سمسٹر سسٹم

30 مارچ 2018

جتنی تیزی کے ساتھ ملک میں طلباء اور ہائیرایجوکیشن میں ڈگریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسی تیزرفتاری کے ساتھ تعلیم کی کوالٹی اور طلباء وطالبات کی اخلاقیات میں گرواٹ دیکھنے میں آرہی ہے اس کے زیادہ تر ذمہ دار اساتذہ نظر آتے ہیں جن کو سمسٹر نے اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ وہ کسی بھی طالب علم کے مستقبل کو بلا خوف و خطر داؤ پر لگا سکتے ہیں اور غیر جانبدار مارکنگ کرنے پر اس کی درستگی کے لئے جتنا ایک طالب علم کو تذلیل کا سامنا کرنا پڑے گا اتنی محنت کرکے تو ایک اچھا تھیسز کیا جاسکتا ہے۔ ملک میں سمسٹر سسٹم متعارف کروانے کا مقصد تھا کہ ایسا نظام متعارف کروایا جائے جو تدریس، تحقیق اور ایجادات کے لئے معاون ثابت ہوسکے مگر اردگرد کے حالات پر نظر دوڑا کر پرسکون ہو کر ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا اس سسٹم کے ذریعے ہم نے اپنے بچوں میں نئی صلاحیتیں پیدا کی ہیں یا ان کو لکیر کا فقیر بنا کر ایسی لکیر پر سفر کرنے کا پابند کر دیا ہے کہ اگر انہوں نے اس لکیر سے ہٹنا تو درکنار اس کے اطراف میں دیکھنے کی بھی کوشش کی تو ان کو ایسی نوعیت کی سزا ملے گی جو ان کے مستقبل کو تاریک کرکے رکھ دے گی اور جن حالات میں طلباء وطالبات اپنی ڈگریاں مکمل کررہے ہیں یہ وقت ان کو دوبارہ کسی صورت نہیں مل سکے گا وقت تو ویسے کسی بھی حالت میں واپس نہیں آتا لیکن ایام جوانی کے وقت میں انسان کے اندر ایک ایسی توانائی ہوتی ہے جو اس کو تسخیر کے لئے ابھارتی ہے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم طلباء کو تسخیر کے طریقوں کی بجائے تاخیر کے حربے سیکھا رہے ہیں جو کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوگا دنیا میں اس وقت جس تیزی کے ساتھ تحقیق کی مدد سے قومیں ترقی کررہی ہیں اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی مگر ہمارے ہاں حالات اس کے الٹ ہیں ہم ایم فل اور پی ایچ ڈیز تو پیدا کررہے ہیں مگر ہمارے مسائل کا حل نہیں نکل پارہا پاکستان میں ٹیکسٹائل کا شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سال اربوں روپے کا زرمبادلہ کام کے ملک کی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے مگر جس تیزی کے ساتھ اس شعبہ کو ملک سے کاٹن کی صورت میں خام مال کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات پوری نہیں کر پارہے حالانکہ ہمارے ہاں زرعی تعلیم کے لئے خصوصی طور پر یونیورسٹیز بنائی گئی ہیں مگر یہ ادارے کپاس کی گرتی ہوئی پیداوار کو روکنے میں ناکام نظر آرہے ہیں جس کا فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے اور پاکستان کے صنعتکاروں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت سے کروڑوں روپے کی کپاس گزشتہ چند سالوں میں درآمد کی ہے بھارت کی لدھیانہ یونیورسٹی کے ایک استاد جو کہ فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے بات کرتے ہوئے پاکستان کی زراعت پر ایک فقرہ کہا کہ جب ہم پڑھتے تھے تو کلاسز کھیتوں میں ہوتی تھی مگر اب کلاسز ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں ہوتی ہیں اس لئے جب طالبعلم کھیت میں آنے سے ڈرے گا تو زراعت کیسے ترقی کرے گی۔ طلباء و طالبات کا کہنا ہے کہ سمسٹر سسٹم کی بدولت اکثر اساتذہ ان سے غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں اساتذہ تو دور کی بات گیٹ پر کھڑے سکیورٹی گارڈز جن کی ذمہ داری ہی سٹوڈنٹس کی حفاظت کرنا ہے وہ بھی طلباء کو اس طریقہ سے ڈیل کرتے ہیں جیسے ہم۔ان کے زر خرید غلام ہوں اور اگر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت کی جائے تو وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر شکایت کرنے والے سٹوڈنٹس کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور ادارہ جات کے افراد بھی ایسے سٹوڈنٹس کی بجائے جو کہ اس ملک کا مستقبل ہیں ایسے منفی عناصر کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ کوئی طالب علم بھی دوبارہ آواز اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔ سمسٹر سسٹم کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کی بدولت سٹوڈنٹس پر سالانہ سسٹم کی طرح پورا سال کورس کا بوجھ نہیں رہتا مگر اس سسٹم نے طلباء کو سوال کرنے کی طاقت اور عملی تحقیق سے کافی حد تک محروم کردیا ہے اگر طالب علم سوال کرے اور استاد کو ناگوار گزرے تو وہ سوال کو طالب علم کی جانب سے بدتمیزی تصور کرتا ہے جس کے بعد اس طالب علم کے لئے اپنے تعلیمی مستقبل کو کم از کم اس سمسٹر میں تابناک بنانا مشکل ہوجاتا ہے اسی طرح اگر تحقیق کے مراحل میں بھی طلباء اپنے سپروائزر سے اختلاف رائے رکھ تو بھی اس کا تھیسز مشکل میں پڑ جائے گا اور اس کے لئے ڈگری کا حصول مشکل ہوتا جائے گا۔ سمسٹر سسٹم میں استاد کو خوش رکھا جانا بہت ضرور ی ہے اس کی سالگرہ کب ہے اس کو کھانے میں کیا پسند ہے اور وہ کس قسم لباس پہننا پسند کرتے ہے ایسی معلومات کسی بھی طالب علم کے مستقبل کو روشن کر سکتے ہیں۔سب اساتذہ ایسے نہیں ہیں مگر جس بھی طالب آتے بات کرو وہ اپنے اساتذہ کے رویے سے تنگ نظر آتے ہیں اوران کے نزدیک کورس ورک توجہ دینے کی بجائے ان کو استاد کے شیڈول اور موڈ پر توجہ دینی پڑتی ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی اساتذہ کی بہت ساری ناگوار باتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے حالانکہ ایسی باتیں اساتذہ کے شایان شان نہیں ہوتی مگر سٹوڈنٹس جواب دینے کی بجائے خون کے گھونٹ پینے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ سمسٹر سسٹم نے استاد کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے اور یہ سسٹم ہی ایسا طوطا ہے جو کے کسی بھی طالب علم کے مستقبل کی سانسیں بند کرسکتا ہے۔ بہت سے ذہین سٹوڈنٹس صرف اس لئے پوزیشن نہیں پاتے کہ اساتذہ ان کی محنت کی بجائے طالب علم کی شخصیت کو پسند نہیں کرتے جو سراسر زیادتی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمسٹر سسٹم پاکستان جیسے ملک کے لئے بھی بہت بہتر ہے لیکن اس کے لئے ہم کو استاد کا ہونہار اور غیر جانبدار ہونے کو یقینی بنانا ہوگا اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب سربراہان ادارہ جات اور ہائیرایجوکیشن کمیشن کسی بھی قسم کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت میں ملوث استاد کو فوری سزا کا طریقہ کار متعارف نہیں کرواتا۔ ان تمام حالات پرنظر دوڑانے کے بعد ہمیں بہتری کے لئے کوشش کرنا ہوگی ناکہ تنقید برائے کے معاملہ میں پڑ جائیں جو کہ ان دنوں ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے اور قومی کھیل ہاکی کے ساتھ ہم لوگ سیاسی اور بیوروکریٹک کھیل کھیل رہے ہیں۔

سمسٹر سسٹم کے اثرات

جتنی تیزی کے ساتھ ملک میں طلباءاور ہائیرایجوکیشن میں ڈگریوں کی تعداد بڑھ رہی ...