’’سر جی! بابا اِک واری رونق لا دیندا اے‘‘

30 مارچ 2018

ہمارے دوست میاں رشید صاحب کا تعلق تاجر برادری سے ہے ان کا کاروبار بہت وسیع تو نہیں، لیکن ایک درمیانے درجے کے تاجر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کی کمائی میں اتنی برکت دی ہے کہ وہ اکثر غریب اور مستحق لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں اس روز میں اپنے کچھ مہرباں دوستوں سے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں گپ شپ کر رہا تھا کہ مجھے فون پر میاں رشید صاحب کی بیماری کی اطلاع ملی۔ مجھے بتایا گیا کہ انہیں دل کی تکلیف ہوئی تو گھر والے انہیں فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں چند گھنٹے زیر علاج رکھا اور پھر مکمل آرام کا مشورہ دے کر گھر بھیج دیا۔ میں نے اپنے مہربان دوستوں سے اجازت لی اور دفتر سے باہر کوئنز روڈ پر رکشہ کا انتظار کرنے لگا۔ رات کو اس طرف خالی رکشہ بہت کم ملتا ہے۔ بہرحال کچھ دیر انتظار کے بعد ایک خالی رکشہ ادھر سے گزرا میں نے پوچھا کہ ٹائون شپ جانا ہے، مین مارکیٹ کے پاس، کتنا کرایہ لو گے؟ یہ سن کر اس نے عجیب بے نیازی سے جواب دیا نہیں سر جی! بہت تھک گیا ہوں اتنی دور اور اس طرف کی سواری نہیں چاہیے میں تو اپنے گھر راوی روڈ کی طرف جا رہا ہوں یہ سن کر مجھے قدرے حیرت اور کچھ مایوسی بھی ہوئی کیوں کہ میں جلد میاں رشید صاحب کے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے معمول سے کچھ زیادہ کرایہ ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ مگر وہ نہ مانا اور روانہ ہونے لگا تو میں نے اسے کہا کہ بھائی صاحب! میری مجبوری ہے میرے ایک دوست کو دل کی تکلیف ہوئی ہے۔ میں اس کی بیمار پرسی کے لیے جانا چاہتا ہوں ذرا ہمت کر لو، وہاں کچھ دیر تم انتظار کرنا، پھر میں تمہارے ساتھ راوی روڈ کی طرف بھی جائوں گا کیوں کہ اس سے بھی کچھ آگے میر ا گھر ہے۔ معقول کرایہ ادا کر دوں گا۔ اس کے علاوہ بیمارپرسی کرنے میں میری مدد کرنے پر اللہ تعالیٰ بھی تم سے خوش ہو گا۔
اسے خوش قسمتی کہیئے کہ وہ مان گیا اور ہم ٹائون شپ کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں، میں نے تجسس کے مارے پوچھا کہ تم رات کو رکشہ نہیں چلاتے؟ اس نے جواب میں کہا چلاتے ہیں چلاتے کیوں نہیں جی، رات کو بھی رکشہ نہ چلائیں تو گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ میں نے دوسرا سوال کیا کہ پھر آج کیا بات ہوئی کہ تم نے گھر کا رخ کر لیا۔ ابھی تو رات کے دس ہی بجے ہیں؟ یہ سن کر اس نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور اپنے سامنے لگے ہوئے آئینے میں سے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بتایا کہ آج ذرا دیہاڑی لگ گئی ہے۔ ایک سواری لے کرائیر پورٹ گیا تو وہاں سے فوراً شہر کی سواری مل گئی پھر مجھے ایک وکیل دوبارہ ایئر پورٹ لے گیا آج ان کا چیف جسٹس اسلام آباد سے آ رہا ہے ایئر پورٹ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود دو وکلاء کہنے لگے کہ لاہور کی متعدد جگہوں پر جانا ہے پھر واپس بھی آنا ہے میں خوش ہو گیا کہ چلو لمبی سواری مل گئی ہے مگر فوراً ہی خیال آیا کہ کرایہ طے کر لوں۔ میں نے پوچھا کہ سر جی! دو اڑھائی گھنٹے لگ جائیں گے مجھے کیا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ کرایہ کی فکر نہ کرو، تمہیں خوش کر دیں گے۔ بس تم ہمیں ہماری مطلوبہ جگہوں پر لے جائو۔ جہاں سے ہمیں گلاب کی پتیاں یا گلاب کے ہار مل جائیں۔ میں یہ سن کر چل پڑا۔ پانچ جگہوں سے بڑی مشکل سے گلاب کی پتیاں اور ہار ملے اور ہم لوگ واپس ایئر پورٹ آ گئے معلوم ہوکہ کہ چیف جسٹس کا جہاز لاہور پہنچ گیا ہے گلاب کے پھولوں کی پتیاں لے کر ہم بروقت واپس آ گئے تھے وہ بڑے خوش ہوئے اور مجھے ہزار روپے دے کر چلے گئے۔ میری دیہاڑی لگ گئی تھی۔ پھر وہاں سے ایک سواری گلبرگ والی مل گئی اسے لے کر واپس چل پڑا اور پھر مین مارکیٹ سے خالی واپس آ رہا تھا کہ آپ مل گئے۔ میں نے یہی سوچا کہ اپنے گھر راوی روڈ کی سواری ملی تو اٹھائوں گا۔ ورنہ سیدھا گھر پہنچوں گا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ تم روزانہ کتنا کما لیتے ہو؟ اس نے بے زاری سے جواب دیا کہ بس جی، بڑی مشکل سے گزارا ہوتا ہے کبھی دیہاڑی لگ جاتی ہے اور کبھی بڑی مشکل سے رکشے کا اور اپنا خرچ پورا ہوتا ہے پھر اس نے مجھ سے سوال کر دیا کہ آپ شاید اخبار کے دفتر میں کام کرتے ہیں ذرا بتائیں کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔ ہمارا کیا حشر ہو گا؟ کیا اچھا وقت بھی آئے گا؟ میں نے اسے کہا کہ اگر ہم سب لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہو جائیں تو بہت جلد اچھا وقت بھی آ جائے گا۔ وہ بتانے لگا کہ وکیل کہہ رہے تھے کہ چیف جسٹس صاحب نے آج کل ایک مشعل روشن کی ہے جس کی روشنی ہمیں سیدھا راستہ دکھائے گی۔ حالات بھی تبدیل ہوں گے اور اچھا وقت بھی آئے گا۔ میں نے کہا! کہ اس ملک میں مختلف طبقے اور مختلف قوتیں مصروفِ عمل ہیں دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے اور آنے والے وقت میں کیا سامنے آتا ہے؟ وہ کہنے لگا: سر جی! معلوم نہیں کیا ہو گا مگر چیف جسٹس صاحب کے پیچھے اتنی خلقت جس طرح پاگل دکھائی دیتی ہے۔ اس سے تو ہمیں لگتا ہے کہ ’’بندہ اچھا ہے ‘‘ اس نے سرکاری افسروں اور کافی حد تک سیاستدانوں کو تو کافی سیدھا کر دیا ہے بڑے دبنگ مگر سُلجھے ہوئے انداز کے ساتھ اپنے حکم کی تعمیل کرواتا ہے، افسروں سے،… یہ ساری خلقت اسی لیے دل سے اس کا استقبال کرتی ہے جہاں بھی وہ جاتا ہے۔ میں خود بھی لاہور میں ان کا انتظار کرتا ہوں جب وہ آتے ہیں تو ان کی ایک جھلک کا منتظر رہتا ہوں، ذرا توقف کے بعد اس نے مجھے سے پوچھا سر جی! کیا خیال ہے چیف جسٹس صاحب آج کے کوڑھ زدہ، نااہل اور کرپشن آلود معاشرے میںہمارے پیارے وطن جس کے لیے ہمارے بڑوں نے بہت قربانیاں دیں، جس کے لیے سب کچھ نچھاور کر دیا، کے واسطے کوئی بہتری کی صورت بنا پائیں گے؟
اس کا یہ سوال بڑا اہم تھا اور نہایت فطری انداز میں پوچھا گیا تھا۔ میں خود کو اسے حتمی طور پر کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں سمجھتا تھا، کیوں کہ یہ بات تو میرے ذہن میں بھی واضح نہیں تھی کہ چیف جسٹس کیا کوئی تبدیلی لا سکیں گے یا نہیں؟ مجھے کچھ الجھن سی ہونے لگی تھی جیسے کوئی ذہین بچہ کسی بڑے سے بعض اوقات ایسے سوالات بھی پوچھنے لگتا ہے کہ ان کا جواب دنیا انتہائی مشکل اور نا ممکن لگتا ہے۔ میں نے رکشے والے سے کہا۔ گولی مارو ان باتوں کو، کوئی اور بات کرو۔ یہ سن کر وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا۔ شاید آپ نے میری بات کا برا منایا ہے۔ معافی چاہتا ہوں۔ ویسے میرے دل میں جو بات تھی، وہی میں نے پوچھی تھی، چلیں چھوڑیں۔
ذرا ٹھہر کر اُس نے اپنے سامنے لگے آئینے کو مجھ پر فوکس کرنے کے لئے ایک بار پھر سیدھا کیا۔ پھر ہنستے ہوئے کہنے لگا۔ ’’کُج وی ہوئے۔ جو ہووئے گا، ویکھیا جائوے گا۔
میں تے بس ایہو سمجھیاں واں کہ ایہہ چیف جسٹس کوئی ’’بابا‘‘ جیہا لگدا اے۔
ایہہ جتھے وی جاندا اے، اِک واری تے رونق لا دیندا اے‘‘… سر جی! چیف، چیف ای ہوندا ایہہ، بے شک اوہ فوج دا ہووے یا عدلیہ دا… اور میں اُس کی یہ بات سن کر ایک مرتبہ پھر دائیں بائیں دیکھنے پر مجبور ہو گیا۔

ہر اِک ذرّے

ہر اِک ذرّے میں ہے شاید مکیں دلاسی جَلوَت میں ہے خَلوَت نشیں دلاسیرِ دوش و ...