پاکستان 84 ارب ڈالر کا مقروض‘ پیسے کا مصرف کہیں نظر نہیں آتا‘ چیئرمین نیب

30 مارچ 2018

اسلام آباد(نا مہ نگار) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ’’ِِ احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ بدعنوانی ایک ناسور ہے جس کے خاتمہ میں ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے، تمام انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق عمل جبکہ کرپشن سے متعلق شکایت کنندگان کی شکایات کو نیب قوانین کے مطابق نمٹایا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھلی کچہری میں عوامی شکایات کی سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین نیب نے لوگوں کی انفرادی شکایات تحمل سے سنیں اور ان کی شکایات قانون کے مطابق نمٹانے کیلئے موقع پر احکامات جاری کئے۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ آج ملک تقریباً 84 ارب ڈالر کا مقروض ہے مگر اس قرض کے پیسے کا مصرف کہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ صرف نیب نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود کرپشن سے انکار کرے بلکہ اپنے اردگرد رہنے والے افراد کو بھی اس کینسر سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری بنائی ہے جس سے نیب کی انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو نے قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ 289 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔
چیئرمین نیب