آئی کیپ کے تحت عالمی یوم خواتین پر سیمینار، ویمن اچیومنٹ ایوارڈز تقسیم

30 مارچ 2018

کراچی(نیوز رپورٹر)انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنس آف پاکستان (آئی کیپ) کی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ویمن کمیٹی کے تحت عالمی یوم خواتین منایا گیا۔ اس سلسلے میں ایک تقریب بدھ کی شام آئی کیپ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں چارٹرڈ اکاؤنٹسی کے پیشے میں اعلیٰ خدمات انجام دینے والی خواتین کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ویمن اچیومنٹ ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیا نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں فیصلہ سازی کے ساتھ بزنس اور سیاست میں بھی برابری کا مقام دینا ہو گا۔ اکاؤنٹنسی شعبے میں خواتین چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس نے اپنی مثالی مہارت کا مظاہرہ کرکے نئی خواتین طالبات کے لیے بھی اس پیشے کو اختیار کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ صدر آئی کیپ نے کہا کہ عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ہمیں یہ عہدکرنا چاہیے کہ ہر شعبے میں مرد اور خاتون کو برابری کا مقام دیا جائے۔ سی ای او اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک شہزاد دادا نے 2030 تک مختلف کاروباری شعبوں میں خواتین کو شرکت کو 50 فیصد تک لانے کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہاکہ ان کا بینک صنفی امتیاز ختم کرنے میں حائل رکاوٹیں دور کر رہا ہے۔ خواتین اب اس بدلتی دنیا میں اپنا کردار منوا رہی ہیں۔ اگرچہ 2030 تک خواتین کی کاورباری شعبوں میں 50 فیصد شرکت بہت مشکل ہدف ہے لیکن یہ ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر شعبے میں خواتین کی شرکت تقریبا 50 فیصد ہے لیکن ایک کارکن کے طور پر ان کی شمولیت صرف 25 فیصد ہے۔ ہمیں ملکی معیشت میں خواتین کارکنوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہو گا۔ اس موقع پر چیئرپرسن چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ویمن کمیٹی حنا عثمانی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے قیام کے پہلے ہی سال بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ کمیٹی کااہم مقصد خواتین کی رکنیت کو آسان بنانا اور ان کی پیشہ وارانہ ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ حنا عثمانی نے بتایا کہ انہیں پروفیشنل خواتین کو دفاتر میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم وہ انہیں آگے لانے کے لیے گھر سے کام کرنے کی سہولت دینے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ تقریب میں ، پریس فار پروگریس، کے موضوع پر مباحثہ بھی ہوا۔