مظہرِ نور خدا

30 مارچ 2018

زندہ رود، ایسا چشمہ جو کبھی خشک نہ ہونے پائے،روبہ زوال نہ ہو اور جسے حیات جاوید حاصل ہو۔ اللہ والے بھی اس چشمہ کی مانند ہیں جو دل کی بے آب وگیاہ زمین کو ، اللہ اور اس کے محبوبؐ کی محبت سے مسلسل سیراب کرتے چلے جاتے ہیں۔دل کی بنجرزمین کو محبت کی زرخیزی عطا ہوتی ہے۔ نفرت ، انتقام ،حسد ، بغض ، کینہ ، حرص کی فصل کا انجام ہوتا ہے، اورمحبت کی فصل اگتی ہے جسے دوام حاصل ہوجاتا ہے۔ محبت تمام منفی رویوں کوپاش پاش کرتی ہے۔انسان بس خالق اور مخلوق کی محبت میں جیتا ہے۔ نظر میں بجز اپنے ، کوئی حقیر نہیں لگتا ۔ یہ محبت ہی تو ہے جو پتھر دل کو موم کرتی ہے، پھر وہ دل قبول کرنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ کس و ناکس کو قبول کرتا چلا جاتا ہے۔ روح کی پیاس بجھانے کی خاطر، اللہ والوں کی جانب سے بلاوا ہونے پر حاضری و حضوری کی سوجھی۔ یہی نیت کہ ان لوگوں کی بارگاہ میں حاضری ہو جو چشم بینا رکھتے، قلوب اور روحوں پر راج کرتے ہیں۔ چند دیرینہ احباب کے ہمراہ اس سفر کا آغاز کھڑی شریف سے کیا جہاں میاںمحمد بخشؒ اور ان کے مرشد پیرا شاہ غازیؒ المعروف دمڑی والی سرکارپردہ نشیں ہیں۔ کس قدر خوش بختی کہ ابدی زندگی بھی مرشد کے پہلو میں گزرے۔ میاں محمد بخشؒ نے دیگر تصانیف کے علاوہ بالخصوص سیف الملوک کے ذریعے انسان کے زنگ آلود دلوں کو عشق محمدیؐ سے سیراب کیا ۔ وہ دردوسوزدیا کہ قاری کے انگ انگ سے اللہ ھو کی صدا آئے۔ جب ایک مومن دل سے یہ صدا جاری ہوتی ہے تو آس پاس کی مخلوقات بھی اس صدا کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اللہ والوں کے ہاں بھی یہی صداملتی ہے جو مخلوقات کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
جہلم میں حضرت بابا پیر شہاب سرکارؒ کی درگاہ پر حاضری کے بعد ، لاہور میں داتا علی ہجویریؒ کے قدموں میں جا بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ شہنشاہ اولیاء کے ہاں اس قدر طمانیت اورسکون ہے کہ انسان چند لمحوں کے لئے ہی سہی، دنیا کی رنگینی سے بیزار ہو جاتا ہے ، اللہ اور اس کے محبوبائوں کی یاد میں کھو جاتا ہے۔ کچھ تو ہے کہ لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔ لوگ آرہے ہیں ، جا رہے ہیں۔ فیض مل رہا ہے ، بات بن رہی ہے۔ روح سے رو ح کے وصال میں عجب کیف ہے۔ درج ذیل شعر پڑھنے سے اس کیف میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے:
ناقصاں راپیر ِ کامل کاملاں رارہنما
دل چاہے کہ داتا کے ہاں عمر بیت جائے، لوٹنے کو جی نہ چاہے۔ داتا مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجئے۔ میں تو اب جانے سے رہا۔ اس سحر میں کتنی آسودگی ہے ۔ یہ سحر انگ انگ اور قریہ قریہ طاری رہتا ہے۔ اس سحر میں ، مرشد گرامی حضرت واصف علی واصفؒ کے ہاں بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ آپؒ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں پردہ نشیں ہیں۔ اس قدر قوت گویائی رکھنے والا ظاہری طور پر خاموش ہے ، مگر خاموش ہو کر بھی ہر چاہنے والے سے محو گفتگو ہے۔ بس ان سکون آور لمحات میں شب وروز گزر جائیں۔ قرار ہی قرار ہے۔ قرار کیوں نہ ہو کہ جس کی نسبت شیرِ خدا سے جا ملے:
؎ میرا نام واصفِ باصفا ، میرا پیر سید مرتضیٰؓ
میرا ورد احمدِ مجتبیٰؐ ، میں سدا بہار کی بات ہوں
واصفؒ کے ہاں سکوت اور تشفی کا وہ عالم کہ قیام کے لئے دربارِ عالیہ کی چوکھٹ کے سوا کچھ نہ بھائے۔ بلاوے پر جانے سے کس بدنصیب کو لوٹنے کی سوجھے۔ وہاں گزری ساعتوں کے سامنے تمام عمر ماند پڑجائے۔ فرمایا کہ ’’انسان سے محبت واجب ہے‘ اور جن لوگوں کو یار کا سنگِ در نہ ملا وہ راہ کا غبار ہو گئے اور محبت والوں کے لئے غبارِ راہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا سنگِ در‘‘۔ محبت کا ایسا درس کہ دل کی اجڑی زمین پر بس محبت کے ہی ترانے اگنے لگیں۔ اب دینے کو ، محبت کے سوا کچھ بھی تو نہیں ۔ تنقید ، تنقیص ، اور نکتہ چینی ایسے امراض سے نجات پا لینا اور نفرت کے بدلے بھی محبت عطا کرنا ، عین عنایت ہی تو ہے۔ کیوں ، کب ، کیسے ، کدھر ،کہاں ایسی سوالیہ کشمکش سے آزاد ہو جاناکسی نعمت سے کم نہیں۔ ان عنایات اور نعمتوں سے اللہ والے مالامال ہیں۔
لاہور میں ہی حضرت میاں میرؒ کی بارگاہ سے محبتیں پھوٹ رہی ہیں۔ سلسلہ نسب 28واسطوں سے امیر المومنین حضرت سید نا عمرفاروقؓ سے جا ملتا ہے۔قدم رکھتے ہی ، انسان دنیا کی رنگینی سے نکل کر محبت اور سکون کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ دربار کے احاطے میں، کسی گوشے میں بیٹھ کر ، صاحب دربار کی محبتیں سمیٹنے میں بڑا لطف ہے۔ یہی لطف کی خُو، بی بی پاک دامن کی درگاہ پر بھی لے گئی تھی۔
ہم لطف اور روحانی تسکین کی تمنا لئے، بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی وادی کو چل دئیے۔ پاکپتن شریف میں قدم رکھا تو بستی اور گلی کوچے بابا فریدؒ کے رنگ میں رنگے دکھائی دئیے۔ چہار سو محبت کا تموج تھا۔ ہر شے محبت اور مٹھاس میں پروئی ہوئی ملی۔ چشتی رنگ کی بات ہی اور ہے۔ شہنشاہ چشت کے سامنے با ادب کھڑے ، اپنی خطائوں اور شہنشاہ کی بندہ پروری پر نظر رہی۔ نظام الدین اولیاء کے پیرومرشد کی بارگاہ میں حاضر ی ہو تو قدم پھونک پھونک کے رکھنا پڑتا ہے۔ بابا جیؒ کے قدموں میں بیٹھنے اور آنکھیں موندنے سے دل کی نگری جاگ اٹھتی ہے ،گویا باطن کی دنیا بدل جاتی ہے۔اللہ والوں کی درگاہیں اپنی جانب کھینچتی چلی جاتی ہیں ، بس ذرا آرزوکابیج تو بویاجائے۔ پاکپتن شریف سے اگلی منزل ملتان تھی جو مدینتہ الاولیاہے ۔ مولانا روم ؒ کے مرشد شاہ شمس تبریزؒ کی درگاہ پر مندرجہ ذیل شعر زبان پر جاری تھا:
؎مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم
تاغلام شمس تبریزی نہ شد
دربارِ حضرت بہاء الدین زکریاؒؒ اور شاہ رکن عالمؒ بھی آس پاس ہیں۔ حضرت شاہ رکن عالمؒ کے لئے حضرت شاہ شمسؒ نے دعا کی تھی کہ اے رکن الدین تو دین کا رکن پہلے بھی ہے اور اب تو رکن عالم ہے۔ ان درگاہوں کے جوار میں، آرٹ گیلری اور قاسم باغ بھی موجود ہے ، کاش کہ لوگ درگاہوں پر حاضری و حضوری اور سیروتفریح کے مشاغل میں فرق جان سکیں، اور انتظامیہ کی جانب سے، اللہ والوں کے نام پر لُوٹ کھسُوٹ کے نظام کا تدارک کیا جا سکے۔ درگاہیں تفریح نہیں، تزکیہ کا سبب ہوتی ہیں۔ وقت تھم نہیں رہا تھا اور ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ میں درگاہِ شاہ سلیمان تونسوی،ؒ ہماری اگلی منزل تھی۔ ہم تشنگانِ محبت کے لئے شہبازِ چشت کی چوکھٹ ہی ڈھارس تھی۔ صاحب دربار کی توجہ کی طلب بڑھتے ہی جا رہی تھی ۔ آستانہِ شہبازِ چشت، جہاں مہر علی شاہؒ نے عین جوانی میں حاضری دی اور مرکز تجلیات سے اپنے حصے کا فیض حاصل کیا تھا۔ جی چاہے کہ اللہ والوں کے حضور، خود کو پیش کر دیا جائے اور بس قبولیت کی مسلسل التجا کی جائے۔ اس التجاء میں خاکسار کی روح اب تک بھٹک رہی ہے۔ روحوں کے میلے میں سفر درسفر اور ایمان و محبت کے چشموں سے مسلسل مستفیض ہونا اچھا لگے اورروح سے روح کا وصل ہو تو بات بن جائے۔

خوف خدا(۱)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں : جس دن تیز ہوا ہوتی یا بادل ...