احد چیمہ کیخلاف 2 افسروعدہ معاف گواہ بن گئے، سابق چیف ایگزیکٹو این ٹی ڈی سی رسول محسود گرفتار

30 مارچ 2018

لاہور (نوائے وقت نیوز+ این این آئی) آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں احد چیمہ کیخلاف ایل ڈی اے کے 2 افسر وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ چیف انجینئر اسرار سعید نے انکشاف کیا احد چیمہ کی ہدایات پر کاسا ڈویلپرز کو ٹھیکہ دیا۔ چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید اور عارف مجید بٹ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ دونوں ملزم وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، ان سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں۔ نیب کی جانب سے کہا گیا کہ ملزموں کی جانب سے دیا گیا تحریری بیان ٹرائل شروع ہونے پر پیش کیا جائے گا، وعدہ معاف گواہ بننے پر چیئرمین نیب نے قانون کے تحت انہیں معاف کر دیا۔ ملزم کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ نیب کی جانب سے معاف کرنے کے بعد ملزموں کو ضمانت پر رہا کیا جائے جبکہ عدالت نے کہا کہ قانونی تقاضا پورا کرنے کے لئے انہیں ہائیکورٹ سے ضمانت کرانا پڑے گی۔ ملزموں نے بیان دیا کہ احد چیمہ کے کہنے پر بغیر ٹینڈر ٹھیکے دئیے، احد چیمہ ڈی جی ایل ڈی اے ہونے کے باعث دباؤ میں آئے اور انکار نہیں کر سکے۔ دوسری جانب آشیانہ اقبال سکینڈل میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نیب آفس لاہور پیش ہو گئے جبکہ پیراگون سٹی سکینڈل میں صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ خواجہ سلمان رفیق نیب آفس تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ ادھر نیب لاہور نے سابق چیف ایگزیکٹو این ٹی ڈی سی رسول خان محسود کو گرفتار کر لیا گیا۔ ترجمان نیب لاہور کے مطابق ملزم پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے حکومتی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ملزم رسول خان محسود 2010-12 کے درمیان ایم ڈی پیپکو تعینات رہا، تعیناتی کے دوران ملزم کی جانب سے ٹرانسفارمرز کی خریداری کی مد میں حکومتی خزانے کو 13270 ملین کا نقصان پہنچایا گیا۔ دوران تفتیش ملزم کی جانب سے ٹرانسفارمرز کی خریداری کی مد میں کاغذات میں ردوبدل کا انکشاف ہوا۔ ملزم رسول خان محسود کی کاغذات میں ردوبدل سے نیب افسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔ ترجمان کے مطابق سابق چیف ایگزیکٹو کی دیگر شریک ملزمان سے ملی بھگت سے مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زیادہ مالیت کا ٹینڈر پاس کروایا گیا۔ نیب لاہور کی جانب سے 2015ء میں ملزموں کیخلاف کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں داخل کیا گیا۔ ملزم رسول خان کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب کی جانب سے جاری کیے گئے۔ ترجمان نیب کے مطابق رسول خان کی گرفتاری 27 مارچ کو عمل میں لائی گئی تھی البتہ خبر میڈیا میں شیئر لیٹ کی گئی اس کی وجوہات میں ملزم کی جانب سے سپریم کورٹ میں وارنٹ گرفتاری کو منسوخ کرانے کی استدعا تھی جسکی باقاعدہ طور پر تصدیق کرائی جانی چاہئے۔ نیب ان معاملات میں کسی بھی قسم کی سیاست کو شامل کرنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی ایسے کیسز میں دور تک سیاست کا کوئی تعلق ہے۔
سلمان رفیق/ فواد حسین