریب بیٹھے ہیں تو نوازشریف خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ اتحادی بن کر کشمیر کمیٹی کے صدر اور دو دو وفاقی وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے اور پی پی نے اعتماد سے باربار اعلان کیا کہ جے یو آئی کے ووٹ ہمیں ملے ہیں۔ یقین دہانی کرائی ہو گی تب نا ؟ فضل الرحمٰن ایک ناقابل اعتبار سیاستدان ہیں فاٹاکے معاملے پر بھی وہ نوازشریف کو Cheat کرتے رہے ہیں۔ یہ جناب نوازشریف کی عادت ہے کہ وہ وفاق میں اقتدار میں ہوتے ہیں تو وفاقی وزارتیں ’’ریوڑیوں‘‘ کی طرح بانٹتے ہیں۔ اچکزئی جو بھی ہیں ساتھ تو نبھاتے ہیں۔ فضل الرحمن ہیں ہی ’’ہرجائی‘‘۔ سندھ میں ایک سیٹ پگارو کو ایک جتوئی کو۔ کتنا ساتھ نبھایا ان لوگوں نے نوازشریف کا۔ سعد رفیق ماہرِ کراچی کی سیاست اور شاید مشاہد اللہ بھی۔ ایم کیو ایم کے قدموں میں لوٹتے رہے حاصل کیا ہوا؟
یہ ہیں اُن لوگوں کے کرتوت جن کو جناب نواز شریف سینے سے لگا کے رکھتے ہیں۔ سینٹ کی سیٹوں کی بھی یہی صورت حال ہے۔ اب جو سینٹ کا ٹکٹ دیا گیا ہے سعد رفیق اور مشاہداللہ کی سفارش پر۔ تو اسد جونیجو کیا کارنامے انجام دینگے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسد جونیجو نوازشریف کو Like کرتے ہوں گے؟عمران خان ایک ہی شہر میں رُکن سازی کے نام پر کئی کئی کارنر میٹنگ کر رہے ہیں کیونکہ پتہ ہے کہ نواز اور مریم نواز جیسے جلسے کرنا ممکن نہیں ہے۔ زرداری 500 سے زیادہ آدمی جمع نہیں کر سکتے۔ اپنے چکر میں اُنہوں نے بلاول کو بھی ضائع کر دیا ہے۔ سندھ میں وہ بھی اندرونِ سندھ چند سیٹوں کے علاوہ باقی صوبوں میں 5سے 10 سیٹیں لے لیں تو بڑی بات ہوگی۔
سینٹ، وفاق کا نام ہے۔ مگر یہ کیا وفاق ہے جس میں سب سے بڑے صوبے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔پنجاب سے سینٹ کے اراکین کو روکنے کی شعوری اور دانستہ کوشش ہوئی تھی۔ نہ نشان۔ نہ ٹکٹ۔ آزاد لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ جناب! یہ پنجاب ہے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ۔ کیا آپ اسے ’’مشرقی پاکستان‘‘ بنانا چاہتے ہیں؟ ’’پاکستان‘‘ میں پہلا حرف ’’پ‘‘ ہے۔ پ سے پنجاب۔ یہ کیا ڈرامہ رچایا جارہاہے۔ نوازشریف پر دہری ذمے داری ہے۔ پاکستان کو بچانا ہے۔ پنجاب کے حقوق کی ضمانت اور حفاظت۔
پاکستان کی بہادر فوج اپنے دلیر اور زیرک سپہ سالار کی قیادت میں سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کیخلاف عالمی سازش ہو رہی ہے۔ یہ ملک اسلامی ملک ایٹمی طاقت کیوں ہے۔ 2018کے الیکشن اہم ہیں۔ الیکشن ہی بہترین راہ ہیں۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن سے مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔