سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس‘ 50 ارب 50 کروڑ مالیت کے 33 منصوبوں کی منظوری

30 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) منصوبہ بندی کمیشن کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 50 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کے 33 منصوبوں کی منظوری دے دی گئی جبکہ 22 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کے 2 منصوبے حتمی منظوری کے لئے ایکنک کو بھیج دئیے گئے۔ ایک منصوبہ نیشنل گرڈ سسٹم کے ساتھ گوادر اور مکران کو منسلک کرنے کا ہے جس پر لاگت 14 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ اجلاس میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی میں نیشنل ڈیوائس ڈویلپمنٹ سنٹر کے قیام کے لئے 23 کروڑ 18 لاکھ روپے لاگت کے منصوبے کو منظور کر لیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں 500 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتال اور میڈیکل کالج کے قیام کے لئے 8 ارب 40 کروڑ روپے لاگت کے منصوبے کو منظور کر لیا گیا۔ کوہاٹ کینٹ میں ایف جی ڈگری کالج فار بوائز کالج کے لئے 19 کروڑ روپے لاگت کا منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کے قیام‘ زرعی یونیورسٹی پشاور میں جدید ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ سنٹر کے قیام‘ نارووال یونیورسٹی کی بحالی‘ گورنمنٹ یونیورسٹی کالج فیصل آباد کے چنیوٹ کیمپس کی تعمیر کے منصوبہ کو بھی منظور کر لیا گیا۔ اس منصوبے پر ایک ارب 91 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ نیشنل سنٹر آف بیسک سائنسز کے قیام کے لئے 2 ارب 43 کروڑ روپے کا منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ فار بوائز بلتستان ریجن کے قیام کے لئے 60 کروڑ لاگت کا منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا۔ کراچی بلدیہ کے فائر فائٹنگ کے نظام کو بحال کرنے کے لئے 60 کروڑ روپے لاگت کا منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا۔ گوادر میں موحولیاتی صفائی‘ کچرے کو ٹھکانے لگانے‘ کراچی لاج ون کی توسیع‘ رحیم یار خان‘ ٹیلاس کینال ڈویژن سپلائی بند کی توسیع‘ کوئٹہ میں زمینی پانی کے ری چارج کرنے‘ ضلع خضدار میں وڈھ سٹوریج ڈیم کی تعمیر کے منصوبے بھی منظور کر لئے گئے۔