سائبر کرائمز سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے جامع اقدامات کیے ہیں، ناصر جنجوعہ

30 مارچ 2018

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے اسٹرٹیجک اثاثوں کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا بہت اہم ہے، اس لئے ہمیں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے پاکستان نے سائبر سکیورٹی کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں۔ جمعرات کے روز پاکستان انفارمیشن سکیورٹی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام سائبر سکیور پاکستان ویژن 2025 کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ کے فراہمی سے جہاں ہمیں سہولتیں ملتی ہیں وہیں ہماری پرائیوسی کے لئے بڑھتا ہوا خطرہ بھی موجود ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کے خدشات بڑھتے جا ریے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مواصلاتی ،مالیاتی اور روایتی نظام کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ملک کے انفارمیشن سکیورٹی اداروں کو سائبر سپیس کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام اورحکومت کو سائبر سکیورٹی خطرات کی شدت کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ماہرین پر زوردیا کہ وہ اس سلسلے میں سرکاری محکموں اورملک کے عوام کی معاونت کریں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی ملائیشیا کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر امین الدین عبدالواہاب نے کہاکہ ملا ئیشیا نے سائبر سکیورٹی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات کئے ہیں جن میں آٹھ سائبر قوانین اور مقامی جامعات کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔ پاکستان انفارمیشن سکیورٹی ایجنسی کے صدر عمار جعفری نے کہاکہ پاکستان کا مستقبل بروقت ترقی اور ملک میں سائبر سکیورٹی یقینی بنانے سے منسلک ہے۔ دریں اثنا مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ سے صومالی صدر کے مشیر برائے خارجہ امور بلال محمد عثمان نے ملاقات کی ہے، اس ملاقات میں میں پاکستان میں صومالیہ کی سفیر خدیجہ محمد آل مخدومی بھی شریک تھیں۔ اس موقع پر دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں تعاون اور سیکورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔