ملاقات میں کھویا نہیں پایا‘ فریادی کو سننا میرا کام: چیف جسٹس

30 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) مری غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سائل گھر چل کر آئے تو سننا پڑتا ہے، ملاقات میں فریاد سن لی مگر کچھ دیا نہیں، وکلاء برادری عدلیہ اور ان پر بھروسہ رکھے۔ ملک میں جوڈیشل این آر او آرہا ہے نہ جوڈیشل مارشل لا آ رہا ہے۔ ملک میں صرف آئین رہے گا باقی کچھ نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ میں مری میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ گزشتہ روز کی ملاقات سے کچھ کھویا نہیں بلکہ پایا ہی ہے، اپنے ادارے اور وکلاء کو مایوس نہیں کروں گا، عدلیہ اور مجھ پر اعتبار کریں، میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے، میری ذمہ داری ہے کہ سائل کی تکلیف کو سنوں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس روز جسٹس (ر) عبدالرشید والی صورتحال تھی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سر عبدالرشید ملاقات کیلئے خود گئے لیکن میں نے ان کے گھر جانے سے انکار کیا، سائل در پر آئے تو فریاد سننا پڑتی ہے، پتہ نہیں اسے کیا تکلیف ہو۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کی تکلیف کا سب کو پتہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مری غیرقانونی تعمیرات کیلئے 2 شخصیات کو کمشن مقرر کیا جا سکتا ہے، کمشن کے جج، ریٹائرڈ جج عبدالستار یا پھر شریعت کورٹ کے جج مقبول باجوہ کے نام موصول ہوگئے ہیں، غیرقانونی تعمیرات کا معاملہ کمیشن بنانے سے ہی حل ہوگا، اس دوران کمشن کے ٹی او آرز بنالیتے ہیں،عدالت نے متعلقہ حکام سے معاملے پرآئندہ منگل تک رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سی ڈی میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے کہا ٹی وی پر بیٹھ کر آپ بھی بہت باتیں کرتے ہیں، عدلیہ پر جو جائز تنقید ہے کرنی چاہیے، جائز تنقید سے ہماری اصلاح ہوگی، کراچی میں چیف جسٹس سے متعلق اشتہارات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے، اگر آج پابندی لگادوں تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہوجائے گا، نعیم بخاری نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء بارے بہت باتیں ہورہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل این آر او ہوتا کیا ہے، اگر میں کہوں کچھ نہیں آ رہا تو پھر آپ کیا کہیں گے؟ میں واضح کردوں کچھ نہیں آرہا، ملک میں جوڈیشل این آر او آرہا ہے نہ جوڈیشل مارشل آرہا ہے، ملک میں صرف آئین رہے گا باقی کچھ نہیں ہوگا، ملک میں صرف جمہوریت ہو گی باقی کچھ نہیں رہے گا۔
اسلام آباد/ حجرہ شاہ مقیم/ شاہ مقیم چک/ اوکاڑہ (نمائندہ نوائے وقت+ نامہ نگاران) سپریم کورٹ میں حجرہ شاہ مقیم اوکاڑہ کے علاقہ میں گندے پانی سے گزرنے والے جنازہ کی تصویر سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کو علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی علاقے کے ممبر صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم پی اے ملک سے باہر ہیں، عدالت کی شہر کی صفائی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو اچھی زندگی کی فراہمی کی کوشش کریں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ سیوریج کا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن عدلیہ نے حکم امتناع دے رکھا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ سیوریج کا کام کریں حکم امتناع کی پرواہ نہ کریں، درخواست گزارنے عدالت کو بتایا کہ اڈہ کی زمین پر چیئرمین میونسپل کمیٹی کا قبضہ ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ آنے دیں اگر چیئرمین کے قبضہ میں سرکاری اراضی ہوئی تو واگزار کروا لیں گیے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں سے جنازہ گزراوہ جگہ اس قابل نہیں تھی کہ جنازہ گزر سکے۔ چئیرمین صاحب آپ کے علاقے میں یہ کیاہو رہاہے۔ چیئرمین میونسپل کمیٹی حجرہ شاہ مقیم کا کہنا تھا کہ جب سے عہدہ سنبھالاہے یہی حال ہے تاہم اب حالات پہلے سے بہتر ہورہے ہیں دوہفتوں میں مزید بہتری آجائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سوا سال سے آپ نے کچھ ٹھیک نہیں کیا،علاقے میں ہر طرف گندگی کے ڈھیرنظر آتے ہیںآپ کے علاقے میں قبضہ مافیاکی شکایات بھی ہیں۔ واقعتاً یہ کام میرے کرنے کے نہیں ہیں،یہ فلاحی ریاست ہے،فلاحی ریاست بنانا ایگزیکٹو کاکام ہے، بنیادی حقوق کاتحفظ عدلیہ نے کرناہے۔ بنیادی حقوق کے معاملات پر عوام عدالت جاتے ہیں تو کیا مداخلت ہوجاتی ہے، معاملات میں مداخلت کے لیے یہاں نہیں بیٹھے مقامی ایم این اے ایم این اے راؤ اجمل بھی عدالت میں پیش ہوئے جنہیں مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت کا شوق نہیں، ایم این اے صاحب آپ کے علاقے میں کیا ہو رہا ہے، میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کی مدد کریں یہ آپکا علاقہ ہے، لوگوں کی بہتری کے لیے علاقے کا وزٹ کریں، ہماری ذاتی دلچسپی تو نہیں ہے،خود دیکھیں وہاں سے جنازہ گزر سکتا ہے؟ یہ آپکا علاقہ ہے مسائل آپ نے حل کرنے ہیںلوگوں کو اچھی زندگی کی فراہمی کی کوشش کریں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سیوریج کا کام کرنا چاہتے ہیں۔لیکن عدلیہ نے حکم امتناع دے رکھا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیوریج کا کام کریں حکم امتناع کی پرواہ نہ کریں۔درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا کہ اڈہ کی زمین پر چیرمین میونسپل کمیٹی کا قبضہ ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ آنے دیں اگر چیئرمین کے قبضہ میں سرکاری اراضی ہوئی تو واگزار کروا لیں گے۔ عدالت نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کو علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دے دیا اور کہا کہ ماتحت عدلیہ سیوریج سے متعلق کیس ایک ہفتہ میں نمٹائے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہسپتال کے معاملات پرنوٹس لے کرایگزیکٹواپناکام نہیں کرے گی تو کیا عدلیہ کانوٹس لینا مداخلت ہے۔ کیا بنیادی حقوق پرنوٹس لیناغلطی ہے ۔سندھ میں 4ہزار سکول ہیں وہاں پانی کی ٹوٹی نہیں ہے۔ کیا یہ ہماری غلطی یامداخلت ہے۔ میں توایگزیکٹوکامعاون بننے کے لیے تیار ہوں اور آپ کی مدد کے لیے کسی کو بھی پکڑنے کوتیار ہوں۔ سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ سیوریج سے متعلق کیس ایک ہفتہ میں نمٹائے، عدالت نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کو علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ کیس کی سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے۔ دریں اثناء چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو فریادی نہیں کہا۔ جوڈیشل این آر او آ رہا ہے نہ جوڈیشل مارشل لائ۔ ملک میں آئین اور جمہوریت کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ ترجمان سپریم کورٹ نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب بیان کی وضاحت کر دی۔ ترجمان نے کہا ہے کہ فریادی کا لفظ غلط طور پر چیف جسٹس سے منسوب کیا گیا۔ چیف جسٹس نے وزیراعظم کیلئے فریادی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔