اقوام متحدہ اہل کشمیر و فلسطین کو آزادی دلائے

30 مارچ 2018

مکرمی :اقوام متحدہ کے قیام کے بعد دیگر ممالک پر بغیر کسی معقول جواز اوراشتعال کاری ، تباہ یا تحزیب کار ہونے کی ساری اور ایسی عملی کاروائیاں ، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے کھلے عام خلاف ورزی ہے ۔ یہ انداز فکر وعمل ، عالمی اصولوں کو دن دہاڑے پامال کرنے کے مترادف ہے ۔ اس طرح بعض بڑی طاقتیں اپنی توسیع پسندی کے عزائم اور دیگر ممالک کی تعمیر و ترقی میں سرا سر ناجائز طور پر مداخلت کر کے کئی قیمتی انسانی جانوں کو وسیع و عریض عوام و خواص کی رہائشی ،تجارتی اور سماجی امور سے متعلقہ بہت کار آمد اور پیش قیمت املاک کو محض اپنی برتر دفاعی قوت اور اقتصادی بالا دستی کا مظاہرہ اور پراپیگنڈا کرنے کے غرور و تکبر میں تباہ و برباد کرنے کی کارروائیاں گاہے بگاہے کرتی رہتی ہیں ایسی وارداتیں ہر انداز و لحاظ سے کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آئیں اوران کا ارتکاب کسی بھی انصاف پسند اور غیر جانبدار ادارے حاکم اور شخص کی نظر میں سنگیں جرم اور غلط کاری قرار دیے جانے میں کوئی شک و شبہ کا حامل ٹھہرایا نہیں جا سکتا لیکن آج کل کے جدید دور میں بھی مندرجہ بالا حالات اور واقعات کی نوعیت کے جرائم مختلف خطہ ارض میں بعض اوقات و قوع پذیر ہوتے رہتے ہیں اب تک تو بیشتر شعبہ حیات میں مہذب اقدارواطوار پر مبنی ، عالمی سطح پر قوائد و ضوابطہ مرتب ہو کر نافذورائج کئے جا چکے ہیں تو پھر ان کی واضح لحاظ سے موجودگی میں ، بعض بڑے ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے ان پر عمل درآمد کی بجائے بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج گزشتہ کئی سال سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں عوام کے آئے دن احتجاج مظاہروں ، جلسوں اور جلوسوں پر اپنی اندھی طاقت سے فائرنگ و لاٹھی چارج کر کے اوران کو طویل عرصوں کیلئے گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں ، ڈالتی رہتی ہیں تاکہ وہ لوگ اپنی تحریک آزادی کوجاری رکھنے سے باز آ جائیں لیکن حریت پسند وہ اپنی جرات و ہمت سے اپنی جدوجہد کو کسی صورت ترک کرنے پر آمادہ اور راغب نہیںہوئے بلکہ وہ تو بھارتی افواج کا ظلم و تشدد برداشت کرتے ہوئے اپنی تحریک آزادی کو کامیابی کے حصول تک جاری رکھنے کے عزائم کا اعادہ اکثر کرتے رہتے ہیں
(مقبول احمد قریشی ایڈووکیٹ )