سفیر پاکستان غلام دستگیر کی جانب سے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ

30 مارچ 2018

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد زمیندار کی قیادت میں 14رکنی وفد کے اعزاز میں سفیر پاکستان غلام دستگیر نے عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں کویتی وپاکستانی تاجروں اورکویت میں اعلی عہدوں پر فائز افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہاکہ پاکستان سے سرمایہ کاری کرنے کے انتہائی مفید مواقع موجود ہیں پاکستان سے سرمایہ کاری کا وفد اس سلسلہ میں کویت آیا ہے،وفد کے اراکین نے کویتی سرمایہ کاروں کو تمام تفصیل آگاہ کیا ہے آپ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی چیئرپرسن ناہید میمن نے کہاکہ پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے یہاں پر سرمایہ کاری کرنا سرمایہ کاروں کے خواب کی تکمیل ہوگی کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے یہاں پورے سندھ میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں کراچی میں اگر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔سیالکوٹ چیمبر کے ملک نصیر احمد نے کہاکہ سرمایہ کاروں کو پاکستان کی سیکیورٹی کے حوالے ڈرایا جاتا ہے میں وثوق سے کہتاہوں پاکستان میں کسی قسم کا کوئی سیکیورٹی ایشو نہیں آپ آئیں ہم آپ کو ویلکم کریں گے اور آپ کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ سیالکوٹ میں تمام سرجیکل آلات۔فٹ بال۔لیدر جیکٹس۔کرکٹ کا سازوسامان اور تمام اشیاء آپ کو سیالکوٹ سے مل جائیں گی جس کی آپ تمنا رکھتے ہیں سیالکوٹ میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں اس وقت یہ شہر تجارتی مرکز بن چکاہے۔یہاں دنیا کا واحد پرائیوٹ ائیرپورٹ موجود ہے اور اب سال ائیر لائنز بھی اپنے اختتامی مراحل میں ہیں یہاں بھی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد نعیم زمیندار نے کہاکہ پاکستان میں پیک اس وقت سرمایہ کاری کے لئے ایک تجارتی جنت بن چکا ہے دنیا کے سرمایہ کاروں کی خواہش ہے کہ یہاں سرمایہ کاری کی جائے ہم چاہتے ہیں کویتی سرمایہ کار اس نادر موقع سے استفادہ کریں کیونکہ کویتی سرمایہ کاروں نے پہلے بھی پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اب مزید سرمایہ اس طرف متوجہ ہوں۔ پنجاب انویسٹمنٹ کے رانا وقاص نے وقت نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب کاروباری لحاظ سے ایک بہترین جگہ ہے جہاں قدرتی وسائل موجود ہیں اور زرخیر زمین ہے فیکٹریوں کے لئے سب کچھ ہے اس لئے ہم نے کویتی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پورے پاکستان اور صوبوں کی اہمیت کے بارے بتایا ہے۔ کویت آنے کا مقصد یہی تھا کہ یہاں سرمایہ کاروں کو پاکستان کی اہمیت سے آگاہ کیاجائے کہ اس وقت پاکستان معاشی طورہر بڑی اہمیت کا حامل ہوچکاہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکاہے کویتی سرمایہ کار ہمارے دیرینہ ساتھی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں بھی پاکستان کا تجارتی و سرمایہ کاری کے لحاظ سے ساتھ دیا ہم انہیں سی پیک کے بارے آگاہی دینا مقصود تھا جو ہم نے انہیں دی ہے بہت سے سرمایہ کار پاکستان آنے کی خواہش رکھتے ہیں ہم نے ان کے خدشات کو دور کیا ہے اورانہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے پاکسان بیرونی سرمایہ کاروں کے آسان اور پائیدار قوانین کو بنائے گے تاکہ ان کو کسی قسم کا قوانین مشکلات سے2چار نہ ہونا پڑے پاکستان آہستہ آہستہ اپنی منزل کے قریب تر ہوتا جا رہاہے۔اس موقع پر کویتی تاجروں اور سرمایہ کارواں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔آخر میں شرکاء کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔