مصر : حکومت مخالف مظاہرے جاری‘ امریکہ نے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

30 جون 2013

قائرہ (بی بی سی + اے ایف پی+ ایف ایف آئی) مصر میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے ایک سال کے خاتمے پر مظاہرے جاری ہیں۔ صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو مصر کا غیر ضروری سفر کرنے سے منع کیا ہے جبکہ قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ادھر 2کروڑ 20لاکھ مصریوں نے ایک، سٹیشن پر دستخط کئے ہیں جس میں صدر مرسی سے اقتدار چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔مصر کے صدر مرسی کے استعفٰی کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں میں تیزی آئی ہے اور ان کے مخالفین نے اتوار کو صدر مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بڑے مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ صدر کے حامیوں نے ان کے استعفٰی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کا مرکزی ہوائی اڈہ پر مسافروں کی بھیڑ ہے اور یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک جانے والے تمام پرازویں پر بہت رش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی مصر سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اخراج نہیں دیکھا گیا۔ مصر میں برسر اقتدار جماعت اخوان المسلمین کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی روک تھام کےلئے حکام نے پولیس کے علاوہ کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی کے شہر کی مرکزی مسجد کے باہر جمع ہیں۔ اس سے قبل اپنی صدارت کے ایک سال کے موقع پر صدر مرسی نے کہا تھا کہ ملک میں جاری بے اطمینانی کے اظہار سے، مصر کے مفلوج ہونے کا خطرہ‘ہے۔ مرسی 30جون 2012ءکو انتخاب میں کامیابی کے بعد مصر کے پہلے اسلامی صدر بنے تھے۔ ان کی صدارت کا ایک سال سیاسی بے اطمینان اور معیشت میں گراوٹ کی زد میں رہا۔ ادھر اوباما مصری صدر اور اپوزیشن پر زور دیا ہے وہ لڑنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعہ اختلاف ختم کریں۔مرسی کی حامی بھی سڑکوں پرآگئے۔