سیاسی جماعتیں اور مشترکہ مفادات

30 مارچ 2018

آج کل منافقت کا دور ہے۔ سچ‘ حقیقت‘ دیانتداری‘ شرافت شائستگی گمنام چیزیں ہو چکی ہیں۔ جتنا کوئی زیادہ جھوٹ بولتا ہے وہ لوگوں کی نظر میں آج کے دور میں کامیاب کہلاتا ہے۔ سٹیج پر عوام کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں دیا اور شام کو اندھیرے میں ملاقاتیں عادت بن چکی ہے۔ ہر سیاسی لیڈر طیش میں آکر پتہ نہیں کیا کچھ کہہ جاتا ہے اور پھر شام کو اپنے حواریوں سے پوچھتا ہے کہ یار آج میں نے فلاں فلاں کو ٹھیک سنائی ہیں حالانکہ جو تنقید یا نقائص اس نے عوام کے سامنے مخالف کیلئے کی ہے اس سے زیادہ اس کے اندر نقائص موجود ہیں موجودہ دور میں وہی سیاستدان بے وقوف عوام کے سامنے کامیاب ہے جو دوسرے پر کیچڑ اُچھالتا ہے۔ بدتمیزی سے اور بدفرمانی سے مخالف کو لکارتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ عوام ان نام نہاد‘ جھوٹے بددیانت اور کرپٹ سیاستدانوں کو سمجھتے کیوں نہیں ہیں اور اگر خوش قسمتی سے سمجھتے بھی ہیں اور پھر ان کرپٹ اور خود غرض سیاستدانوں کے جلسوں کی رونق کیوں بنتے ہیں۔ ان سیاستدانوں نے عوام کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں کئے۔ آج بدقسمتی سے پاکستان میں غربت کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ ہر تیسرا آدمی زندگی سے ہی تنگ ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ آپس میں ان کے مشترکہ مفادات یکساں ہوتے ہیں۔ صرف اس بھولی بھالی عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے سٹیج پر گالی گلوچ کی رونق لگاتے یں اور اس کو یہ سیاست سمجھتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اس منافقت اور بددیانتی والی سیاست سے توبہ کرتا ہوں اور ان سیاسی رہنماؤں بشمول سیاسی علماء کرام سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا آئندہ الیکشن میں عوام کے سامنے سچ اور حق کی آواز بلند کریں۔ منافقت ‘ جھوٹ پر لعنت بھیجیں۔ کیوں چند دن کے اقتدار کیلئے اپنی آخرت گندی کرتے ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ملک جس مقصد کے لیے معر ض وجود میں آیا تھا۔ اُس مقصد کی تکمیل کیلئے اور نظریاتی اساس کو پروان چڑھانے کیلئے کام کیا جاتا۔ ہر جماعت کا بنیادی منشور یہ ہوتا کہ وہ اس ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ بالخصوص اسلامی سیاسی جماعتوں کا بنیادی نظریہ ہی اسلامی قوانین کا نفاذ ہوتا لیکن سب سیاستدان خود غرض مفاد پرست ابن الوقت اور وقت کے ساتھ چلنے کا نظریہ لیکر اپنی اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ اللہ پاک نے ایم ایم اے کی شکل میں چھ بڑی اسلامی سیاسی جماعتوں کو پانچ سال کیلئے خیبرپختونخوا میں اقتدار سونپا لیکن انہوں نے صرف اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے پانچ سال گزارے۔ کوئی اسلامی قانون صوبے کی سطح تک بھی نہ نافذ کرسکے۔ بلکہ ان پانچ سالوں میں اقرباء پروری اور ذاتی مقاصد کی تکمیل کی۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اس کا قصوروار مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کو قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران بلدیاتی الیکشن میں شیرپاؤ گروپ اور اے این پی سے اپنے طور پر اتحاد کرلیا۔ جمعیت العلماء اسلام نے الگ طور پر بلدیاتی الیکشن لڑا اور جماعت اسلامی نے الگ اتحاد بنا لیا اس سے متحدہ مجلس عمل کا اس صوبے میں شیرازہ بکھر گیا۔ پھر ان اسلامی جماعتوں کو خدا کی طرف سے جو مار پڑی اور ذلت اٹھانی پڑی وہ یہ ہوئی کہ 2013ء کے الیکشن میں خیبرپختونخوا کے غیور لوگوں نے بری طرح شکست دے دی۔ اس کے نتیجے میں عمران خان کی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں اکثریت حاصل کرکے حکومتی بنالی۔ اس حکومت نے یعنی تحریک انصاف نے کافی حد تک عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے کام کیا۔ اور آج وہاں پر تھانہ کلچر ‘ پٹواری کلچر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ تعلیمی میدان میں یہ صوبہ دیگر تمام صوبوں سے بہتر پوزیشن میں جارہا ہے ۔ صحت کی سہولتیں کافی حد تک بہتر ہیں۔ پولیس کو خود مختار بنا دیا گیا ہے۔ دینی مدارس کو گرانٹ دیکر اساتذہ کو ایک اچھا مقام دیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں آئمہ کرام کا اعزازیہ دس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جس سے کسی حد تک علماء کرام کو مالی لحاظ سے آسانی ہوگی۔ جو کام اسلامی جماعتیں پانچ سال دور میں نہ کرسکیں تحریک انصاف نے کر دکھایا۔ میں اب بھی تمام اسلامی ودیگر جماعتوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اسلام کے بنیادی اصول اور قوانین کے نفاذ کیلئے اپنے منشور میں کام کریں تاکہ اس زندگی میں بھی سرخرو ہوسکیں اور آخرت بھی سنور سکے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...