اوراب مذاکرات کی کوشش؟

30 مارچ 2018

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے پا ینچ معز زججوں میں دو ججوں کی طرف سے نا اہل قررار دیے جانے اور تین ججوں کی طرف سے، مز ید تحقیق کر لینے کے فیصلے پر نواز لیگ نے مٹھایاں تقسیم کی تھیں ۔ہم نے اپنے کالم میں اس پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ نواز لیگ کی طرف سے، سوچے سمجھی اسکیم کے تحت ایسا گیا گیا تھا۔ اُس فیصلہ میں کسی بھی جج نے نواز شریف کو صادق و امین تو قرار نہیں دیا تھا۔ صرف اتنا کہا تھا کہ مزید تحقیق کر لی جائے۔ دوسرے لفظوںمیں ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے نواز شریف کو ایک موقع فراہم کیاتھا کہ وہ اپنی بریت کے لیے ثبوت فراہم کر سکیں۔ مگر نواز شریف منی ٹرائل پیش نہ کر سکے ۔صرف قطری شہزادے کا ایک مہمل سا خط پیش کیا تھا۔قطری شہزادہ گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوا تھا۔ اور پھر پورے بینچ نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ اگر نواز شریف ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ پر من وعن رضا مندی سے عمل کرتے تو ان کے ہی حق میں بہتر ہوتا۔ مگر نواز شریف اور ان کی ٹیم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، کرپشن میں جاری مقدمات کے دوران فوج اور عدلیہ کے خلاف بھرپور طریقے سے مہم جاری رکھی۔ کچھ کو آئین پاکستان کے مطابق عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف ہرز ہ اسرائی پر سزا بھی ہو چکی ہے اور کچھ کے مقدمے زیر سماعت ہیں۔ نوازشریف کی سوچ تھی کہ فوج کے کہنے پر عدلیہ نے ان کے خلاف پہلے سے طے شدہ فیصلہ دیا ہے۔ فوج کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب کٹ پتلیوں کا ڈرامہ نہیں چلنے دیا جائے گا۔ فوج مارشل لا لگانے والی ہے۔ جمہوریت کو ختم کرنے والی ہے۔ ۷۰ سال سے ایسا ہی کیا جارہا ہے۔ شیخ مجیب کے مینڈیٹ کو نہیں مانا گیا تو ملک ٹوٹ گیا۔ عدلیہ نے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ عدلیہ کسی کو لاڈلا سمجھتی ہے اور میرے خلاف جانبدارنہ فیصلے دیتی ہے ۔مسئلہ نہ فوج نے نہ ہی عدلیہ نے پیدا کیا ہے۔ دنیا کی آزاد صحافیوں کی تنظیم نے پانا پیپر کا کھوج لگایا۔ دنیا کے دوسرے ملکوں نے اپنے اپنے آئین کے مطابق کیس نپٹا دیے۔ کسی ملک کے وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا تو کسی نے عدالتی کاروائی کا سامنا کیا۔ مگر نواز حکومت نے عدلیہ کے حکم کے مطابق ٹی او آر بنانے میں پس و پیش کیا۔اپوزیش کی تین جماعتوں نے سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کروایا۔ نواز شریف نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو خط لکھا کہ وہ کیس سن کر فیصلہ دیں۔ نواز شریف کے کہنے پر عدلیہ نے مقدمہ سنا اور آئین پاکستان کی دفعہ ۶۲۔۶۳ کے تحت نواز شریف کو صادق و امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دے دیا۔ کیا یہ نواز کے ساتھ انہونی ہوئی تھی۔ کیا اس سے قبل پیپلز پارٹی کے دو وزیر اعظموں کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نا اہل قرار نہیں دے چکی۔لہٰذا نوازشریف کی عدلیہ خلاف مہم ہر حالت میں ناجائز ہے۔نواز شریف ہمیشہ اپنے ملک کی فوج کے خلاف حرکتیں کرتے رہے ہیں۔ ایک دفعہ فوج کے خلاف الزامات پر اپنے ایک سینیٹر ، بعد میںڈان لیکس پر اپنے وزیراطلاعات اور کچھ بیورو کریٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوے برطرف کیا۔ نا اہل ہونے پر فوج پر شک کیا اور فوج کے خلاف اب خود بولنے لگے ۔فوج نے واضح بیان دیا کہ ملک کے حالات خراب ہیں۔ ملک حالت جنگ میں ہے۔ ملک میں کہیں بھی مارشل لا نہیں لگے گا۔فوج ملک میں جمہوریت کے حق میں ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق سول حکومت کے ہر حکم پر عمل کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے سپہ سالار ایوان بالا میں گئے اور اپنی پوزیشن واضح کی۔ ملک میں آئین کے مطابق نواز شریف کے بعد نون لیگ کے جناب شاہد خاقان عباسی کو ملک کی پارلیمنٹ نے نیا وزیر اعظم جن لیا۔ وقت پر ایوان بالا کے خالی ہونے والی نشستوں پر الیکشن ہوئے۔ ایوان بالا میںپاکستان کے آئین کے مطابق نیا چیئرمین بھی منتخب کر لیا گیا۔ وقت پر عام انتخابات بھی ہو جائیں گے ۔جو جیتے گا حکومت کرے گا۔ نوازشریف کے جانے سے نہ آسمان گرا ،نہ زمین پھٹی ملک میں جمہوری کا نظام چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ہاں کرپشن نہیں چلے گی۔ نواز شریف کی فوج کے خلاف مہم بھی ناکام ہو گئی۔ نواز شریف نے کہا کہ شیخ مجیب کے عوامی مینڈیٹ کو فوج نے تسلیم نہیں کیا تو پاکستان ٹوٹا۔دبے لفظوں میں میرے مینڈیٹ کو بھی تسلیم نہیں کیا جارہا تو خدا نخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جناب!شیخ مجیب کے پاس اصلی مینڈیٹ نہیں تھا۔ وہ انتخابات بنگالی قومیت، بدمعاشی، جبر، ظلم اور بھارت کی مدد سے انتخابات جیتے تھے۔ غدار پاکستان کے اپنے بیان کے مطابق کہ وہ ۱۹۴۸ء سے ہی بنگلہ دیش بنانے کے پرگروام پر عمل کرتا رہا ہے۔(حوالے کے لیے دیکھیںمضمون جناب ڈاکٹر صفدر صاحب، مانامہ ترجمان القران فروری۲۰۱۸ئ)۔اصل میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق نیب عدالت میں نوازشریف کی کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں جن کا فیصلہ آنے والا ہے۔کرپشن سے دبائو ہٹانے کے لیے نواز شریف ملک کی سالمیت کوبھی دبائو پر لگانے کی عظیم غلطی کرتے رہے ہیں۔نواز شریف اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ملک کے محب وطن حلقوںاور عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یہ سب کرتے رہے ہیں۔پہلے مرحلے میں وہ دبائوڈال کر ہمدردی حاصل کر چکے۔اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعداب مقتدر حلقوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈال رہے ہیں۔ان کے حامیوں کے نزدیک پہلا مرحلہ کامیا بی سے سر کرلیا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کی تیاری ہے۔ یہ بھی لکھا جارہا ہے کہ ڈیل کر کے نواز شریف ملک سے باہر جانے کی اسکیم پر بھی سوچ رہے ہیں۔ملک کے سینئر کالم نگار وںکے مطابق شہباز شریف نون لیگ کی صدارت سنبھالنے کے بعد فوج کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں مذاکرات کی بات کی ہے۔ جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ملک کی فوج کو سیاست سے کچھ واسطہ نہیں۔ آپ اپنے معاملات پاکستان کے آئین کے مطابق حل کریں۔اب مذاکرات کی کوشش بھی نواز شریف کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔عوام کا مطالبہ ہے کہ کرپشن جس نے بھی کی ہے اس سے پیسے واپس لیکر خزانے میں داخل کیے جائیں۔ اب اگر نواز شریف کے ساتھ ریاعت کی گئی تو پاکستان میں کرپشن کرنے والے مزید کرپشن کریں گے۔ جس سے خدا نخواستہ پاکستان تباہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔