آدم صحابہ ڈسٹری بیوٹر نہر پانی کی بندش کا شکار

30 مارچ 2018

صادق آباد جو کہ 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل تحصیل ہے اور ضلع رحیم یار خان میں کاروباری مراکز سمیت زراعت کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل تصور کی جانیوالی تحصیل میں دیہی قصبہ جات سے زراعت اور گندم کی پیداوار معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ بلاشبہ زراعت ملک کی معیشت کی مضبوطی ‘ کسانوں کاشتکاروں زمینداروں کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تحصیل میں واقع آدم صحابہ ڈسٹری بیوٹری نہر گزشتہ تین ماہ سے بند پڑی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو بڑی دشواری کا سامنا ہے حالات واقعات کی ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ جس اذیت سے کاشتکاران دوچار ہیں وہ قابل مذمت ہے حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کے پیش نظر نہر کی بندش کی وجہ سے یہ معاملات کھل کر سامنے آ چکے ہیں کہ حکومت کسانوں اور کاشتکاروں کا استحصال کر رہی ہے آدم صحابہ مائنر کے آس پاس تمام گاؤں‘ چکوک میں کپاس‘ گندم اور گنا کی بجائی کرنے والے کاشتکاروں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسا ظلم و زیادتی کس کے ایماء پر کی جارہی ہے پانی کی عدم فراہمی سے لاکھوں روپے مالیت کی گندم‘ کپاس اور گنا جیسی فصل آئندہ شدید متاثر ہونے کا امکان ہے اپریل میں گندم کی کٹائی سے قبل اگر مذکورہ نہر کو پانی فراہم نہ کیا گیا تو ٹیل کے زمیندار مکمل طورپر پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہو جائیں گے تین ماہ سے نہر میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے طبقہ کے کسانوں اور کاشتکاروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں جو کہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے دوسری جانب نہر خشک ہونے کی وجہ سے شہر کے چاروں اطراف کا کوڑا کرکٹ بھی عوام نہر میں ڈال رہے ہیں اس طرح اسی طرح قصاب حضرات بھی اپنے جانوروں کی آلائشیں نہر میں پھینکنے پر مجبور ہیں ایسی صورتحال صرف اور صرف نہر میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب حکومت پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے تاکہ لوگوں کو بروقت نہری پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے بھی مذکور مسئلے کے حل کے لئے کسی بھی قسم کے اقدام اٹھانے کے لئے خصوصی دلچسپی نہیں لے رہے حکومت ایک طرف عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف کسانوں کو پانی فراہم نہ کر کے ان کا زبردست استحصال کر رہی ہے۔ ملک میں کسان کاشتکار اپنی محنت جدوجہد کی بدولت زراعت کی بہتری کے لئے اپنا کردا ادا کرتا ہے مگر اسے اس کا حق نہ ملنا انتہائی افسوسناک عمل ہے پانی کی عدم فراہمی کا مسئلہ نہ صرف صادق آباد بلکہ جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع و تحصیلوں میں رہنے والے کسانوں اور کاشتکاروں کو بھی درپیش ہے علاقہ کے کاشتکار اور غریب عوام کی وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریفسے اپیل ہیکہ تین ماہ سے نہری پانی بند ہے جس کی وجہ سے فصلیں مکمل طورپر تباہ ہو چکی ہیں اور آس پاس کے علاقہ کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں پانی نہ ہونے کی کی وجہ سے معاشی استحکام پیدا ہو رہا ہے علاقہ کے لوگ مکمل طورپر اپنے مویشیوں کی زندگیاں بھی بچانے سے قاصر ہیں مویشیوں کے لئے نہ تو چھپڑوں میں پانی دستیاب ہے اور نہ ہی دیہی علاقوں میں جانوروں کی سہولت کے لئے آبی ذخائر بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے جانور دن بدن مر رہے ہیں ۔
٭٭٭٭٭