ا س وطن کو کئی نسلوں نے سنوارا ہے!

30 مارچ 2018

یہ وطن جس کی مٹی میں موگرے اور موتیا کی خوشبو ہے ۔ یہ وطن جس کی ہوائوں میںرات کی رانی اور گلاب کی مہک بسی ہے۔ یہ وطن جس کے پانیوں میں پورے چاند کی چاندنی سی گرتی ہے۔ یہ وطن جس پہ جمے ہوئے قطار در قطار صنوبر اور چیٹر کے درخت ہیں۔ یہ وطن تمہاری اور میری نسلوں کی کوئی جاگیر تو نہیں اسے تو کئی نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے۔ پورے 71برس ہونے کو ہیں ۔ کتنے دلوں کا لہو اور کتنی نگاہوں کا شوق ، کتنی حسینوں کی شفق، کتنے ہی باحیا چہروں کی حیا اس وطنِ عزیز کی خاک کی نظر ہوئی تو یہ دل نشیں نظارے بکھرے۔ قرار دادِ پاکستا ن کوئی معمولی قراردا د نہیں تھی۔ یہ تو آٹھ دہائیوں پر مشتمل خون آلود سفر طے کر کے بالآخر23مارچ 1940ء کو منظور ہوئی اور ہم سب کی قومی زندگیوںمیں اس کو وہی اہمیت حاصل ہے جو امریکہ والوں کو 4جولائی 1976ء کے اعلانِ آزادی کو حاصل ہے۔ آزادی کی اس قرار داد نے حقِ خود ارادیت ، خود مختاری ، اخو ت اور بھائی چارے کے نظریاتی ولولوں اور قائداعظم کی پُراستقامت قیادت کے زیرِ اثر بیک وقت ایک آزاد مملکت کی آزادی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد بھی بے شمار نامساعد حالات کے باوجود متعدد بار پاکستانی عوام نے اپنی یک جہتی سے اپنی مثبت قوت کا مظاہر ہ کیا۔ شاید ہی آج کل کے دور میں کوئی قوم ایسی ہو جس کے لوگوں نے چالیس لاکھ افغانیوں اور کئی لاکھ دیگر مہاجرین کو معاشی اور سماجی پناہ دی ہو۔ باوجود لسانی اور صوبائی جھگڑوں کے یہ قوم یک جہتی کی بہترین مثال ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بلاشبہ جو ملک ہم نے قرارداد ِ پاکستان کی بنا پر حاصل کیا ہم اس میں ان اسلامی اور جمہوری قدروں کو جو پاکستان کی بنیاد تھی قائم نہ کرکے ایک فلاحی معاشرہ نہ بناسکے۔ اس کی ایک مثال30مارچ 2003ء ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کا وہ افسوس ناک دن ہے جب اسے اس کے تین کم سِن بچوں سمیت کراچی سے اُٹھا کر انسانی سمگلنگ کے ذریعے امریکیوں کے حوالے کیا گیا۔ افسوس کہ اس آزاد وطن میں جہاں کئی بیٹیوں اور بہنوں کی عزتیں پامال ہورہی ہیں۔ قصور کی ننھی زینب ، کائنات، عاصمہ رانی ، شمائلہ ، رخسانہ اور نہ جانے کتنے نام ہوں گے جو آج بھی اہلِ ثروت کی سیاست کی ستم گری کا شکار ہیں۔ کتنے کم سِن بچے جیلوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ کیا ہماری تقدیریں ان حکمرانوں کے قدموں تلے روندی جائیں گی؟ اے پیارے وطن تیرا غم اور میرا الم کیا ظلم کی خاک میں دفنا دیا جائے گا ؟ کیا کل کی آنے والی نسلوں کے ورثے کو کھنڈر بنا دیا جائے گانہیں اے اہلِ ارباب ِ اختیار یہ ستم ایجاد نہ کرتُو اپنا حق مانگ مگر اغیار کے تعاون سے نہ مانگ وہ تو تیرے حق کا تصور ہی فنا کر ڈالیں گے۔ میری التجا ہے سرکار سے ، عدلیہ سے ، ارکانِ پارلیمنٹ سے کہ ایک دوسرے پہ کیچڑ اُچھالنا بند کریں کیوں کہ بم چاہے سرحد پہ گِریں یا گھروں پہ روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے۔ کھیت ہمارے اپنے جلیں یا اوروں کے زیست فاقوں سے تلملا تی ہے اور لڑکیوں کی عزتوں کی میّتیں اُٹھ جاتی ہیں ۔ اس لیے قوم سوال کرتی ہے کہ اپنی برتری کے ثبوت کی خاطر مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کو اغیار کی قید میں دینا ضروری ہے کیا۔شمع صرف آپ کے آنگنوںمیں جلتی رہے ضروری ہے کیا ۔ آئوآج بحیثیت ایک ملت یہ وعدہ کریں کہ اس تیرہ بختی میں امن اور عافیت کی شمع ہر غریب ہر عام کے گھر میں بھی جلے گی۔ بے بس اور پسی ہوئی قوم کی خاطر ، جمہور کی خوشی اور برابری کے لیے ہم ناصرف عافیہ صدیقی بلکہ اس قوم کی ہر بیٹی کے لیے آواز اُٹھائیں گے ۔میں شیری رحمان صاحبہ کو سینٹ میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر بننے پہ دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور سندھ حکومت سے سوال کرتی ہوں کہ آپ کا بھٹو تو ابھی تک زندہ ہے جس کے لگائے ہوئے باغ کا آپ پھل کھارہے ہیں تو خدارا عافیہ اور باقی درماندہ بیٹیوں کے لیے بھی نعرہ لگائیں جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک زندہ لاش کی طرح قید ہیں۔ ہم وعدہ کریں کہ سازشوںکے پیچھے ظلمتوں کی نقابیں اوڑھے ہوئے ہر اہلِ ثروت سیاست کو بتا دو کہ ابھی شہر کے فقیروں کے تن پر لباس باقی ہیں۔اُن سے کہہ دو کہ ابھی کتنے ہی گھروں میں انقلاب کا عَلم بلند ہے۔ ابھی اور بھی بہت سی بیٹیاں زندہ ہیں اور سیاست کا شاید یہ مشغلہ ہے کہ بچے جوان ہوجائیں تو قتل کردو۔بیٹیاں جوان ہوجائیں تو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دو مگر سنو اے اہلِ سیاست !ہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہے۔ نفرت ہے، نفرت ہے۔