معذوری کے شکار بچوں کو اسکولوں تک رسائی نہیں ملتی‘ یونیسکو

30 مارچ 2018

کراچی(نیوز رپورٹر) مستقبل کے پاکستان میں معذوری کے شکار افراد نظر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، یونیسکو کے مطابق پاکستان میں معذوری کے شکار پندرہ لاکھ بچوں کو اسکولوں تک رسائی نہیں ملتی، یہ بات ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے آراگ آڈیٹوریم میں "ڈیویلپنگ انکلوسو ایجوکیشن ان پاکستان" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، کانفرنس سے صوبائی سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر اقبال حسین درانیِ، صوبائی سیکریٹری خصوصی تعلیم احسن منگی، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر جاوید میمن، برٹش کونسل کے نمائندے محمد علی، برطانوی محقق ڈاکٹر ڈینی کریم رائے، ڈینیز ہاشم، ڈاکٹر نبیلہ سومرو، ناصرہ فیضِ، ساجدہ محمود اور دیگر نے بھی خطاب کیا، پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف فیزیکل میڈیسن اینڈریہیبلیٹیشن نے برٹش کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے تین سالہ ریسرچ پروجیکٹ میں اہم کردار کیا ہے،اساتذہ کی تربیت کے لیے بھی انہیں کام کرنا ہے، صوبائی سکریٹری تعلیم ڈاکٹر اقبال حسین درانی نے کہا کہ ہمیں صوبے کے چالیس ہزار اسکولوں میں بچوں کو لانے کا چیلنج بھی درپیش ہے، حکومتِ سندھ کے منظور شدہ ایکٹ کے مطابق ہر بچے کے لیے تعلیم اب لازمی ہے، معذور بچوں کی تعلیم کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن سندھ احسن منگی نے کہا کہ دو ہزار تیرہ کی مردم شماری میں معذور افراد کی تعداد 27ملین بتائی گئی تھی، مگر حالیہ مردم شماری میں معذور افراد کی تعداد اب تک نہیں بتائی گئی، اگلے برسوں میں تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کے لیے اعداد و شمار نہایت ضروری ہیںِِ، انہوں نے کہا کہ آنے والی تعلیمی پالیسی میں معذور افراد کے لیے جامع تعلیم کو نمایاں اہمیت دی جائے گی۔