سٹی کونسل کے اجلاس میں اپو زیشن کی ہلڑ بازی ایوان مچھلی بازار بنا رہا

30 مارچ 2018

کراچی( اسٹاف رپورٹر) کے ایم سی کونسل کے اجلاس میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی او رہلڑ بازی کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے کونسلروں نے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی اور شور شرابہ کیا۔ اس دوران میئر کراچی کی حامی سیاسی جماعتوں او رایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے کونسلر خاموش تماشائی بنے رہے نعرے بازی کے بعد اپو زیشن نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن کے ارکان جلوس کی شکل میں ایوان میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد واپس چلے گئے۔ اپوزیشن کے جانے کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی اور بہت دیر تک جاری رہی۔ جس کو میئر کراچی اور ایوان نے کامیاب قرار دیا۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف او رجماعت اسلامی کے کونسلر وں جانے کے بعد میئر کراچی اور کونسلروں نے حکومت سندھ کے خالف دل کی بھڑاس نکالی اور کراچی میں گندگی کا ذمہ دار حکومت سندھ کو قرار دیا۔ کے ایم سی کونسل کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو اتھا قبل ازیں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل کا اجلاس جمعرات کی دوپہر میئر کراچی وسیم اختر کی صدارت میں منعقد ہوا اس موقع پر 14قراردادوں کو منظور کیا گیاجن میں سے 3قراردادوں کو کثرت رائے جبکہ 11 قراردادوں کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، اتفاق رائے سے منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں ایوان کی توجہ نیپرا اور کے الیکٹرک کے عوام دشمن اقدامات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ، نیپرا کی ملی بھگت سے کے الیکٹرک کی جانب سے اہلیان کراچی پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے، کے الیکٹرک کی نئی پالیسی کے تحت 120 گز کے مکان پر 3 فیز میٹر لگائے جائیں گے، جس پلاٹ پر 4 میٹر ہوں گے وہاں بسبار میٹر (Basbar Meter) لگائے جائیں گے اور ان میٹر کی ادائیگی صارف پر ڈالی گئی ہے لہٰذا آج کا اجلاس کے الیکٹرک کے مندرجہ بالا اقدامات کراچی کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک عوام دشمن اقدامات سے بازم رہے،میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کے ساتھ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ کرکے ظلم کر رہی ہے اور اب رات کے اوقات میں بھی کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جس کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی میں شہریوں کا جینا بہت مشکل ہو رہا ہے ،انہوں نے کے الیکٹرک کو کہا کہ وہ اضافی دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے گریز کرے ، میئر کراچی وسیم اختر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کونسل کے بعض اراکین کا یہ شروع سے طرز عمل رہا ہے کہ وہ اجلاس کو سبوتاژ کریں اور یہاں موجود بلدیاتی نمائندے جو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کونسل اجلاس میں شریک ہوتے ہیں انہیں بھی ناکام کیا جائے اور شہریوں کے مسائل بھی حل نہ ہونے پائیں انہوں نے کہا کہ یہ پیسہ کراچی کے عوام کا پیسہ ہے جو ہم کسی کو کھانے نہیں دیں گے، اس پیسے میں پورے کراچی کا حصہ ہے اور پورے کراچی میں ترقیاتی کام مکمل کرائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مجھے عوام نے پورے کراچی کے لئے میئر منتخب کیا ہے میں چند مخصوص علاقوں کا میئر نہیں ہوں لہٰذا جو ترقیاتی کام لیاقت آباد اور ناظم آباد میں ہوں گے وہی ترقیاتی کام ضلع غربی اور کیماڑی کے علاقوں میں بھی ہوں گے انہوں نے کہا کہ جو بات میں آج اس فورم سے کہہ رہا ہوں وہ کرکے بھی دکھاﺅں گا گو کہ ہمارے پاس وہ تمام تر وسائل موجود نہیں ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے پاس عزم ہے اور کام کرنے کی طاقت ، لہٰذا ہم اس عزم کے ساتھ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے شہر کے مسائل کو حل کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے 2017-18کے لئے جو ترقیاتی اسکیمیں دیں وہ صوبائی حکومت نے منظور نہیں کیں مگر بحرحال جو اسکیمیں رکھی گئیں ہیں انہیں آئندہ دو ڈھائی سالوں میں منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی، میئر کراچی وسیم اختر نے بعض ممبران کی جانب سے توجہ دلانے پر کہا کہ شہر میں آوارہ کتوں کے خاتمے کے لئے انڈس اسپتال اور کے ایم سی کے مابین ایک معاہدہ تشکیل پا چکا ہے جس کے تحت کام کرتے ہوئے کتوں کو جان سے مارنے کے بجائے ایسی ادویات دی جائےں گی کہ جن سے ان کی مزید نسل آگے نہ بڑھ سکے اور دی گئی دوا کے بعد ان کے کاٹنے سے ربیز کی بیماریاں نہ پھیلیں، اجلاس سے کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی ،حسن نقوی ،امان اللہ آفریدی نے بھی خطاب کیا ۔
سٹی کونسل اجلاس