تعلیم نسواں

30 مارچ 2018

دولت علم سے بہرہ مند ہونا ہر مرد و زن کے لئے لازمی امر ہے۔ ترقی صرف اس قوم کی میراث ہے جس کے افراد زور علم سے آراستہ و پیراستہ ہو۔ علم کے بغیر انسان خدا کو بھی پہنچاننے سے قاصر ہے۔ کسی بھی عمل کے لئے علم ضروری ہے کیوں کہ جب علم نہ ہوگا تو اس پر عمل کیسے ہو سکے گا۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی حصول علم لازمی ہے۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کے حصول علم کی تاکید کی ہے خواہ اس کے لئے دور دراز کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ علم ایک ایسا بہتا دریا ہے جس سے جو جتنا چاہے سیراب ہو سکتا ہے لیکن شرط محنت اور لگن ہے۔ زندگی کے اقدار میں نکھار اور وقار علم سے ہی آ سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت و مرد دونوں کی اہمیت یکساں ہے۔ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھنے کے لئے عورتوں کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کے لئے گویا عورت اور مرد ایک گاڑی کے دوہ پہیے ہیں جن میں سے ایک کی بھی علم سے لاتعلقی کائنات کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ خواتین کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ بچوں کی پرورش‘ ان کی نگہداشت اور صحیح تربیت ہوتی ہے ۔ بچے کی ابتدائی درسگاہ دراصل ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہو تو اولاد بھی صاحب علم اور مہذب ہوگی۔ بچے اپنی ماںسے طور طریقے اور آداب و اطوار حاصل کرتے ہیں۔ ایک ماں ہی اپنی اولاد کے خیالات اور کردار کو سنوارنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جب ماں کی بنیادیں مستحکم ہوں گی تو بچے بھی معاشرے کے اہم فرد کی حیثیت سے ابھر سکتے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ
”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کو مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے‘ تہذیب و ثقافت سے بہرہ ور کرنے میں اس قوم کی خواتین کا اہم بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اٹھان اور نشوونما میں ان کی ماﺅں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا اولین مدرسہ ہے۔ اس لئے شروع ہی سے اسلام نے جس طرح مردوں کے لئے تعلیم کی تمام تر راہیں ہموار کی ہے ان کوہ ہر قسم کے مفید علم کے حصول کی نہ صرف آزادی دی ہے بلکہ اس پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں ابتداءسے لے کر آج تک ایک سے بڑھ کر ایک ماہر علم و فن اور تاجور فکر و تحقیق پیدا ہوتے رہے اور زمانہ ان کے علوم سے بے مستفیض ہوتا رہا بالکل اسی طرح اس دین نے خواتین کو بھی تمدنی ‘ معاشرتی کی حقوق بہ تمام و کمال عطا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی حقوق بھی اس کی صنف کا لحاظ کرتے ہوئے مکمل طور پر پر دیے ہیں۔ چنانچہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ اسلام میں ایسی باکمال خواتین بھی جنم لیتی رہی جنہوں نے اطاعت گزار بیٹی‘ وفا شعار بیوی اور سراپا شفقت بہن کا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے علم و فضل کا ڈنکا بجایا اور ان کے دم سے تحقیق و تدقیق کے لاتعداد خرمن آباد ہوئے۔ اسلام نے تعلیم کو مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں طور پر فرض قرار دیا ہے۔ حدیث ہے۔
” علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے“
آبادی کا تقریباً نصف عموماً خواتین پر مشتمل ہے جن کی متوازن شرکت کے بغیر مطلوبہ ترقی نہیں ہو سکتی جو کہ صرف تعلیم نسواں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ماں کے قدموں ب تلے جنت کا ہونا بھی اس باعث ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہ نسبت باپ زیادہ کی اہمیت ہے۔ عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اولاد کے ہمہ پہلو تکمیل کر سکتی ہے۔ ماں کے کردار کے علاوہ خواتین ڈاکٹر یا نرس ‘ ماہر امور خانہ داری‘ ذمہ دار پولیس آفیسر اور احساس وکیل کے طور پر معاشر ے کی ترقی میں موثر کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ( افشاں پرویز عالم ،کراچی )