عوام دشمن ’’خودساختہ عوامی نمائندوں‘‘ کو منظر عام پر لانے کی ضرورت

30 مارچ 2018

مکرمی!کہا جارہا ہے بجلی کا بحرانختم ہونے کو ہے، اللہ کرے ایسا ہی ہو، یہاں بجلی سے متعلق شکایات کی ورق گردانی کرنا مقصود نہیں، بلکہ ان حقائق کی نشاندہی کرنا مقصود ہے جو کہ ’’بجلی‘‘ کے ’’سرکاری اداروں‘‘، کی صورت میں کسی منصوبہ بندی اور افسر شاہی کی بے حسی اور عوامی مسائل و شکایات بارے عدم توجہی کا شکار ہیں۔ مثلاً ’’الیکٹرک ہائیڈرو واپڈا‘‘ اور ’’الیکٹرک سپلائی کمپنی ‘‘ ۔ یہاں اس مؤخر الذکر ادارہ کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے، جس میں لاتعداد نااہل، خوشامدی اور سفارشی لوگوں کی بھرتیاں کی گئی ہیں، جو کہ اپنے ناجائز مطالبات کی آڑ میں آئے روز ’’ہڑتالوں ‘‘ اور ’’تالہ بندیوں‘‘ پر اکساتے اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ان کو خودساختہ تشکیل کردہ یونینوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ مذکورہ یونینوں کے دفاتر کی آن بان، ان ’’محلاتی عمارات‘‘ سے مشاہبہ ہیں اور جن کے قرب و جوار میں بڑی بڑی قیمتی گاڑیاں کھڑی ان مفلوک الحال، عوام کا منہ چڑھا رہی ہوتی ہیں۔ اس ’’منظر کی تصویر کشی‘‘ ان ’مفلوک الحال، عوام‘‘ کے لیے وبال جان سے کم نہیںجو ان کی اپنے فرائض کی ادائیگی سے عدم دلچسپی ، تساہل اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے نت نئی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ بل میں میٹر کی تصویر لگانے کا سلسلہ سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں کہ تصویرصاف نہیں ہوتی اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ صارف کا میٹر کچھ اور ہوتا ہے تصویر کچھ اور لگی ہوتی ہے۔ محکمے کی بدنامی کا باعث بننے والی ان کالی بھیڑوں اور ان کے سرپرست خودساختہ یونین لیڈروں کو بے نقاب کرکے محکمانہ کارروائی کی ضرورت ہے۔ (امتیاز علی خان ترین‘ نسبت روڈ لاہور)