بھارتی ٹیم میں برہمن کھلاڑیوں کی اجارہ داری ختم

30 جون 2013

کراچی (خصوصی رپورٹ) ذات پات کا فرق ہندو مذہب میں زمانہ قدیم سے نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ بھارت میں نسلی بنیادوں پر ہی ریاستی حقوق تقسیم کئے جاتے ہیں۔ نچلے درجے کی ذات کے لوگوں کو ہمیشہ دبایا جاتا رہا ہے جبکہ برہمن ہندو¶ں کو ریاستی اختیارات اور آسائشوں سے نوازا جاتا ہے۔ برہمن نسل کی تعداد دیگر ذاتوں سے کم ہے۔ امت کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم میں قیادت صرف برہمن نسل کے کھلاڑیوں ہی کو سونپی جاتی رہی ہے۔سابق کپتان کپل دیو، سچن ٹنڈولکر، سارو گنگولی اور راہول ڈریوڈ کا تعلق برہمن نسل سے ہے۔ مسلمان کھلاڑی اظہرالدین کو ایک مرتبہ قیادت سونپی گئی مگر ان کو میچ فکسنگ کے الزامات میں پھنسا کر ٹیم سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اب بھارتی ٹیم میں برہمن نسل کے کھلاڑیوں کی اجارہ داری ختم ہو گئی ہے۔ اب بھارتی ٹیم میں راجپوت کھلاڑی حکمرانی کر رہے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کا تعلق بھی راجپوت گھرانے سے ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...