سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل معاملہ پر حکومتی کمیٹی کو کام سے روک دیا

30 مارچ 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان نے گرینڈ حیات ہوٹل کے معاملے پر حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کو کام سے روکتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے ٹی او ارز طلب کر لیے ہیں، جبکہ عدالت نے سی ڈی اے کو جواب داخل کرنے کاحکم دیتے ہوئے انٹراکورٹ اپیل پر حکم امتناع جاری کرنے کافیصلہ معطل کردیا ہے۔ بروز جمعرات گرینڈ حیات ہوٹل سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گرینڈ حیات ہوٹل کامعاملہ ہائی کورٹ میں زیرالتواہے، چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ انٹراکورٹ اپیل میں زیرالتواہے، اگر تو ایگزیکٹوزیرالتوامقدمے پر کمیٹی کیسے بناسکتی ہے، کیااس انداز سے سمجھوتاہوسکتاہے، وزیراعظم نے کس اختیار کے تحت کمیٹی تشکیل دی، کیاعدالتی فیصلے کوختم کرنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی، ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل کی تعمیرکوغیرقانونی قرار دیا عدالتی فیصلے کوکمیٹی کی تشکیل سے ختم نہیں کرسکتے سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ میرانہیں خیال کوئی کمیٹی بنی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی سی ڈی اے کے پاس اختیار نہیں عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرے وزیراعظم کی بنائی کمیٹی کومعطل کردیتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کدھر ہیں انہیں بلا لیں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلہ پر جسٹس رضا خان کی رپورٹ کی روشنی میں عمل کیوں نہ ہوا، کس کو31کروڑ روپے دئیے گئے ہمیں معلوم ہے بعد ازاں عدالت نے سی ڈی اے کوجواب داخل کرنے کاحکم دے دیا۔