شرکت ِ میانہ حق وباطل نہ کر قبول !

30 مارچ 2018

مکرمی !23 مارچ 1940 ء کو بانی پاکستان کی قیادت میں منٹو پارک لاہور (اب مینار پاکستان) میں ایک تاریخی جلسہ میں لاکھوں مسلمانوں نے یہ قرارداد منظور کی کہ ہندوستان میں جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انہیں ایک الگ ریاست کی صورت میں آزادی دی جائے مسلمانانِ ہندوستان کی یہ قرارداد چھ سالوں کے اندر اندر ہی انکی اعظیم جدوجہد تھیں بفضل ربی حقیقت کا روپ دھار گئی اس عظیم جدوجہد نے بہت سے مجاہدین ، ٹیپوسلطان اور 1857 ء جنگ آزادی تک کے لاکھوں مجاہدین کا خون شامل تھا بالا ٓ خر 14 اگست 1947 ؁ء کو عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت پاکستان کی صورت میں ثمر آور ہو کر سامنے آ گیا یہ دن ہندو بینے کے سینے پر آج بھی مو نگ دلتا ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے ایک انٹر ویو میں علیٰ وجہ البصیرت کہہ دیا تھا کہ ’’ پاکستان اسی روز وجو دمیں آ گیا تھا جب ہندو ستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا دیکھیئے اس عظیم قائد نے ایک جملے میں کتنی بڑی تاریخی حقیقت بیان کر دی یہ کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں اور مسلمان اپنے الہامی اسلامی نظریے کی بنیاد پر ہندئووں کے ساتھ کسی ایسے نظام کے تحت اکھٹے نہیں رہ سکتے جس میں ہندئووں کو غلبہ حاصل ہو 1857 ؁ء کی جنگ آزادی میں ہندئووں سکھوں کا مسلم دشمن کردار ا ُردو جو ہندئووں اور مسلمانوں کی مشترکہ زبان تھی اس کے برخلاف دیو ناگری ہندی کو قومی زبان بنانے کی ہندئووانہ تحریک1937 ء میں ہندواکثریتی صوبوں میں قائم ہونے والی کانگرسی حکومتوں کے مسلمانوں پر بدترین مظالم اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوتے ہی کانگریس کی ’’ ہندئوستان چھوڑد و ‘‘ تحریک تاکہ انگریز دبائو میں آ کر ہندوستان کا اقتدار ہندو کانگریس کے حوالے کرکے یہاں سے نکل جائیں یہ وہ عوامل تھے جہنوں نے برصغیر میں مسلمانوں کی ایک الگ ریاست کے معرض وجود میں آنے کا پورا پوراجواز پیدا کر دیا تھا ۔(محمد عثمان طورusmantoor.jrw@gmail.com)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...