پاک امریکہ تعلقات، ایک جائزہ

30 مارچ 2018

پاک ۔ امریکہ تعلقات کی کہانی سات دہائیوں پر محیط ہے۔ ایک ایسی داستان جو اس سارے عرصے میں بے پناہ پر پیچ راہوں سے گُزری ہے۔ نشیب و فراز بھی بہت آئے اور سسپینس بھی کچھ کم نہیں رہا۔ ایک ایسی ریلیشن شپ، جس کیلئے ہم نے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی، اور جسے روزمرہ کی بنیاد پر چلایا گیا۔ جو ہمیشہ سے غیر متوازن تھی، جس میں امریکہ کا ہمیشہ اپر ہینڈ رہا، اور ہم اپنی ثانوی حیثیت پر قانع رہے۔ اس دوران بارگیننگ کے مواقع بھی آئے، مگر ’’اچھا دوست‘‘ ہونے کے ناطے ہم نے سیرچشمی کا مظاہرہ کیا اور لگی بندھی ’’تنخواہ ‘‘ پر گزارہ کرتے رہے۔ خدمت گزاری اور وظیفہ خوری کی یہ علّت رفتہ رفتہ ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گئی اور خوئے غلامی کا موجب بنی۔ پاکستان وہ ملک ہے، جسے قدرت نے انمول جغرافیائی لوکیشن عطا کر رکھی ہے، اور جو دنیا بھر کو قریب لانے اور زمینی فاصلے سمیٹنے کیلئے CPEC کی شکل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ ریاست جو خطے میں توازن اقتدار کی علامت ہے، اور غنیم کی لاکھ سازش کے باوجود افغانستان سمیت خطہ میں قیام امن کی ضامن ہے، اور اس حقیقت سے واشنگٹن بھی اچھی طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی دفاعی فورمز کے اجلاس پاکستان کا بالواسطہ اور بلاواسطہ تذکرہ کئے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ کچھ عرصہ پہلے سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی (SASC) کا اجلاس ہوا، تو پاکستان کا ذکر 73 مرتبہ ہوا تھا۔ پاکستان کو سفارتی طور پر انگیج کرنے کی بات ہوئی اور شرکاء کو متنبہ کیا گیا کہ اسلام آباد کو دبائو میں لانے کی کوشش سے فائدہ کی بجائے اُلٹا نقصان ہو گا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر بھی مثبت انداز میں ہو۔ا پچھلے برس (9 مارچ) کو SASC کے ایک اجلاس میں یو ۔ ایس سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے خطہ میں دہشت کے قلع قمع اور امن کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کی خاص طور پر تحسین کی تھی اور کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی سازش پر امریکہ کو تشویش ہے۔ کیونکہ اس سے جنوبی ایشیاء میں جوہری جنگ کے خدشات بڑھ جائینگے۔ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر دبائو مسلسل بڑھتا چلا آیا ہے۔ الزام لگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، دہشت گرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں اور اسلام آباد حقانی گروپ سے مسلسل چشم پوشی کرتا آیا ہے۔ واشنگٹن سے طعنوں کے ساتھ وارننگ آئی کہ اربوں ڈالر وصول کرنے کے باوجود اسلام آباد نے طرزِ عمل نہیں بدلا، اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھائے گا۔ ابتدائی طور پر چار ماہ کیلئے گرے لسٹ میں اس وارننگ کے ساتھ شامل کیا گیا کہ اگر یہی رویہ رہا تو پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائیگا۔ دراصل اس قسم کی صدائیں کچھ عرصہ سے امریکی تھنک ٹینکس سے بھی اُٹھتی آئی ہیں۔ چند ماہ پیشتر ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا ’’ہم‘‘ پاکستان نے امریکی خدشات کا ازالہ نہ کیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ سکتے ہیں۔ اسی ادارہ سے منسلک سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کا تجزیہ یہ تھا کہ اب کی بار امریکہ کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کو کچھ سالڈ کرنا پڑیگا۔ ورنہ واشنگٹن کی طرف سے سخت اقدامات کو رول آئوٹ نہیں کیا جا سکتا۔ موصوف نے فرمایا کہ ’’یہ کوئی نئی بات نہیں ہو گی ، دبائو میں آنے پر پاکستان ہمیشہ سے امریکہ کی خوشنودی کے اقدامات کرتا آیا ہے۔ مگر پاکستان کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کے معاملہ میں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے، تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اوّل یہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات اس قدر کشیدہ ماضی میں کبھی نہیں رہے ۔ دوئم، چین کی جانب پاکستان کے ڈرامائی جھکائو کو امریکہ میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اور اب کی بار وہ اپنے پرانے اتحادی کو شاید آسانی سے راضی نہ کر پائے۔‘‘
پاک۔ امریکہ تعلقات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کے نزدیک باایں ہمہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو توانائی بخشنے والے عوامل کی کمی نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمت پکڑیں اور روایتی خوئے غلامی سے نجات کا حوصلہ پیدا کریں۔ اس حوالے سے بہتری کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی کے برعکس امریکی چتائونی کا کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، بلکہ ڈو مور کا جواب نو مور سے دیا۔ اور چین کے ساتھ اشتراک عمل کے بارے میں بھی واضح کر دیا کہ اس کا پاکستان کو پورا حق حاصل ہے۔ نیز امریکہ کوجان لینا چاہئے کہ پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کی گئی، تو روس، چین ، ایران اور ترکی جیسے خیرخواہ اسلام آباد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ماضی قریب میں پاکستان کو امریکی صدر کی وارننگ کے بعد چین نے واضح کر دیا تھا کہ ’’دہشت گردی کیخلاف جدوجہد میں پاکستان کا کردار بے حد اہم ہے ، جو برسوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیتا آیا ہے۔ عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی جس کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کا فرض بنتا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کاوش کا اعتراف کرے۔‘‘ دشواری یہ بھی ہے کہ وَن بیلٹ ون روڈ (OBOR) کے حوالے سے امریکہ کی پریشانی چھپائے نہیں چُھپتی۔ امریکی وزیر دفاع کی بوکھلاہٹ ملاحظہ ہو کہ سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی (SASC) کو پاک۔ افغان ریجن پر دی گئی ایک حالیہ بریفنگ میں ، موضوع کی بجائے سارا وقت چین کے مجوزہ روڈ نیٹ ورک کیخلاف بولتے رہے، کہ دنیا کو جوڑنے کیلئے بے شمار ذرائع رسل و رسائل جب پہلے سے موجود ہیں، تو وَن بیلٹ، ون روڈ کا شوشہ کیوں؟ اور چین سمیت کس ملک کو اس طرح کا حاکمانہ روّیہ اختیار کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ فی الحقیقت افغانستان امریکہ کیلئے دوسرا ویت نام بنتا جا رہا ہے۔ بے پناہ وسائل خرچ کر کے طالبان کو کابل سے تو نکال دیا، مگر افغانستان سے انہیں بیدخل نہ کیا جا سکا۔ وہ اب بھی ملک کے اکثریتی علاقے پر قابض ہیں اور امریکیوں کیلئے بلائے جان بنے ہوئے ہیں۔ اب جبکہ حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں، تو امریکہ کی بس ایک ہی خواہش ہے کہ کاش کوئی اسے اس جہنم سے نکال دے، جو یقیناًپاکستان کا کام نہیں، اور جو ہنوز اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرنے میں سرگرم عمل ہے۔ ایسے میں اسلام آباد نے واشنگٹن کو معاملہ جنگ کی بجائے سفارتی کوششوں سے نمٹانے کا مشورہ دیا ہے۔ اور یہ بھی واضح کر دیا کہ ہم واشنگٹن کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ضرور ہیں، مگر برابری کی سطح پر پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ کسی دوسری ریاست سے ہدایات نہیں لے سکتا۔ امریکہ ، بھارت کو خطے کا پولیس مین بنانا چاہتا ہے، جس نے پہلے ہی کشمیریوں پر زندگی تنگ کر رکھی ہے۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی دہائی پاکستان 70 برس سے دیتا آیا ہے، مگر عالمی ضمیر بدستور سو رہا ہے۔ یہی نہیں، امریکہ ایک طرف مسلم ممالک، بالخصوص مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کر ر ہا ہے، اور دوسری طرف امریکہ، بھارت، اسرائیل تکون تشکیل پا رہی ہے۔ ایسے میں امریکہ کو مفادات میں اندھا ہونے کی بجائے حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ 70 برس کے نرم، گرم مراسم کو کسی غلط فہمی کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ بدگمانیوں کو دورکر کے باہمی تعلقات کو منظم و مربوط بنانا ہو گا، جو نہ صرف سائوتھ ایشیاء ریجن ، بلکہ عالمی امن کیلئے مفید و معاون ہو گا۔ سیکرٹری خارجہ محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے واشنگٹن میں جن پانچ عدد ورکنگ گروس کو فعال کرنے کی تجویز دی ہے، اس سے بہتر شاید ہی اس وقت میز پر ہو۔

پاک امریکہ تعلقات۔۔۔

پاکستان اور امریکہ کے مابین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد ...