اقتصادی ترقی کا خواب

30 مارچ 2018

بڑی طاقتیں جس مربوط انداز میں متحد ہو کر مالیاتی نطام کو کنٹرول کر رہی ہیں، اس سے اندازہ لگانا آسان ہے کہ تیسری دنیا اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوسکتی ، دنیاکے مالیاتی نظام پر اک طائرانہ نظر ڈالیں تو بہت سے سوالوں کے جوابات خود بخود مل جائیں گے۔ بڑی طاقتیں اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے لمبی مدت کی پالیسیاں بناتی ہیں۔ پاکستان کا سیاسی نظام بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں پر منحصر ہے جو کہ آج کے لئے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ مخمصہ پر مبنی جمہوریت کے بعض سیاسی لوگ ذاتی مفادات میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں امیدوار کے لئے بہت سی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ 1985 سے جس جمہوری نظام کو ڈویلپ کیا گیا ہے جو کہ آج نئی شکل میں موجود ہے ۔درمیان میں عجیب آمریت بھی آئی اور ملک کو معاشی طور پر تباہ کرنے میں اپنا حصہ ڈال گئے ۔ پرویز مشرف نے جس جمہوریت کے حامل سیاسی لوگوں سے ملک میں ناظم کا نظام قائم کیا جس سے ملک میں پہلے موجود بیورو کریسی کا نظام تباہ ہو گیا۔ آج پنجاب میں ایک صاحب کی کرپشن نیب کی جانب سے پکڑنے پر بیوروکریٹ ہڑتال کر رہے ہیں۔ ووٹ کی عزت کے نعرے لگانے والے کہتے ہیں کہ ہمیں پہلے پتہ نہیں تھا کہ لوگ عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ 30 سال سے حکومت میں رہنے کے بعد بھی پتہ نہیں ہے کہ انھیں عوام کیلئے بہتر قانون سازی کرنی ہے ۔ یہ نعرے لگائے جاتے ہیں کہ ایک روپے کی کرپشن بھی پکڑی گئی تو ہم ذمہ دار ہیں۔ ٹھیک کہتے ہیں کہ کرپشن پکڑنے کیلئے انھوں نے کوئی قانون سازی نہیں کی اور کرپشن پکڑنے کے لئے ملک میں کوئی مضبوط ادارے نہ بنا پائے تو کرپشن کون پکڑے گا؟ جو کرپشن پکڑنے والے کمزور ادارے موجود ہیں، ان کے سربراہ حکمران خود مقرر کرتے ہیں اور ریٹائرڈ لوگوں کو سربراہ لگاتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات دیتے ہیں۔ ان اداروں میں بھرتیاں نیچے سے اوپر تک حکمرانوں کی سفارش پر ہوتی ہیں۔ کمزور قانون اور ناقص ثبوتوں سے عدالتوں میں کیس دائر ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر جمہوریت کے لوگ جیلوں میں جاتے ہیں، تھوڑے عرصے بعد کیس ختم ہو جاتے ہیں اور نعرے لگتے ہیں کہ ہم پر کرپشن ثابت نہ ہوئی۔
ہر ضلع کے چھ سات خاندانوں کے مابین اب جمہوری مقابلے ہوتے ہیں اور سول بیوروکریسی کے ساتھ ملکر عوام کو غلام بنایا ہوا ہے۔عوام کو سوچ نہ دی کہ سول بیوروکریسی آپکے ٹیکس تنخواہ لیتی ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق ایمانداری سے کام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ حالات کے مطابق جمہوریت والے خود ایمانداری سے قانون پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ انگریزی دور سے قانون بنے ہوئے ہیں ان حالات میں نئے قانون بنانے چاہیں حکمرانوں کا کام ہے عوام کو انصاف اور بہتر قانون سے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ایسی جعلی جمہوریت والے عوام کے ووٹ اسی لئے حاصل کرتے ہیں تا کہ قومی وسائل لوٹیں اور ترقی یافتہ ملکوں میں اپنی اولاد کو تعلیم و کاروبار کیلئے بھیج دیں عوام کو دبا کر اور غلام بنا کر رکھنا ان کی ضرورت ہے۔ بڑے لیڈر اور انکے چھوٹے لیڈروں کا مقصد صرف اور صرف عوام کو محکوم بنا کر رکھنا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان انگریز کے زمانے کے قانون کی وجہ سے عوام عدالتوں میں ساری عمر دھکے کھاتے رہتے ہیں اس کی بڑی وجہ بیمار اسمبلی ہے۔ حالات کے مطابق نئی قانون سازی نہیں کی جاتی ۔ ملکی اداروں کو قومی سوچ کے مطابق بنانا ہوتا ہے یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ سول حکومت چلانا فوج کا کام نہیں ہے کیونکہ ان کی ٹریننگ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور اپنا دفاع مضبوط بنانا ہے، فوجی اپنی جان کی پروا کیے بغیر ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ سول ادارے ایمانداری سے اپنے ملک کے لئے اپنی اپنی فیلڈ میں کام کریں تا کہ ملک کو سکون اور چین نصیب ہو پوری دنیا میں سول حکومت کا طاقتور ادارہ فوج ہوتا ہے۔
پاکستان اس وقت بیرونی طاقتوں کی سازشوں میں گھرا ہوا ہے کہ فوجی دور میڈیا کو آزاد کر گیا اور یہ بہت خطرناک بات ہے۔ حالانکہ میڈیا کاروبار نہیں، یہ ریاست کے تحفظ کیلئے اہم ستون ہے۔ اس لئے ریاست کی حفاظت کرنے والی ایجنسیوں کو حالات دیکھنے چاہیں۔جو میڈیا ملک کے خلاف کام کرے اسکو روکا جائے ۔ میڈیا میں بعض اوقات اسطرح پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ عام انسان سمجھ نہیں پاتا کہ یہ ملکی مفاد میں ہے یا نقصان میں۔ اس مقصد کے لئے میڈیا کو واچ کرنے والے ذمہ دار لوگ اور ادارے ہونے چاہیں۔ ہمارا ملک غریب ہے سرکاری اداروں کو پرائیویٹ انداز میں نہیں چلانا چاہیے ۔ وقار مسعود خان سابق سیکرٹری خزانہ پاکستان نے پچھلے دنوں بتایا کہ دنیا میں اک نئی کرنسی جسے ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی اور بٹ کوائن بھی کہا جاتا ہے، وجود میں آ گئی ہے۔ اس بارے میں انھوں نے نوائے وقت میں تفصیلی کالم لکھا۔ماہرین کا خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ بہت جلد بٹ کوائن کی قیمت صفر تک پہنچ جائے۔ پاکستان میں بھی یہ وبا پھوٹ پڑی ہے اور لوگ اس میں جعلی بروکروں کے ذریعے ٹریٖڈنگ کر رہے ہیں اور ان کا سرمایہ ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں اس کی قانونی ٹریڈنگ کی اجازت نہیں ہے، ہمارے ملک میں جن اداروں کو یہ غیر قانونی کاروبار روکنے کا اختیار ہے وہ سو رہے ہیں۔ گورنمنٹ سیکٹر میں سرکاری ادارے عوام کی صحیح شکایات پر جواب نہیں دیتے جو ہمارے ملک میں کرپشن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی اس ضمن میں کوئی ٹھوس قانون بنانا چاہیے ۔