قابل اعتراض مواد ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں، چیف جسٹس

30 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان میں میڈیا پر فحش مواد نشر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت،فاضل عدالت نے متعلقہ ادارے پیمرا کو کونسل آف کمپلین میں دائر شکایت پر 90دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے ۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ٹی وی چینل پر فحاشی نہیں ہونی چاہیے، کسی ٹی وی چینل پر ڈانس کا نوٹس لیا تھا، نوٹس لینے پر پیمرا نے ایکشن لیا، بہتر ہوگا پیمرا اس معاملے پر پہلے خود کچھ کرے، فحاشی کی کوئی حتمی تعریف نہیں دے سکتا، فحاشی کے حوالے سے عدلیہ تو لغت کی تعریف پر انحصار کرتی ہے۔ ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا کہ بی بی سی، سی این این پر مہدب عدسہ لگا کر دیکھیں تو کوئی فحاشی نظر نہیں آئے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا کے قانون میں قابل اعتراض مواد نشر کرنے کی سزا کیا ہے؟اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے کہا کہ مرحوم قاضی احمد نے میڈیا پر فحاشی سے متعلق درخواست دائر کی، قاضی حسین احمد کے انتقال کے بعد انکے ورثا کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ٹی وی چینل فیملی اور بچے بھی دیکھتے ہیں، بعض اوقات ٹی وی چینل دیکھتے ہوئے قابل اعتراض مناظر پر بچوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا بظاہر یہ بڑا ایشو ہے، یوٹیوب کے مواد کو روک نہیں سکتے، ٹی وی چینل کو پیمرا نے ریگولیٹ کرنا ہے، پیمرا سے رپورٹ مانگ لیتے ہیں قابل اعتراض مواد پر کیا کیا؟پیمرا کے پاس اختیار ہے، کسی کو شکایت ہے تو پیمرا سے رجوع کرے،ٹی وی چینلز قابل اعتراض مواد پر ایکشن نہ لے تو متعلقہ فورم موجود ہیں،یہ حکم دیا جا سکتا ہے کہ پیمرا قابل اعتراض مواد کی روک تھام کرتے ہوئے نوٹس لے ہمارے ٹی وی چینلز پر عریانی اور فحاشی والہ مواد نہیں ہونا چاہیے، اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہیں، قابل اعتراض مواد کی ٹی وی چینلز پر کسی صورت اجازت نہیں ہے، بعدازاں عدالت نے متعلقہ ادارے پیمرا کو شکایات پر 90 میں فیصلہ دے ۔ عدالت نے میڈیا پر فحش مواد کیس نمٹا دیا۔