گھنے درخت کے سائے میں جب قیام ہوا

30 مارچ 2018

یونس مجاز کا نام شعری اور صحافتی حلقوں میں یکساں طور پر معروف ہے۔ان کے کالم قومی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیںتاہم اس تعارفی نوٹ کا موضوع اس وقت ان کی صحافتی خدمات نہیں شعری کمالات ہیں۔یونس مجاز کی شاعری کا مجموعہ’’جنگلوں میں شام آئی‘‘ کچھ عرصہ قبل منظر عام پر آیا تھا مگر ایک دوست پڑھنے کی غرض سے لے گیا اور اس کی واپسی میں بہت دن لگ گئے ،یوں اس کا تعارف بروقت نہ ہو پایا۔یونس مجاز ان خوش نصیب لکھاریوں میں سے ہیں جنھیں نامور شاعر قمر جلالوی کے شاگردخاص استا دپرنم الہ آبادی کی صحبت میسر آئی اور انھوں نے ان سے کسبِ فیض بھی کیا۔داغ اور امیر مینائی کی روایت شعر کے اس نمائندے کے ہاں بھی زبان و بیان کی وہی خوبیاں اور غنایت کی وہی فراوانی دکھائی پڑتی ہے جو مذکورہ استاتذہ کا اختصاص رہا ہے۔حسن و عشق کے معاملات جوہماری کلاسیکی غزل کا بنیادی موضوع ہیں ،یونس مجاز کی غزل کی مجموعی فضا میں چاند کی صورت ضو فشاں ہیں لیکن معاصر شعری ذوق سے مملو اشعار بھی ان کے شعری افق پر ستارہ وار چمکتے چلے جاتے ہیں۔اس کالم میں زیادہ تفصیل کی گنجائش تو نہیں مگر چند اشعار قارئین کی نذر کرتا ہوں تاکہ وہ یونس مجاز کے شعری سفرسے آگاہ ہو سکیں
مسکراہٹ سے تری آج آفاقہ تو ہوا
درد کا زور تبسم کی دوا سے ٹوٹا
اس کی افشاں کی چمک شب کو جو یاد آئی مجاز
دل مرا اور ستاروں کی ضیا سے ٹوٹا
جس کو چہرہ عیاں نہیں کرتا
دل میں ایسا ملال رہتا ہے
دیکھ لینے سے اے مجاز اس کو
رشتہء جاں بحال رہتا ہے
چھوڑ کر کوئی کسک دل میں ترے
یاد کا اک سلسلہ ہو جائوں گا
میں کسی اور در پہ کیوں جائوں
جب ترے در سے آشنائی ہے
کچھ تو آئے مرے گلستاں میں
گل نہ آئے تو خار آ جائے
جی رہا ہوں تری خوشی کے لیے
یہ خوشی اپنے پاس ہے جاناں
گر کبھی ان سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
چشمِ پر نم کی وساطت سے مری بات ہوئی
قاصد مجھے مزدوری ملے گی تو یقینا
لے آئوں گا تیرے لیے گہنا،اسے کہنا
اور اب’’ بساطِ زیست‘‘کے حوالے سے چند باتیں۔یہ شعری مجموعہ ہے برادرم ارشد محمود ارشد کا،جوادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔قبل ازیں ان کے تین شعری مجموعے اور تین شعری انتخاب شائع ہو چکے ہیں۔ان کی تازہ شعری کاوش میں زندگی سے لبریزمناظر قاری کے لیے سرشاری کا جو سامان بہم پہنچاتے ہیں،وہ بہت کم شعری مجموعوں کو نصیب ہوتا ہے۔ارشد محمود کی شاعری جدید شعری میلانات اور تازہ کاری سے مزین ہے،دلی کیفیات اور احساسات کا اخلاص کے ساتھ بیان ہی ارشد محمود کی خصوصیت نہیں بلکہ انھیں فن کی خوبیوں کے ساتھ پیش کرنا بھی ان کا کمال ہے۔چند اشعار دیکھئے
گھنے درخت کے سائے میں جب قیام ہوا
میں پہلی بار پرندوں سے ہم کلام ہوا
آئو دو چار قدم چل کے ذرا دیکھتے ہیں
پھول بہتے ہوئے پانی میں کہاں سے آیا
یہ کوئی اور طلب پانیوں میں لے آئی
مرا خیال کسی جل پری میں تھا ہی نہیں
مجھے اک جل پری نے چھو لیا تھا
مری سانسوں کی حدت بڑھ گئی ہے
چراغوں کو جلانے کی لگن میں
ہوائوں سے عداوت بڑھ گئی ہے
کوئی تو سانحہ گزرا ہے اس پرندے پر
کہ آدھی رات کو جو گھونسلے سے باہر ہے
آئنہ جب کبھی ملا ہے مجھے
چشمِ حیرت سے دیکھتا ہے مجھے
اس نے اشکوں کی روشنائی سے
کورے کاغذپہ لکھ دیا ہے مجھے
آسماں کی لگن نہیں اچھی
کہہ رہی تھی ہوا پرندوں سے
زندگی آپ سکھا تی ہے قرینے سارے
زخم ملتے ہیں تو جینے کا ہنر آتا ہے
جدھر نگاہ کروں ریت ہے یا گرد و غبار
کہ سنگِ میل بھی صحرا کے راستوں میںنہیں
کسی فصیل کی سازش بھی اس میںشامل ہے
گریزپا جو ہوئی دھوپ میرے آنگن سے
غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابرار عقیل
کوئی زخمِ اڑان چھوڑ گیا
وہ ہوا کا لگان چھوڑ گیا
کون آئے گا اب یہاں رہنے
تُو جو دل کا مکان چھوڑ گیا
تیری یادوں کے موسموں میں فراق
میرے دل میں نشان چھوڑ گیا
میرے دل کے ورق ورق پہ کوئی
اپنے غم کا بیان چھوڑ گیا
بھر گئی ہے فضا پرندوں سے
کیا شکاری مچان چھوڑ گیا