جید عالم دین اور درجنوں کتب کے مصنف مفتی عبدالرحیم سکندری انتقال کر گئے

30 مارچ 2018

شاہپورچاکر /حیدرآباد( نامہ نگاران ) اہلسنت و جماعت کے ممتاز عالم دین متعددکتابوں کے مصنف مفتی عبدالرحیم سکندری مختصر علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے،انکے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد شاہپورچاکر ،کھڈرو، سنجھورو شہر سوگ میں بند رہے ۔وہ 20 سے زائد دینی کتابوں کے مصنف اور مدرسہ صبغت الہدیٰ کے بانی مہتمم تھے۔ مفتی عبدالرحیم سکندری کی نماز جنازہ شاہپورچاکر ہائی اسکول کے گرائونڈ میں ادا کی گئی جس میں سیاسی سماجی اور مذہبی حلقوں کے ہزاروں افراد نے شرکت کی نماز جنازہ درگاہ راشدیہ پیر جو گوٹھ کے مہتمم مفتی محمد رحیم سکندری نے پڑھائی۔ مفتی عبدالرحیم سکندری ضلع خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ کے گاؤں مولا بخش شر میں 1944 میں پیدا ہوئے پیر جو گوٹھ کی مشہور و معروف و دینی درسگاہ جامعہ راشدیہ سے عالم و مفتی کی سند لینے کے بعد وہ پیر پگارا شاہ مردان شاہ ثانی کی خصوصی ہدایت پر شاہپورچاکر آئے اورنیوکالونی میں غوثیہ مسجد و مدرسہ صبغت الہدیٰ کی بنیاد رکھی اور دینی تعلیم دینے کا آغاز کیا انہوں نے سیکڑوں طلباء کو دینی تعلیم دیکر سیکڑوں حفاظ کرام اور علماء کی اپنے ہاتھوں سے دستاربندی کی انہوں نے تفسیر کوثر۔ سیف سکندری۔ تحفتہ المومنین۔ سد سکندری۔ سیف یزدانی۔ امت میں اختلاف کا بانی کون۔ تذکرہ المحافل۔ ذکر عید میلاد النبی سمیت بیس سے زائد کتب لکھیں جبکہ ان کی تیس سے زائد کتب ابھی زیر طباعت ہیں وہ سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں دینی محافل و جلسوں سے خطاب کرنے جاتے تھے ان کے جاری کئے گئے فتوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے ان کے پسماندگان میں چار بیٹے مفتی نور نبی نعیمی،مفتی حق النبی ازہری، عبدالنبی سکندری، پروفیسر ڈاکٹر فضل نبی اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مفتی عبدالرحیم سکندری ایک ہفتہ قبل عارضہ فشار خون کے باعث کراچی لے جائے گئے جہاں وہ مختصر علالت کے بعد 74 برس کی عمر میں رحلت فرماگئے۔ ان کے انتقال پر نظام مصطفی پارٹی کے صدر حنیف طیب ، سابق رکن قومی اسمبلی او رنظام مصطفی متحدہ محاذ کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل محمد عثمان خان نوری نے ملت اسلامیہ کے عظیم نقصان سے تعبیر کیا ہے پاکستان فلاح پارٹی سندھ کے صدر ڈاکٹر خالد اقبال، نظام مصطفی پارٹی کے رہنما سعید امین ایڈووکیٹ ،جمعیت علمائے پاکستان نیازی کے چیف آرگنائزر صاحبزادہ احمد عمران نقش بندی ، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے ٹرسٹی معین خان ،شید ٹرسٹ کے محمد عابد ضیائی، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب صراسداللہ بھٹو،سندھ کے امیرڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی اورجنرل سیکرٹری ممتازحسین سہتو نے ممتازعالم دین مفتی عبدالرحیم سکندری کی وفات پردلی رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اورپسماندگان کے لیے صبروجمیل کی دعا کی ہے۔علاوہ ازیں علاوہ ازیں خیرپورسے نامہ نگارکے مطابق جمعیت علماء سکندریہ پاکستان کے سابق صدرمفتی عبدالرحیم سکندری کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے کی خبر ملتے ہی خیرپور،پیرجوگوٹھ،سٹھارجہ۔گمبٹ۔فیض گنج،نارہ۔کوٹ ڈیجی،رانی پور،ٹھری میرواہ سمیت دیگر شہروں سے لوگ ان کے نماز جنازہ میں شرکت کے لئے ان کے گائوں شاہ پور چاکر پہنچے۔سنی تحریک کے سرپرست مجاہد حسین راجپوت،وحیدالرحمٰن قادری،طاہر قریشی قادری،جمعیت علماء سکندریہ پاکستان کے سابق مرکزی رہنماء و سیکرٹری جماعت اہلسنت تحصیل کنگری خطیب رضا جامع مسجد پیرجوگوٹھ علامہ محمد حسن راجپوت سکندری۔جماعت اہلسنت کے صوبائی رہنماء مولانا گل حسن اجن،قادری تحریک کے سرپرست سید سردار علی شاہ جیلانی قادری،الغوثیہ اسکائوٹس کے محمد دین ابرار ۔محمد حسین اویس سومرو،جاوید اختر راجپوت،تحریک عاشقان مصطفیٰ کے سرپرست سید محمد انور احمد ،صدرجھانزیب راجپوت،پاکستان سنی تحریک کے جاویدرزاق راجپوت،محمد قاسم یاسین،عندلیبان مصطفیٰ کے ندیم شمسی ،محمد اطہر صدیقی،نور محمد عباسی،اسحاق چشتی سمیت دیگر نے مفتی عبدالرحیم سکندری کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کے لئے فاتحہ خوانی اور بلند درجات کے لئے دعا کی اور کہاکہ مفتی عبدالرحیم سکندری کے انتقال سے سندھ ایک ممتاز عالم دین سے محروم ہوگیا ہے یہ خلا کبھی بھر نہیں سکتا۔