پاکستان کا آبدوز سے داغے جانیوالے کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ

30 مارچ 2018

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان نے آبدوز سے داغے جانے والے کروز میزائل بابر کا گزشتہ روز کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس تجربہ کی خاص بات یہ ہے کہ میزائل کو زیر آب ایک متحرک پلیٹ فارم سے داغا گیا جس کے ساتھ ہی پاکستان نے جوابی ایٹمی حملے’’سیکنڈ سٹرائیک‘‘ کی صلاحیت کو بھی مزید مستحکم بنا لیا ہے۔ یہ میزائل ساڑھے چار سو کلو میٹر تک ہر قسم کے وار ہیڈ کو ہدف پر پھینک سکتا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملکی ساختہ کروز میزائل بابر اس تجربہ کے دوران داغنے جانے اور پرواز کے ہر طرح معیارپر پورا اترا اور اس نے ہدف کو مکمل درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ زیر آب داغے جانے والے بابر میزائل کو پانی کے اندر پروپلشن ،ایڈوانس گایئڈنس، اور نیویگیشن نظاموں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کو ’’سیکند سٹرائیک‘‘ کی استعداد فراہم کرتا ہے اور میزائل تجربہ سے یہ صلاحیت اور مستحکم ہوئی ہے۔اس میزائل کی تیای اور تجربہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پڑوس میں ایٹمی آبدوزیں متعاف کرانے اور بحری جہازوں پر ایٹمی میزائلوں کی تنصیب سے جس طرح بحر ہند کو ایٹمی خطہ بنانے کی جارحانہ پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں،پاکستان ان کا جواب دے سکتا ہے۔پاکستان سمجھتا ہے کہ خود انحصاری کی بنیاد پر یہ کامیاب تجربہ کم از کم ایٹمی ڈیٹرنس کے حصول کی جانب مزید پیشرفت ہے۔ڈی جی ایس پی ڈی، چیئرمین نیسکام، بحریہ کی سٹریٹجک کمان کے سربراہ اور سائنسدانوں اور انجینئرز نے یہ کامیاب تجربہ دیکھا۔ صدر، وزیر اعظم اور چیئرمین جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز نے اس کامیاب تجربہ پر سائنسدانوں ، انجینئرز اور دیگر عملہ کو مباک باد دی۔