چوتھی بار وزیراعظم بننے کی تیاری

30 مارچ 2018

حکومت نے یہ محکمہ بھی اپنے لئے بنایا ہو گا اور اس سے کئی کام بھی لئے گئے ہونگے مگر ہمارے دوست شعیب بن عزیز بھی یہاں ڈی جی پی آر تھے۔ شعیب کے ذمے جو کام بھی ہو وہ پوری صلاحیت محنت اور خلوص سے کرتا ہے۔
آج کل ”ریٹائر“ ہے مگر اس کا رابطہ صحافیوں اور لکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اکثر سرکاری ملازم یا افسر کام چلاتے ہیں۔ کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہی پاکستان کا حال بھی ہے مرے قبیلے کے سردار منیر نیازی نے کہا تھا۔
تیرے جیسے تو آتے رہتے ہیں
آتے رہتے ہیں جاتے رہتے ہیں
بڑے بڑے صحافی یہاں رہے ہیں اس لئے کہ صحافت اُن کی اپنی برادری ہے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ آجکل وہاں شاہد اقبال ڈی جی پی آر ہیں۔ وہاں ایک خاتون افسر نبیلہ سے بھی بات ہوئی۔ میں ان دونوں کی شائستگی اور دوستانہ مروت سے بہت متاثر ہوا ورنہ صحافیوں کے ساتھ گزارا کرنا حکومت کے لئے اتنا آسان نہیں ہوتا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار کی ملاقات کے تذکرے اور ان پر تبصرے ہر کہیں ہو رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ملاقات شاہد خاقان عباسی نے اپنے طور پر نہیں کی ہو گی۔
یہ کوئی بہت گہری اور معنی خیز سیاست ہے اور اس کا جو چرچا ہورہا ہے۔ یہ کوئی عام ملاقات نہیں ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں یہ کوئی خاص ملاقات بھی نہیں ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ خاص اور عام کے درمیان کیا ہوتا ہے۔ شاید سیاست یہی ہے۔
کیا وزیراعظم اور چیف جسٹس اس طرح ملے ہونگے جیسے کسی دوست کو ملیں جس سے روز ملتے ہیں۔
اس پر بھی غور کرلیا جائے کہ اس سے پہلے بھی شاید کوئی ملاقات ہوئی ہو؟ میری طرف سے یہ جملہ معترضہ ہے اور اسے میں نے کئی لوگوں سے سنا ہے۔ کبھی عدلیہ اور حکومت میں اس طرح کے حالات نہیں بنے جو آجکل بن رہے ہیں اور بنائے جارہے ہیں۔
ہمیشہ غیرجمہوری حکومتوں کے لئے عدلیہ نرم مزاجی سے کام لیتی رہی ہے۔ آخر نوازشریف نے کچھ تو کیا ہوگا کہ اُن کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ آیا۔ مجھے تو ان کالم نگاروںکے ساتھ ہمدردی ہے جو صرف نوازشریف کی مدح میں کالم نگاری کرتے ہیں۔
تین بار وزیراعظم بننا کوئی کم بات نہیں یہ بہت فائدہ مند سیاست ہے۔ مگر اب کے جس طرح وزیراعظم نااہل کئے گئے وہ بہت لوگوں کے لئے حیران کن اور کچھ لوگوں کے لئے پریشان کن ہے اب جو بھی نوازشریف کر رہے ہیں ان کے خیال میں چوتھی بار وزیراعظم بننے کی تیاری ہے۔ وہ بڑی جارحانہ تقریریں کر رہے ہیں۔
میری ان سے گزارش ہے کہ وہ جارحانہ تقریریں نہ کریں۔
نوازشریف اس بار تو تین چوتھائی اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ انہیں ثابت کرنا چاہئے تھا کہ وہ واقعی اتنے ہی مقبول ہیں۔ مگر انہوں نے کبھی کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ بھٹو صاحب کا بھی ایسا ہی انجام ہوا۔ مجھے عمران خان کے لئے بھی ڈر لگتا ہے۔ اللہ رحم کرے۔
٭٭٭٭٭