میٹھا …… ذرا پرہیز سے

30 مارچ 2018

کھانے میں سویٹ ڈش نہ ہوتو کھانا ادھورا ادھورا سا لگتا ہے دعوتوں‘ خصوصاً ولیمے کی دعوت میں قورمہ‘ بریانی‘ بروسٹ اورنرم گرم نانوں کے ساتھ زردہ‘ کھیر اور کسٹرڈ کی موجودگی کھانے کے لطف کو دوبالا کردیتی ہے۔ کچھ لوگ تو سویٹ ڈش کو سب ڈشز پر ترجیح دیتے ہیں۔ کوئی کچھ بھی کھاتا رہے ان کی نظر سویٹ ڈش پر ہی مرکوز رہتی ہے اور وہ اسے اپنی دسترس میں رکھتے ہیں یا پھر خود اس کی دسترس میں رہتے ہیں۔ وہ ایسی جگہ تلاش کرتے ہیںجس کا حدود اربعہ سویٹ ڈش کی ہمسائیگی میں ہو۔ تاہم لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے نقصانات سے بخوبی آگاہ بھی ہیں۔
ہم ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیںکہ چینی دانتوں کو خراب کر دیتی ہے۔ یہ دانتوں میں ایسے کیمیکل پیدا کرتی ہے جس سے دانت کالے ہو جاتے ہیںاور اس میںکیڑا لگ جاتا ہے۔ بچے چونکہ ٹافیوںکی صورت میں بہت زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں اس لئے دانتوں کے سب سے زیادہ مسائل بچوں میں ہی سامنے آ رہے ہیں۔ چینی کا ایک اور بڑا نقصان شوگر کی بیماری کا لاحق ہونا ہے جو کوئی شوگر کا مریض ہو وہ چینی کی بہت معمولی مقدار استعمال کرتا ہے اس کی زیادہ مقدار شوگر لیول میں اضافے کی وجہ بنتی ہے جس کو کنٹرول کرنے کے لئے انسولین کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
چینی کا زیادہ استعمال موٹاپے کی وجہ بنتا ہے توند آگے کی طرف نکل آتی ہے اور کمر کی موٹائی میں بے پناہ اور بے ڈھنگا اضافہ ہو جاتا ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے لازمی طور پر انسانی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے اور بغیر سہارے کے اٹھنا بھی محال ہوتا ہے۔ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر کھڑے رہنا بھی ممکن نہیں رہتا اور یہی موٹاپا بہت سی دوسری بیماریوں کی وجہ بھی بنتا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ موٹاپا سیاپا بن جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ زیادہ چینی کھانا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال دماغی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے جس کی بدولت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور ذہانت میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ دماغی کام کرنے والے لوگوں خصوصاً طلباء اور اساتذہ کے لئے یہ بہت سنگین صورتحال ہو سکتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیںچینی کا استعمال بالکل ترک کردینا چاہئیے؟ اگر ہم نے ایسا کردیا تو ہماری زندگی پھیکی اور بدمزہ ہو جائے گی بھلا میٹھے کے بغیر بھی زندگی کا کوئی لطف ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں چینی سے بالکل ہی ہاتھ کھینچ نہیں لینا چاہئیے بلکہ اس کے روزانہ استعمال کی مقدار کو معتدل سطح تک لے آنا چاہئیے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک نارمل انسان کی روزانہ کی چینی کی ضرورت پچیس گرام ہے جبکہ ایک عام پاکستانی اوسطاً باسٹھ گرام چینی کھاتا ہے۔ یوں ایک پاکستانی اپنی روزانہ کی ضرورت سے ایک سو پچاس فیصد زیادہ چینی استعمال کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس میں دوسروں کی نسبت چینی کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ڈیڑھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ چینی کھانا زہر بن جاتا ہے جس کی وجہ سے اچھے خاصے ذہین و فطین لوگ بھلکڑ اور سست دماغ بن جاتے ہیں۔ اچھے خاصے صحت مند لوگ اپنے دانتوں کا علاج کرواتے پھرتے ہیں۔ کچھ کم عمری میں ہی شوگر جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھی خاصی سلم اور متناسب الوجود خواتین موٹاپے کا شکار ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں اور مرد حضرات پورے کمرے میں اپنا پیٹ پھیلائے پھولے نہیں سما رہے ہوتے۔