تعلیم کے بغیر ملکی ترقی نا ممکن

30 مارچ 2018

تعلیم کسی بھی ملک و قوم کا زیور ہوتی ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم ہی کی بدولت کامیابی حاصل کی۔ انڈیا ، بنگلہ دیش، سری لنکا میں بھی شرح تعلیم پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔ بدقسمی سے پاکستان ایسا ملک ہے جہاں تعلیم کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی،پاکستان کی شرع خواندگی انتہائی کم ہے، جس کے باعث ہم بہت پیچھے ہیں۔اس دہائی میں تعلیم کو اس طرح نظر انداز کیا گیاجس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔تعلیم سے محروم افراد آ سانی سے ملک دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ 5سال سے 16سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم دے لیکن حکومت اس میں ناکام رہی ہے۔حکومتی اقدامات اب تک زبانی کلامی وعدہ سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔گورنمنٹ اسکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جو ہیں ان میں بھی مناسب سہولتیں میسر نہیں۔پاکستان میں تقریباً50% اسکول ایسے ہیں جن میں پینے کا پانی ، واش روم کو سہولت ، حتی کہ چار دیواری بھی میسر نہیں ہے ،سرکاری اساتذہ اسکول نہیں جاتے اور ان کااحتساب بھی نہیں ہوتا۔ یہ حالت کسی ایک صوبے کی نہیں تمام صوبوں کی ہے۔الیکشن کے دوران تمام سیاسی پارٹیاںووٹ لینے کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن جب حکومت میں آتی ہیں تو اپنا وعدہ وفا نہیں کر تیں۔سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی جاتی صرف دعوے ہی کیے جاتے ہیں ۔ بد عنوانی ایک ایسی بیمار ی ہے جو ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ تعلیم میں بھی بد عنوانی کرپشن ایک وجہ ہے جوپیسا ملتا ہے اس کا بڑا حصہ بد عنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔اربوں روپے کا اعلان ہوتا ہے مگر اس میں سے تعلیم پر بہت کم خرچ ہوتے ہیں۔ہمار ا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اس میں اگربد عنوانی ہو گی تو ملکی ترقی کیسے ممکن ہے وہ بھی تعلیم کے میدان میں؟ اسے ہم اپنی بہت بڑی بدقسمتی کہہ سکتے ہیں۔میری نظر میں پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ تعلیمی انقلاب کے باعث ہی ممکن ہے۔ایک تعلیم یافتہ طبقہ ہی بدعنوانی سے پاک معاشرے کو پروان چڑھا سکتا ہے۔ ملکی ترقی کے لےے وفاقی اور صوبائی حکومتوںدونوں کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کو ترجیح دیں ، جو پیسہ تعلیم کے لیے مختص کیا جائے وہ پورا تعلیم پر ہی خرچ ہواس میں بد عنوانی نہ ہو۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اپنے بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ تعلیم کو دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام پیسہ ایماندار ی سے تعلیم پرہی خرچ ہو ۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی ماہرِ تعلیم کو ملکی سربراہ بنایا گیا ہو۔اگر پاکستان کو ہم کامیابی کی بلندی پر لے جانا چاہتے ہیں تو دوسرے ملکوں کی طرح ہمیں اپنے تعلیمی میدان میں بھی صرف اور صرف اہلیت کو ہی معیار بنانا ہو گا۔(رافعہ عبدالجبار، کراچی)