پنشنرز کی کون سنے گا؟

30 مارچ 2018

مکرمی! وفاقی حکومت جولائی 2018 ءکے بعد ریٹائرڈ پنشنرز کے لےے کچھ نئے پیکج کا اعلان کرنے والی ہے وفاقی حکومت سے استدعا ہے کہ ماہوار پینشن پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ بجٹ 2018 میں تنخواہوں اور پینشن میں مہنگائی کے مطابق 60% فی صد اضافہ کیا جائے تاکہ کمر توڑ مہنگائی کا مقابلہ کیا جاسکے۔ہاوس رینٹ کو بھی پنشینرز کے پینشن میں اس شرح سے شامل کیا جائے جس شرح سے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں دیا جارہا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بلوچستان کی حکومت نے سابقہ تاریخوں سے گروپ انشورنس دینے کانوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی نومبر 2014 کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے سابقہ تاریخوں سے گروپ انشورنس دینے کا حکم دے دیا ہے جس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے خیبر پختونخواہ حکومت نے بنولنٹ فنڈ کی ادائیگی یکم فروری 2017 سے نئے ریٹ کے مطابق دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔لٰہذا استدعا ہے کہ یہ ادائیگی بھی سابقہ تاریخوں تک بڑھایا جائے۔EOBI کے کارکنوں کو اس وقت 5200 روپے ماہوار پینشن ادا کی جارہی ہے جوکہ اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے بجٹ 2018 میں اس رقم کو 10000 روپے تک بڑھائی جائے۔
(پروفیسر فضل کریم ناشاد،تحصیل بٹ خیلہ 0346-9424662)