مشرف کیس: فرد واحد کے اقدام کو فوج کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے: جنرل( ر) چشتی

30 جون 2013

 راولپنڈی (سلطان سکندر) سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض علی چشتی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے نفاذ پرویز مشرف کے بحیثیت صدر اقدام پر فوج کی طرف انگلی نہ اٹھائی جائے۔ 12 اکتوبر کو پرویز مشرف مارشل لاءلگا دیتے تو انہیں انڈیمنٹی مل جاتی اور کوئی انہیں لٹکانے کی بات نہ کر سکتا۔ہفتہ کے روز یہاں اپنے دفتر میں نوائے وقت کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کے مارشل لاءکا فیصلہ ہائی کمانڈ نے کیا تھا لیکن ہم نے مارشل لاءلگایا تو قوم خوش ہوئی اس لئے بات ختم ہو گئی‘ پیپلز پارٹی کی تین حکومتوں نے میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔خدارا فرد واحد کے کسی اقدام کو فوج کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔انہوں نے دور دیکر کہا کہ 3 نومبر کے اقدام پر کمیٹی بنائے جائے۔ اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔سابق کور کمانڈر فیض علی چشتی نے انٹرویو کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ خدا کا خوف کریں‘ ٹی وی اینکرز فوج کے خلاف بات نہ کریں۔ پرویز مشرف نے صدر کی حیثیت سے ایمرجنسی نافذ کی تھی تو فوج کو درمیان میں کیوں لاتے ہو؟