نواز شریف سے عوام 2018 کے انتخابات میں حساب لیں گے بلاول بھٹو

30 مارچ 2018

کراچی/ٹھٹھہ/ گھا رو(اسٹاف رپو رٹر، نا مہ نگا ران) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دھا بیجی کے قر یب، کراچی ، ٹھٹھہ دو رویہ سڑک کا باضابطہ افتتاح کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، صوبائی وزراء، پارٹی رہنماءبھی مو جو د تھے اور انہوں نے سڑک کا فیتہ کاٹ کر اس کا افتتاح کیا۔بعد میں انہوں نے سڑک کا دورہ کیا اس موقع پر ان کی گاڑی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ چلارہے تھے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2018 کے انتخابات میں کامیاب ہو کر سندھ کے عوام کی خدمت کرے گی، پاکستان پیپلزپارٹی اپنے نشان اور طاقت اور نظریے پر انتخابات لڑے گی۔نواز شریف سے عوام 2018 کے انتخابات میں حساب لیں گے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس مضبوط اور بااصول جج ہیں ، وہ انصاف کے راستے پر چلنا جانتے ہیں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی مناسب آدمی ہے میں ا±ن کو کہوں گا کہ وہ چیئر مین سینٹ کے لیے اپنے ریمارکس واپس لیں۔انہوں نے کہا کہ مشرف کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بہت واضح بیان دیا ہے، وہ جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کیٹی بندر کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کی تھی اور پیپلزپارٹی اور میں نے چائنا میں بھی کیٹی بندر کو شامل کرنے کی بات کی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی واحد جما عت ہے جو دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتی ہے اور پاکستان پیپلزپا رٹی ہی ملکی معیشت کو سنبھا ل سکتی ہے اور فارن پا لیسی بھی سنبھا ل سکتی ہے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم اورچیف جسٹس کی ملا قات میں چیف جسٹس متاثر نہیں ہوا ہوگا۔ واضح رہے کہ اس منصوبے کا آغاز سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ موڈ کے تحت 2015 میں شروع کیا۔ جامع بڈنگ کے عمل کی کامیاب تکمیل کے بعد سندھ حکومت نے معروف فرنٹریئر ورک آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر 2 مئی 2016 کو سڑک کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا۔ منصوبے کا اسکوپ محدود ہے جسے 49.5 کلومیٹرز ترقی دے کر گھگھر پھاٹک تا مکلی بائی پاس ٹھٹھہ تک دو رویہ سڑک تعمیر کی گئی ہے۔منصوبے میں 15 پ±ل ، 3 پیڈسٹیرن پ±ل اربن سینٹر میں ، 12 بس اسٹاپ اور اس کے ساتھ ساتھ شہروں اور دیہات کو روٹ کے ساتھ ملانے کے لیے سڑکیں شامل ہیں۔یہ منصوبہ 20 مہینے کی ریکارڈ مدت میں 8.85بلین روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے اور 25 سالوں کے لیے ڈی بی ایف او ٹی موڈ یعنی ڈیزائن ، بلٹ، فنانس، ا?پریٹ اور مینٹین کی بنیاد پر ایف ڈبلیو او دیکھ بھال کرے گا۔ اس نئے کوریڈور سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا ا?غا ز ہوگا اور اس سے 50منٹس تک وقت کی بچت ہوگی۔
بلا ول بھٹو