جامپور… جو ایک شہر تھاعالم میں انتخاب!!

30 مارچ 2018

دلّی جو صدیوں سے آج تک ہندوستان کا دارالحکومت ہے۔ ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کا مرغوب شکار رہا ہے۔مشہور کہاوت ہے کہ دلّی ہر سو سال بعد ضرور اُجڑتا تھا۔ جسکے نتیجہ میں وہاں کے امرائ،شرفائ،اہل ثروت،غرباء غرض ہر طبقہ طرح طرح کی مصیبتوں میں گھر جاتاتھا۔لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لئے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا۔اُن شرفاء میں اس وقت کے عظیم شاعر میر تقی میر بھی تھے۔جو دلّی کے کوچہ چیلاں میں رہتے تھے۔ جنہیں احمد شاہ ابدالی کے پے در پے حملوں کی وجہ سے نواب آصف الدولہ کی دعوت پر مجبوراً لکھنئوہجرت کرنا پڑی۔بے سرو سامانی کی حالت میں جب دربار میں پہنچے تو مایوسی کی تصویر بن کر ایک کونے میںچپ چاپ بیٹھ گئے۔ چلبلے اور با نکے لکھنوی درباریوں نے ایک فقیر کوویران حال دیکھا توکن ا کھیوں سے اشارے کرنے لگے کچھ ہنسنے لگے۔ کچھ نے پوچھ ہی لیا میاں کون ہو؟ کہاں سے آئے ہوَ ؟ میر نے ایک ٹھندی سانس لی اور آہستہ سے بھرائی آواز میں بولے:
کیا۔ بود باش پوچھو ہو پورب کے باسیو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی ۔۔۔جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اُسی اُجڑے دیار کے
قاریئن سوچ رہے ہونگے کہ کہاں دلّی اور کہاں جامپور ؟ جی ہاں ۔ دلّی اور جامپور میں کئی خصوصیات مشترک ہیں۔جامپور بھی دلّی کی طرح ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھتا ہے۔اس کے قریب ’’ دلو راِئے ٹھیڑ ‘‘ کے آثار قدیمہ موجود ہیں جو ایک روایت کے مطابق 2000 سے 5000 سال پرانے ہیں۔یہاں سے ملنے واے کچھ نوادرات لاہور کے عجائب گھر میں بھی محفوظ ہیں۔سکندر اعظم جب پوری دنیا کو فتح کرنے کے ارادہ سے نکلاتو اس علاقہ میں بھی آیا۔وہ یہاںکی ملکہ ’’ رخسانہ ‘‘ کی خوبصورتی سے متاثر ہوا اور روایت کے مطابق ملکہ رخسانہ سے شادی بھی کی۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے ملکہ رخسانہ کے نام پر اپنا ایک صابن ’’ RAXONA‘‘ کے نام سے بنایا۔
جس طرح دریائے جمنا اور دریائے صاحبی دلّی کو آبی وسائل مہیا کرتے ہیں اس طرح دریائے سندھ جامپور کو آبی وسائل مہیا کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں چاندی جیسے روئی کے گالوں اور سونے جیسے تمباکو کے پتوں کے علاوہ گندم،گنا،چنا،مٹر،چاول اچھی خاصی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔تمام ٹوبیکو کمپنیاںاعلٰے قسم کے ایکسپورٹ کوالٹی سگریٹ تیار کرنے کے لئے جامپور کے تمباکو کو ترجیح دیتی ہیں۔جدوجہد آزادی ہند۔ دینی اور سیاسی رہنما علامہ عبیداﷲ سندھی کی پرورش جامپور میں ہوئی اور انہوں نے اپنی تعلیم مڈل سکول(گورنمنٹ سٹی ہائی سکول) جامپور میں حاصل کی۔جامپور کے رہائشی ڈاکٹر عبداﷲ خان ہوت بلوچ "قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد"کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔
بیرون ملک یورپ میں جامپور کی وجہ شہرت یہاں تیار ہونے والالکڑی کا منقش سامان بھی تھا۔ جو دیکھنے والے پر سحر طاری کر دیتا تھا۔تقریباً سو سال پہلے تحقیقی ذہن کے مالک قاضی شمس الدین نے لکڑی کے ٹکڑوں کی سطح کو ہموار اور چکنا بنانے کے لئے ہاتھ سے چلنے والی لیتھ مشین بنائی۔ پھر ان لکڑی کی پلیٹوں پرنقش ونگار بنانے کے لئے لاکھ دانے میں رنگ حل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا لاکھ دانہ میں مختلف رنگ حل کئے جاتے پھر ہر رنگ کی پٹیاں بنائی جاتیں اور دستی لیتھ مشین کے ذریعے لکڑی کے ٹکڑوںپرمختلف رنگوں کی تہیں چڑھائی جاتیں۔لوہے کی چترنی سے اس پر نقش ونگار بنائے جاتے۔اس لکڑی کے سامان میںکرسیاںَمیزیں، صوفہ سیٹ،ڈائننگ ٹیبل، سنگھار میز،سنگھار سیٹ،پلنگوں کے پائے،گلدان،فلاور واز،پیڑھیاں وغیرہ شامل تھیں۔جامپور میں لکڑی کے منقش سامان بنانے والا پہلا کارخانہ ’’ کارخانہ شمسی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔جو قیام پاکستان کے بعد’’پاکستان وڈ ورکس‘‘ بن گیا۔ کارخانہ شمسی سرکلر روڈ پر علی پور چوک کی شمال مشرقی نکر پر تھا۔ ناقدر اہل اقتدار کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ محیرالعقول فن انحطاط کا شکار ہوکر بالاخر ختم ہوگیا۔
ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے ضلع راجنپور کی تحصیل جامپوردنیا کے نقشہ پر70.60 طول بلد اور 29.64عرض بلد پر واقع ہے۔سطح سمندر سے 111میٹر بلند ہے۔تحصیل کی آبادی8لاکھ نفوس سے زائد ہے۔رقبہ کے لحاظ سے جامپور پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل ہے اور یونین کونسلز کی تعداد کے لحاظ سے تیسری بڑی تحصیل ہے۔لیکن یہاں کے مکین سیاسی لحاظ سے بڑے بد قسمت ہیں۔ جس طرح دلّی پر بیرونی فوجی حملہ آورحکمران رہے اسی طرح جامپور پربیرونی سیاسی حملہ آور آج تک حکمران ہیں۔ جنہوں نے یہاں اپنی اپنی ’’ وساخیں‘‘ بنا رکھی ہیں جہاں الیکشن کے دوران انکے کیمپ ہوتے ہیں۔
اقتدار کے دوران یہ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ سے مل کر ماحول کو بلاخراپنے اپنے حق میں تبدیل کر لیتے ہیں اور بار بار کامیاب ہوتے رہتے ہیںجامپور سے انکی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق بھلے وقتوں میں کراچی میں مستقل مقیم ایک سیاسی شخصیت کو جامپور میں شوگر مل لگانے کا پرمٹ دیا گیا تھا جو انہوں نے کسی مخلص کے پاس فروخت کر دیا تھا۔ جس نے پتوکی موڑ پر ’’جامپور شوگر ملز ‘‘ کے نام سے وہ شوگر ملز لگالی۔ 2010 کے جاں گسل سیلاب کے دوران صوبائی انتظامیہ کو اس شہر کو ایک معمولی قصبہ بتایا گیا ۔ میڈیا کے شور پر جب حاکم اعلٰے یہاں تشریف لائے تو انہیںحقائق معلوم ہوئے۔تو انہوں نے شہر میں کھڑے سیلابی پانی کی نکاسی کاٖ حکم دے کر اس عذاب سے خلاصی کرا ئی سیلاب کے بعدحاکم اعلیٰ نے اس شہر کو ماڈل سٹی بنانے کا خوش آئند اعلان فرماتے ہوئے مبلغ 5ارب روپے بھی عنایت کرنے کا دلپذیر اعلان فرمایا۔جسے حکمران پارٹی کے دو گروپوں نے اپنی اپنی کاوش قرار دیا۔ اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں حاکم شہر کو فری ہینڈ دے دیا گیا۔جنہوں نے شہر کو ادھیڑنے میں بے حد فراخ دلی سے کام لیا۔ شہر کے ریڈی اینٹ کا خیال کئے بغیرمکانوں اور دکانوں کی توڑپھوڑ جاری رکھی۔جب کچھ معززین شہر انکے پاس اپنی دستاویزات دکھانے کے لئے گئے تو ان کی یہ حرکت انہیں اپنی شان میں گستاخی محسوس ہو ئی تو انہوں ان کی دکانوں اور مکانوں پر کرین کا لمبا پنجہ مروا دیا۔تا کہ اُن کا جلال حاکمیت دوردور تک سنا اور دیکھا جا سکے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کہیں سے سرجیکل سٹرائیک ہو گئی ہے۔ ایک مارشل لائی حکم کے ذر یعے نہ صرف ’’ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 ‘‘ کو رگیدا گیا بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل24 کے تحت ملنے والے ملکیتی حقوق کو بھی روندتے ہوئے نہایت دھڑلے سے سیلاب کے مارے ہوئے ستم رسیدہ شہریوں سے بغیر کوئی معاوضہ ادا کئے اُن سے رہائشی اور کاروباری چھتیں چھین لی گئیں۔
ایسے حالات میں شہر کے تمام سیاسی مقتدرین مکمل بے نیاز اور مطمئن نظر آئے۔حاکم شہر کی اس مہربانی سے سیلاب کا مارا ہوا شہرسیوریج کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث گندے پانی میں ڈوب گیا اور آج تک ڈوبا ہوا ہے۔ شہریوں کا چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔نمازیوں کا پاک کپڑوں سے مسجدوں تک پہنچنا محال ہو گیا ہے۔ بلدیہ سے رابطہ کرنے پر جواب دیا جاتا ہے کہ نکاسی کے نئے پائپ پہلے پائپوں سے کم ڈایامیٹر کے ہیں اس لئے نکاسی نہیں ہوتی ۔
اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے سرکاری اداروں میںکمال بے ربطگی کے نتیجہ میں شہر کے لیے بے شمار لا ینحل مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔عجلت اور غیر ذمہ داری سے بنائی جانے والی چند سڑکیں ابھی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ شیرو اڈا سے سٹیدیم اور بائی پاس تک جانے والی سڑک انتہائی ناقص میٹیریل سے بنائی گئی ہے اس سڑک کے ساتھ ساتھ بننے والے سیوریج نالے کا نہ تو بیڈ بنایا گیا ہے۔نہ گولہ ڈالا گیا ہے اور نہ ہی نالے کی دیواروں کو اندر سے گندے پانی کے رسائو کو روکنے کے لئے پلستر کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے اس نالے سے ملحق تعمیرات سیلاب اور سیوریج کے حملے کے بعدگندے پانی کے مسلسل رسائو کا شکار ہوکر ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔اس طرح سے شہریہ ’’ سلو پوائزننگ‘‘ کا شکار ہوکرڈھئے جائے گا ۔
3 سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود اندرون شہر کی ٹوٹی پھوٹی عمارتیںپتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ حیرانی سے منہ کھولے نشان عبرت بنی ہوئی ہیں۔ با خبر حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ 5 ارب روپے میں سے اس سارے عرصہ میںصرف 80-85کروڑ روپے ہی دان ہو سکے ہیں باقی ’’پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘
جس شہر میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اَس شہر کے حاکم سے کوئی بھول ہوئی ہے