جسٹس یحییٰ آفریدی کی معذرت‘ پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کی سماعت کرنیوالا بنچ ٹوٹ گیا

30 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیٰی آفریدی کی معذرت کے بعد سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے خلاف سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا ہے۔ خصوصی عدالت کے بنچ نے سماعت کئے بغیر حکم نامہ اپنے چیمبر میں تحریر کرکے جاری کیا۔ ملزم پرویز مشرف نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو مقدمہ سے الگ ہونے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ جسٹس یحیی آفریدی جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل رہ چکے ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس یحیی آفریدی نے بطور وکیل پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کے ایکشن کو چیلنج کیا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف آئین شکنی کیس میں خصوصی عدالت کا بنچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا، خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس یحیی آفریدی نے مشرف کے وکیل کے اعتراض پر مقدمہ سننے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 3 نومبر کے اقدام کے خلاف بطور وکیل درخواست دائر کی تھی، انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ سے علیحدگی اختیار کی، عدالت پرویز مشرف کی گرفتاری سے متعلق 8 مارچ کا حکم نامہ بھی واپس لے۔ عدالت کے تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا سابق چیف جسٹس کے وکیل ہونے کا الزام حقائق کے منافی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی تین نومبر 2007 کے اقدامات کے خلاف صرف شریک پٹیشنر تھے، انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، غیر جانبداری اور فیئر ٹرائل کو یقینی بنانے کیلئے جسٹس یحییٰ آفریدی خود کو اس کیس سے الگ کر رہے ہیں۔ جاری ہونے والے حکم نامے میں کیا گیا ہے اعتراض لگایا گیا کہ الزام حقائق کے برعکس ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی کبھی افتخار چوہدری کے وکیل نہیں رہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے 3 نومبر کے اقدام کے خلاف بطور وکیل درخواست دائر کی تھی، انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ سے علیحدگی اختیار کی، حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے عدالت کے پرویز مشرف کو انٹر پول کا 8 مارچ 2018 کا فیصلہ متفرق درخواست ذریعے واپس ہو سکتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ تھے جبکہ جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی بنچ کے ممبر تھے۔